قصہ ۱۹۵۶ء کے دستور کا

جماعت اسلامی اور اس کی سرکردگی میں بعض دیگر سیاسی تنظیموں نے خالص اسلامی نظام کے مطالبہ سے کنی کتراتے ہوئے ۱۹۵۶ء کے دستور کو صحیفۂ آسمانی قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے اور اس دستور کی غیر اسلامی پوزیشن پر جمعیۃ علماء اسلام کے رہنماؤں کی ٹھوس اور بجا تنقید پر بوکھلا کر اب ان لوگوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے جمعیۃ علماء اسلام کو بھی ماضی میں اس دستور کی حمایت کے جرم میں ملوث دکھانے کی مذموم حرکتیں شروع کر دی ہیں۔ حالانکہ جمعیۃ علماء اسلام اور اس کے حق پرست اکابر شروع سے ہی اس دستور کو غیر اسلامی سمجھتے اور قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور ان کا جو آج موقف ہے وہی ۱۹۵۸ء کے مارشل لاء سے قبل تھا۔

چنانچہ جمعیۃ کے آرگن سہ روزہ ترجمان اسلام کے مارشل لاء ۱۹۵۸ء سے قبل کے چند پرچوں سے بعض اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام نہ صرف یہ کہ ۱۹۵۶ء کے دستور کو غیر اسلامی سمجھتی تھی بلکہ جمعیۃ کی جدوجہد کا محور ہی اس دستور کو تبدیل کر کے خالص شرعی آئین نافذ کرنا تھا۔ حتیٰ کہ قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوری نور اللہ مرقدہ کے ارشاد کی روشنی میں جمعیۃ کا وجود اس غیر اسلامی دستور کو ختم کر کے اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے قائم ہوا تھا۔ اور انہوں نے اگست ۱۹۵۸ء کے آخری عشرہ میں ملتان میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی زیر صدارت جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان فرما دیا تھا کہ

’’اگر برسر اقتدار لوگ صحیح اسلامی نظام رائج کر دیں تو جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیم ختم کر دی جائے گی۔‘‘

نیز فرمایا تھا:

’’علماء کرام اقتدار کے بھوکے نہیں، وہ ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ سہ روزہ ترجمان اسلام ص ۱ ۔ ۳۰ اگست ۱۹۵۸ء)

جمعیۃ علماء اسلام کے میدان عمل میں آنے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد یکم دسمبر ۱۹۵۷ء کو جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے مرکزی اجلاس نے حضرت مولانا سید گل بادشاہ صاحب کی زیر صدارت یہ قرارداد منظور کی تھی:

’’جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کا یہ مرکزی اجلاس پاکستان کے دستور کو الفاظ کی بھول بھلیوں میں اصل مقاصد سے فرار کے مترادف اور اسلامی نقطۂ نظر سے قطعاً ناکافی ہی نہیں بلکہ مضر سمجھتا ہے۔ اس میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کا تسلیم کر کے آخری فیصلہ اسمبلی کی اکثریت کے حوالہ کیا گیا ہے۔ اس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا لیکن اس دستور میں جن دفعات کو قطعی شکل دی گئی ہے وہ خود قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ مثلاً صدر جمہوریہ کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کے باوجود اس میں مرزائی کا صدر بن سکنا اور مرزائی، عیسائی اور ہندوؤں تک کے لیے وزارت عظمیٰ اور محکمہ قضاء کے ہر عہدہ پر فائز ہونے کا جواز، ارتداد اور کفر کی تبلیغ کی اجازت وغیرہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ دستور مرتب کرنے والوں کی نگاہ کے سامنے قرآن و سنت کا وہ مفہوم نہیں ہے جو چودہ سو سال سے امت مسلمہ کے ہاں مسلم رہا ہے۔ یہ اجلاس اس سلسلہ میں موجودہ ارباب اقتدار سے مایوس ہو کر عامۃ المسلمین کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ ہو کر اس دستور کو بدلنے اور صحیح اسلامی دستور بنانے اور اس کو نافذ کرنے کی خاطر جدوجہد میں شریک ہوں‘‘۔ (بحوالہ سہ روزہ ترجمان اسلام ۔ ۹ دسمبر ۱۹۵۸ء)

مرکزی جمعیۃ علماء اسلام مغربی پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ ۱۶ و ۱۷ جون ۱۹۵۸ء بمقام لاہور میں یہ فیصلہ ہوا کہ ملکی دستور پر غور کرنے، اس میں خلاف اسلام دفعات کی نشاندہی کرنے او رمتبادل تجاویز پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی ترتیب دی جائے جو جلد از جلد مردان کی ضلعی کانفرنس منعقدہ ۲۱ و ۲۲ جون ۱۹۵۸ء کے موقع پر اپنی رپورٹ مرتب کر کے پیش کرے۔ اس کمیٹی میں حضرت مولانا شمس الحق افغانی مدظلہ، شیخ حسام الدینؒ، حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ اور حضرت علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ کو شامل کیا گیا۔ اس کمیٹی نے پورے دستور کو اول سے آخر تک بالاستیعاب پڑھ کر اپنی رپورٹ مرتب کی جو حسب پروگرام مردان کانفرنس میں پیش کر دی گئی۔ یہ رپورٹ شائع ہو کر ملک مین عام ہو چکی ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ اس رپورٹ کے ابتدائیہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ

