علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

حکومت پاکستان ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا۔

شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کو تحریک پاکستان میں فیصلہ کن عنصر کی حیثیت حاصل ہے اور ان کے ساتھ خود انہی کے قائم کردہ ملک میں یہ سلوک نہ صرف یہ کہ نا انصافی اور ستم ظریفی ہے بلکہ غور و فکر کا متقاضی بھی ہے۔ اور ان حلقوں کو جو تحریکِ آزادی و تحریک پاکستان کے حقیقی قائدین سے نئی نسل کو متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں اس المیہ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

افسر شاہی کے کرشمے

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کے بارے میں جس قدر شور مچایا جا رہا ہے اتنی مہنگائی نہیں ہے۔ جنرل موصوف کے اس ارشاد سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے ہاں افسر شاہی کو عوامی مسائل پر پردہ ڈالنے اور ہر حالت میں ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دینے کی جو بری عادت پڑ چکی ہے، مارشل لاء کے نفاذ کے بعد بھی اس میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ انتظامیہ کے افسران بدستور عوام اور حکومت کے درمیان ناقابل عبور دیوار کا روایتی کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق سے مؤدبانہ استدعا ہے کہ وہ عوامی مسائل کو افسر شاہی کی عینک سے دیکھنے کی بجائے ان کے ادراک اور حل کے لیے اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ ان کی میز پر پہونچنے والی روزمرہ رپورٹوں اور عوام کے حقیقی مسائل کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔

اخباری کاغذ کا بحران

پی پی آئی کی ایک خبر کے مطابق بنگلہ دیش سے دوہزار آٹھ سو ٹن اخباری کاغذ کراچی پہنچ گیا ہے جس سے قومی اخبارات و جرائد کو اخباری کاغذ کے سلسلے میں درپیش مسائل کو کم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

اخباری کاغذ ہماری اخباری صنعت کی ایک بنیادی ضرورت ہے جس کی درآمد اور تقسیم پر گزشتہ حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے سرکاری اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور سرکاری پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے اخبارات و جرائد کو اخباری کاغذ کی فراہمی روک کر اختلاف کی سزا دی جاتی تھی۔ اس نقطۂ نظر سے اخباری کاغذ کی درآمد و تقسیم پر سرکاری اجارہ داری کا تجربہ انتہائی تلخ ثابت ہوا ہے اس لیے صحافی حلقے بجا طور پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اخباری کاغذ کی کھلی مارکیٹ میں درآمد کی اجازت دی جائے تاکہ قومی اخبارات و جرائد اپنی ضرورت کے مطابق اخباری کاغذ کسی روک ٹوک کے بغیر منگوا سکیں اور سرکاری اجارہ داری کے جو ناخوشگوار نتائج سامنے آئے ہیں ان کی بھی تلافی ہو سکی۔

پیپلز پارٹی کی نئی مہم

پاکستان پیپلز پارٹی نے کچھ عرصہ سے ملک میں ہنگاموں اور گڑبڑ کی جو نئی مہم شروع کر رکھی ہے وہ دراصل احتساب کے نتائج سے بچنے کی درپردہ خواہش کی تکمیل کی غرض سے ہے۔ پی پی پی کی لیڈرشپ جانتی ہے کہ انہوں نے گزشتہ چھ برس میں ملک میں معاشی، انتظامی اور سیاسی طور پر جو خرابیاں پیدا کی ہیں انہی بد اعمالیوں کے سلسلہ میں وہ اس وقت محاسبہ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور محاسبہ کے اس عمل کا جو منطقی نتیجہ ہو سکتا ہے اس سے بچاؤ کی اور کوئی صورت نہیں ہے کہ ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دیا جائے۔ لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت کو باور کرلینا چاہیے کہ محاسبہ تاریخ کا ایک لازمی عمل ہے اور اس قسم کی حرکات سے تاریخ کے عمل کو روکا نہیں جا سکتا۔