چینی زبان کی آمد

گزشتہ روز مکی مسجد ملتان روڈ لاہور میں مولانا قاری محمد رمضان صاحب کے پاس بیٹھا تھا کہ چند نوجوان علماء کرام ملاقات کے لیے آئے اور بتایا کہ وہ دینی حلقوں میں چینی زبان کی تعلیم کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس حوالہ سے مشاورت کے خواہاں ہیں۔ ان فاضل نوجوانوں نے دارالعلوم اسلامیہ اور جامعہ اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ دینی حلقوں بالخصوص مدارس کے طلبہ اور اساتذہ میں چینی زبان کی تعلیم کو عام کیا جائے تاکہ آنے والے حالات میں علماء کرام اور دین کے داعی و کارکن بہتر انداز میں دینی کام کر سکیں۔

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے کہ مستقبل قریب میں ہم چینی تاجروں اور عوام کے ساتھ مختلف النوع تعلقات کے وسیع تناظر میں اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر پوری کر سکیں۔ چنانچہ چینی زبان کی تعلیم و تدریس کے لیے متعدد ادارے مختلف سطحوں پر مصروف عمل ہیں اور علماء کرام میں بھی چینی زبان سیکھنے کا ذوق پیدا ہو رہا ہے۔

دنیا کی زبانوں میں بولنے والوں کی تعداد کے حوالہ سے چینی زبان سب سے بڑی شمار کی جاتی ہے جبکہ اس کے بعد دوسری بڑی زبان اردو بتائی جاتی ہے، اور بین الاقوامی رابطوں کے موجودہ ماحول میں ان دونوں زبانوں کی اہمیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے ان فاضل علماء کی اس سوچ کو بلاضرورت قرار نہیں دیا جا سکتا جو پاکستان کے دینی حلقوں میں چینی زبان کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اور اس کے لیے محنت کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ طویل عرصہ سے مختلف زبانوں کی جولانگاہ چلا آرہا ہے اور ان میں کشمکش کے دائرے بھی ہر دور میں نمایاں رہے ہیں۔

ہمایوں بادشاہ نے ایران کے صفوی حکمرانوں کی مدد سے شیرشاہ سوری کے خاندان کو شکست دے کر مغل بادشاہت کو دوبارہ بحال کیا تو اس کی مدد کے لیے ایران سے آنے والے مددگاروں کے جلو میں ان کے افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ فارسی زبان نے بھی یہاں جگہ بنا لی تھی۔ اور طویل عرصہ تک دفتری و عدالتی اور علمی زبان کے طور پر فارسی نے یہاں حکمرانی کی ہے۔ حتیٰ کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے بعد تاج برطانیہ نے مغل حکمرانوں کے صدیوں پر محیط دورِ اقتدار کے خاتمہ پر برصغیر میں حکمرانی کی زمام ہاتھ میں لی تو یہاں ہر طرف فارسی کا دور دورہ تھا جسے دفتر و عدالت میں ختم کر کے انگریزی کو اس کی جگہ رائج کیا گیا۔ اور علم و حکومت کے دائروں میں صدیوں راج کرنے والی فارسی کو بالآخر اس محاورے سے دوچار ہونا پڑا کہ ’’پڑھیں فارسی اور بیچیں تیل‘‘ یعنی فارسی پڑھنے والوں کے لیے اس سرزمین پر تیل بیچنے کے سوا کوئی روزگار باقی نہیں رہا۔

برصغیر میں انگریزی آئی تو بدیشی، سامراجی اور مشکل زبان ہونے کی وجہ سے وہ دینی اور عوامی حلقوں میں قبولیت حاصل نہ کر سکی۔ اور تعلیم یافتہ حلقوں میں بھی صرف انگریزی کی اجارہ داری کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ہندی او ر اردو میں محاذ آرائی کا بازار گرم ہوگیا۔ اگر اردو اور ہندی باہمی کشمکش سے بچ جاتیں تو ہمارے خیال میں شاید انگریزی زبان دفتری اور عدالتی ماحول میں اجارہ داری قائم نہ کر پاتی۔ لیکن اقتدار اور قوت کے ذریعہ انگریزی نے اپنا سکہ جما لیا۔ اس دور میں عام طور پر یہ تاثر بن گیا تھا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی ہندوؤں کی زبان ہے، اس لیے مسلمانوں نے اردو کے تحفظ و فروغ کے لیے سر سید احمد خان کی قیادت میں منظم جدوجہد کی اور دوسری طرف ہندی کے رواج کے لیے بھی اسی طرح کی تحریک جاری رہی۔ اس فضا میں تقسیم ملک تقسیم ہوا تو پاکستان میں اردو کو اور ہندوستان میں ہندی کو قومی زبان درجہ دیا گیا، جبکہ دفتری زبان دونوں ملکوں میں زیادہ تر انگریزی ہی رہی۔ البتہ پاکستان میں اردو زبان کے فروغ اور اسے سرکاری و دفتری زبان کا درجہ دلانے کے لیے ارباب دانش مسلسل محنت کر رہے ہیں جسے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کی حمایت بھی حاصل ہے۔

مختلف زبانوں کی باہمی کشمکش کا یہ پس منظر مختصرًا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس دوڑ میں اب چینی زبان بھی شامل ہونے جا رہی ہے تو اسے اس کشمکش سے الگ نہیں رکھا جا سکے گا جو اس وقت پاکستان کے قومی ماحول میں اردو اور انگلش کے درمیان جاری ہے۔ اس لیے چینی زبان کے فروغ کی محنت کرنے والوں کو یہ صورتحال بہرحال سامنے رکھنا ہوگی۔ اس موضوع پر ہم نے سردست چند ابتدائی گزارشات کی ہیں جس کا مقصد اہل علم کو اس کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا ہے اور اس ضرورت کا احساس اجاگر کرنا ہے کہ اس سلسلہ میں ہر سطح پر متنوع اور وسیع مکالمہ ضروری ہوگیا ہے جس کے لیے علمی، ادبی اور فکری اداروں کو ابھی سے متحرک ہو کر سنجیدہ بحث و مباحثہ کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں مکالمہ کا موجودہ تناظر یہ ہے کہ قومی سطح پر اردو اور انگریزی میں کشمکش عروج پر ہے، اس کے ساتھ دینی حلقوں میں عربی زبان کے تحفظ اور فروغ کا وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے اور چینی زبان اس ماحول میں داخل ہونے جا رہی ہے، جبکہ علاقائی زبانوں کے تحفظ اور بقا کا سوال بھی ملک کے ہر علاقے میں پوری سنجیدگی کے ساتھ موجود ہے۔

ہم آنے والے حالات اور تغیرات پر نظر رکھتے ہوئے چینی زبان کے ضرورت کے مطابق فروغ کے حق میں ہیں اور تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی حوالوں سے دینی حلقوں کی اس طرف توجہ کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات اس کے ساتھ پیش نظر ہے کہ چینی زبان کی اہمیت صرف تجارت کے ماحول تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دنیا کی ہر زبان کی طرح اس زبان کے ساتھ بھی اس کے تہذیبی اثرات اور ثقافتی لوازمات اس کے جلو میں کار فرما ہوں گے۔ چنانچہ ان سب کے درمیان توازن قائم کرنا ایک ناگزیر قومی تقاضے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کی نشاندہی اور حد بندی میں دینی حلقوں کا بھی بہت اہم کردار بنتا ہے، اور دینی حلقوں کی علمی و فکری قیادت کو اس ذمہ داری کا بروقت احساس کر لینا چاہیے۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۳ اگست ۲۰۱۷ء