جناب ایس ایم ظفر کی قانونی موشگافی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ اگست ۲۰۱۲ء

ایس ایم ظفر ملک کے نامور قانون دان ہیں، وفاقی وزیر قانون رہے ہیں، ممتاز ماہرین دستور و قانون میں ان کا شمار ہوتا ہے اور دستوری و قانونی معاملات میں ان کی رائے کو وقعت اور اہمیت دی جاتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد میں ان کے ساتھ میری رفاقت رہی ہے اور آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی دستوری کمیٹی اور منشور میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ سنجیدہ اور باوقار شخصیت ہیں اور جچی تلی بات کرنے کے عادی ہیں مگر گزشتہ روز ایک دوست نے ان کے ایک حالیہ بیان کی طرف توجہ دلائی تو تعجب سا ہوا۔ اس بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ چونکہ پاکستانی قوم مقروض ہے اس لیے پاکستانی مسلمانوں پر حج فرض نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لیے عمرہ کی ادائیگی ضروری یا جائز ہے۔ معلوم نہیں انہوں نے پوری بات کس طرح کی ہے لیکن جو بات بالواسطہ طور پر بعض اخباری کالموں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ پوری پاکستانی قوم کے مجموعی طور پر مقروض ہونے کی وجہ سے پاکستانی مسلمانوں سے حج اور عمرہ دونوں ساقط ہوگئے ہیں۔

اصل قصہ یہ ہے کہ یہ بات انسانی نفسیات کا حصہ ہے کہ ایک شخص جس شعبہ سے تعلق رکھتا ہے اور جس کام میں اس کی توجہ اور دلچسپی زیادہ ہے وہ دوسرے شعبوں کے معاملات کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ کسی تاجر سے اس کی بیماری کے دوران اس کا حال دریافت کریں تو اس کا جواب اس لہجے میں ہوگا کہ بیس پیسے افاقہ ہے یا اسی پیسے فرق ہے۔ چونکہ اس کے شب و روز روپے پیسے کے حساب کتاب میں گزرتے ہیں اس لیے وہ بیماری کو بھی پیسوں کے حساب میں چیک کرتا ہے۔ کسی انجینئر سے کسی مسئلہ پر گفتگو کریں تو اس کی زبان سے انچ، فٹ، سینٹی میٹر، میٹر وغیرہ کے الفاظ کسی نہ کسی طرح ضرور پھسل جائیں گے۔ شاید اسی وجہ سے بادہ و ساغر کی دنیا سے تعلق رکھنے والے حضرات کی ترجمانی ایک شاعر نے ان الفاظ میں کی ہے کہ:

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

ایس ایم ظفر صاحب چونکہ دستور و قانون کی تشریحات کی دنیا کے آدمی ہیں اور نکتہ رسی ان کے مزاج کا حصہ بن چکی ہے اس لیے انہوں نے بظاہر ایک خوب نکتہ نکالا ہے کہ چونکہ پوری پاکستانی قوم مجموعی طور پر مقروض ہے اس لیے پاکستانی مسلمانوں پر حج اور عمرہ دونوں ساقط ہو چکے ہیں۔ لیکن ظفر صاحب محترم سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے کہ معروضی حالات اور زمینی حقائق کی دنیا اس سے مختلف ہوتی ہے اور اس بات کو بھی وہ بخوبی جانتے ہیں کہ قومی اور اجتماعی معاملات میں تعطل اور خلا نہیں ہوا کرتا۔ اور اگر کسی وجہ سے قانونی و دستوری معاملات میں ’’ڈیڈ لاک‘‘ کی صورتحال نظر آنے لگے تو اس کو پر کرنا اور تسلسل کو جاری رکھنا ارباب حل و عقد کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