’’اراکین کمیٹی نے احقر کو حکم دیا کہ بطور دیباچہ دستور کے پس منظر اور ان تلبیسات کو وضاحت سے قلمبند کر کے پیش کر دوں جسے اس دستور میں برتا گیا ہے تاکہ یہ بات کھل کر سامنے آجائے کہ اسلام کے خوشنما لفظ اور کتاب و سنت کے جاذب ناموں کو کس طرح استعمال کر کے سادہ لوح مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔ (بحوالہ سہ روزہ ترجمان اسلام یکم اکتوبر ۱۹۵۸ء)

جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ نے جولائی ۱۹۵۸ء میں ملتان جمعیۃ کے ایک ہفت روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’پاکستان کا دستور قطعی طور پر اسلام کا دستور کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ دستور مرتب کیا ہے انہوں نے دستوری ترتیب میں اسلام کا مقدس نام استعمال کرنے کا نہایت ہی اوچھا اور نامناسب طریق اختیار کیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ دستور میں رائے عامہ کے دباؤ سے چند مجمل سی باتیں درج کر کے اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ اس دستور کو مکمل اسلامی دستور کا نام دے دیا جائے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ اسلامی دفعات کے آخر میں خاص نوٹ دے کر ہر دفعہ کو لا دینی اور غیر اہم قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ دستور میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، اس دفعہ کے آخر میں نوٹ یہ دیا گیا ہے:

’’بشرطیکہ یہ قانون دستور پاکستان کی کسی دفعہ کو متاثر نہ کرتا ہو‘‘۔

ادھر دستور میں ایسی دفعات رکھی گئی ہیں جو بالکل غیر اسلامی ہیں۔ (چنانچہ) ہر اسلامی قانون کو دستور کے مطابق رکھنے کی شرط سے اکثر اسلامی مسائل قانون کی حیثیت اختیار نہ کر سکیں گے۔

مفتی صاحب نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان موجودہ غیر اسلامی دستور میں ترامیم کرانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے وہ رائے عامہ کو ہموار کرے گی تاکہ اسمبلیوں میں ایسے نمائندے منتخب کر کے بھیجے جائیں جو غیر اسلامی دستور کو اسلامی دستور بنا سکیں‘‘۔ (بحوالہ سہ روزہ ترجمان اسلام ۔ ۱۷ جولائی ۱۹۵۸ء)

اکابر جمعیۃ علماء اسلام کے یہ اعلانات اس دور کے ہیں جب ۱۹۵۶ء کا دستور ملک میں نافذ و رائج تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اسے غیر اسلامی قرار دے کر اسے بدلنے کے لیے مہم چلا رہی ہے۔ جب یہ آئین منسوخ ہوگیا اور اس کی جگہ مارشل لاء نے لے لی اس وقت بھی اکابر جمعیۃ نے اسی رائے کا اظہار کیا جو وہ پہلے واضح کر چکے تھے۔ چنانچہ بابائے جمعیۃ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مدظلہ سہ روزہ ترجمان اسلام ۱۸ دسمبر ۱۹۵۸ء کے اداریہ میں یوں رقم طراز ہیں کہ

’’پرانی حکومت نے یا یوں کہیے چوہدری محمد علی کی حکومت نے پاکستان کا آئین تیار کیا تھا۔ کیا یہ آئین اسلامی یا قابل مبارکباد تھا؟ اس کا پورا علم صرف ان حضرات کو ہو سکتا ہے جنہوں نے حضرت مولانا مفتی محمود صاحب صدر مدرس مدرسہ قاسم العلوم ملتان اور استاذ العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی سابق وزیر معارف قلات کی ان تنقیدات کو پڑھا ہوگا جو اس دستور پر کی گئی تھیں اور جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ وساوس شیطنی کا شکار اور اسلام کے حقیقی مسائل اور اس کے تقاضوں سے تنگ آئی ہوئی مخلوق کس طرح اپنی بے دینی کو دینی عنوانات اور الفاظ کے ہیر پھیر میں چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ سنا جاتا ہے کہ مودودی صاحب اور چوہدری صاحب کی پرانی آشنائی تھی، اگر صرف اس بنا پر مودودی صاحب نے اس دستور کو قابل مبارکباد سمجھا تھا تو ہو سکتا ہے۔ مگر اس دستور کی بیسیوں خطرناک اغلاط کا صرف ایک نمونہ یہ ہے کہ اس کا اول یہ تھا کہ اقتدار اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کا ہے، اور آخر یہ تھا کہ آخری فیصلہ اسمبلی کی اکثریت کا ہے اور اسمبلی کے فیصلہ کو کسی عدالت میں چیلنج کرنے کا حق نہ تھا۔ ‘‘

الغرض ۱۹۵۶ء کا دستور جب نافذ تھا، جب منسوخ ہوا، اور آج جبکہ دوبارہ اس مردے کو بعض پارٹیاں ملک پر مسلط کرنے کے لیے کندھے پر اٹھائے دہائی دے رہی ہیں، جمعیۃ علماء اسلام کا ایک اور دوٹوک موقف رہا ہے کہ یہ دستور غیر اسلامی ہے اور اسے غیر اسلامی دفعات کی تنسیخ کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا، اور یہ موقف بالکل بجا اور درست ہے۔ جب ملک کے ہر فرقہ کے علماء جمع ہو کر ۲۲ نکاتی دستوری فارمولا قوم کو دے چکے ہیں تو جمعیۃ علماء اسلام اس اجتماعی فارمولا کو نظر انداز کر کے اور اس کے برعکس ۱۹۵۶ء کے غیر اسلامی دستور کو تسلیم کر کے علماء کے متفقہ فیصلہ سے غداری کیسے کر سکتی ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء