قادیانیوں کی تازہ مہم اور حکومت کی ذمہ داری / گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اگست ۱۹۸۸ء

آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس میں مولانا محمد اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کے ڈرامہ کے ساتھ ہی ملک بھر میں مرزا طاہر احمد کے اس کتابچہ کی وسیع پیمانے پر تقسیم و اشاعت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں قادیانی جماعت کے سربراہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ’’مباہلہ‘‘ کا چیلنج دے کر بظاہر اپنی پاک دامنی اور سچائی کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے۔

مباہلہ کا یہ چیلنج لندن سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے مدیر ترجمان اسلام لاہور کو بھی موصول ہوا ہے، اس کا مفصل جواب آئندہ شمارہ میں دیا جا رہا ہے جس میں مباہلہ کے موجودہ چیلنج کے پس منظر اور اس سے قبل متعدد مباہلوں سے مرزا طاہر احمد اور ان کے پیش رو قادیانی سربراہوں کے فرار پر بھی روشنی ڈالی جائے گی، ان شاء اللہ العزیز۔ سرِ دست اس سلسلہ میں ہم اتنی بات عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ مولانا اسلم قریشی کا ڈرامہ اور مرزا طاہر احمد کی یہ مہم ایک ہی سازش کی مختلف کڑیاں نظر آرہی ہیں جس کا مقصد پاکستان میں مرزا طاہر احمد کی واپسی اور ۱۹۸۹ء میں قادیانی جماعت کے صد سالہ جشن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ لیکن جس طرح قادیانی جماعت کے ڈرامے اس سے قبل ناکامی کا شکار ہوئے ہیں اس سازش میں کامیابی کی توقع بھی مرزا طاہر احمد کو نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ پاکستان کے مسلمان بیدار ہیں اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و عزت کی حفاظت کے تقاضوں اور اس سلسلہ میں اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہیں۔

تاہم حکومتِ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قادیانیوں کی اس نئی اور اشتعال انگیز مہم کا نوٹس لے اور قادیانیوں کو ایسے حالات پیدا کرنے سے باز رکھے جن کے نتائج خود قادیانیوں کے حق میں بھی پہلے سے زیادہ پریشان کن ہو سکتے ہیں۔

گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

ہم اس سے قبل ان کالموں میں گلگت اور دیگر شمالی علاقہ جات کو نیا صوبہ بنانے کا منصوبہ پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور ہمارے نقطۂ نظر سے پاکستان، چین، بھارت، روس اور افغانستان کی سرحدوں کے درمیان اس نازک اور حساس خطہ کو الگ صوبہ کی حیثیت دینا کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کے علاوہ ایک مخصوص مذہبی فرقہ کی اس صوبہ میں بالادستی قائم ہونے سے ملک بھر میں فرقہ وارانہ تعلقات کا موجودہ توازن بگڑ سکتا ہے۔

اس پس منظر میں شمالی علاقہ جات کی کونسل کے حوالہ سے شائع ہونے والی یہ خبر ملک کے دینی و عوامی حلقوں کے لیے بے حد اضطراب انگیز ہے کہ شمالی علاقہ جات کو الگ صوبہ بنانے کا فیصلہ اصولاً ہو چکا ہے اور دو تین ماہ میں اس کی عملی صورت سامنے آنے والی ہے۔ اگر یہ فیصلہ واقعتاً ہو چکا ہے تو ہم اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہیں اور ملک کے دینی و سیاسی حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں مشترکہ موقف اختیار کر کے ملک کے خلاف ہونے والی اس خطرناک سازش کا راستہ روکیں۔