برصغیر میں ۱۸۵۷ء کے بعد جب برطانوی راج قائم ہوا اور مسلم حکومت ختم ہوگئی تو یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ اس خطہ میں غالب اکثریت حنفیوں کی ہے اور احناف کے نزدیک جمعہ کے خطبہ و امامت کے لیے شرط ہے کہ جمعہ کا خطبہ و نماز حاکم وقت یا اس کا مقرر کردہ نائب پڑھائے۔ اور چونکہ نئی صورتحال میں سلطان یا اس کے نائب کی شرط پوری نہیں ہوتی اس لیے احناف کے نزدیک پورے جنوبی ایشیا میں کہیں بھی جمعہ کی نماز اور خطبہ جائز نہیں ہے۔ اس سے ایک اہم دینی فریضہ میں ’’ڈیڈلاک‘‘ پیدا ہو رہا تھا اور ایک خوفناک خلا سامنے آرہا تھا اس لیے فقہائے وقت نے اس کا راستہ نکالا اور مسجد کے نمازیوں کی اجتماعی رضا کو سلطان یا اس کے نائب کا قائم مقام قرار دے کر جمعہ کی فرضیت اور اس کے انعقاد کے تسلسل کو برقرار رکھا۔

یہ صرف فقہ اسلامی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں قانونی طور پر مسلّمہ اصول ہے کہ سوسائٹی اور قانون کے معاملات میں خلا اور ڈیڈلاک نہیں ہوا کرتا اور اس کا کوئی متبادل بہرحال ضروری ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگر بالفرض پوری قوم کو مجموعی طور پر مقروض مان لینے اور اس کی وجہ سے حج اور عمرہ ساقط ہونے کے مفروضہ کو کسی درجہ میں تسلیم بھی کر لیا جائے تو وقت کے فقہاء اور مفتیان کرام نے حج اور عمرہ کے بارے میں اس کے بعد جو اجتماعی موقف اختیار کیا ہے وہی ان کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے کافی ہے اور حج اور عمرہ کے فرض یا سنت ہونے میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔

ویسے یہ مفروضہ بجائے خود محل نظر ہے، اس لیے کہ جس قرض کو قوم کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے وہ اوّل تو قوم کو وصول ہی نہیں ہوا بلکہ قوم کے کسی کام آنے کی بجائے راستے میں ہی اسے غصب کر لیا گیا ہے۔ اور دوم اس لیے کہ وہ رقم فنا نہیں ہوئی بلکہ غاصب طبقات اور افراد کی تجوریوں میں اور ان کے اثاثوں کی صورت میں ابھی تک موجود ہے، کیونکہ ماہرین بار بار کہہ رہے ہیں کہ سوئس بینکوں میں پاکستانی قوم کی جو رقوم غاصبوں اور لٹیروں کے اکاؤنٹس کی صورت میں موجود ہیں وہ نہ صرف پاکستانی قوم کا قرضہ ادا کرنے کے لیے کافی ہیں بلکہ قومی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ یہی صورتحال ان غاصبوں کے دیگر اثاثوں کی ہے۔

تاتاریوں نے جب بغداد کو تباہ کر کے مصر و شام کا رخ کیا تو شام کے حکمران نے ان کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا اور شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلامؒ سے دریافت کیا کہ وہ اگر ساتھ دیں تو جہاد کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ قوم پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے جواب دیا کہ حکمران طبقات کے پاس جو دولت اور اثاثے ہیں اور ان کی بیگمات نے جو قیمتی زیور پہن رکھے ہیں وہ قوم ہی کی دولت ہیں، ان اثاثوں اور زیورات کو ان سے واپس لے کر بیچ دو، اس کے بعد اگر ضرورت باقی رہ گئی تو قوم پر جہاد کے اخراجات کے لیے نئے ٹیکس لگانے کی میں حمایت کر دوں گا۔

ایس ایم ظفر صاحب سے گزارش ہے کہ وہ سوئس بینکوں میں پڑی ہوئی رقوم اور غاصب و ظالم حکمرانوں کے اثاثوں کا بوجھ غریب قوم پر ڈالنے کی بجائے ان رقوم کی واپسی اور فوری قرضے کی ادائیگی کی مہم چلائیں، ہم فقیر بھی اس میں ان کے ساتھ ہوں گے لیکن اس بہانے پاکستانی مسلمانوں کو حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت سے محروم کرنے کی بات نہ کریں کہ اس سے بڑی محرومی کسی مسلمان کے لیے نہیں ہو سکتی۔