ریڈ کراس کی بجائے ہلال احمر

صدارتی کابینہ نے ایک اجلاس میں ریڈ کراس سوسائٹی کا نام تبدیل کر کے انجمن ہلال احمر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی حلقوں میں اس مناسب فیصلہ کو سراہا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کی طرف سے قیام پاکستان کے بعد ہی سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں فرنگی ا قتدار و تسلط کے دور کی تمام یادگاروں اور نشانات کو مٹا دیا جائے اور اسلامی قانون و سیاست، اخلاق و معاشرت، اقتصاد و معیشت، تہذیب و تمدن اور روایات و اقدار کو فروغ دیا جائے۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کا مطمح نظر بھی یہی تھا اور قیام پاکستان کا بنیادی محرک بھی یہی سوال بنا۔ مگر ہمارے ارباب سیاست نے، جنہوں نے فرنگیت کے سوا اور کچھ سیکھا ہی نہیں، ربع صدی سے ملک و قوم کو فرنگی نظام سے چھٹکارا دلانے کی بجائے قوم کی اجتماعی و انفرادی زندگی پر فرنگیت کی چھاپ کو اور زیادہ گہرا کرنے کی سعیٔ مذموم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے بنیادی محرکات سے نئی نسل کسی طور آگاہ نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی پود نہ صرف آزادی اور پاکستان کے محرکات بلکہ ملی تشخص کے حقیقی شعور تک سے مجموعی طور پر نا آشنا ہے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ نئی نسل کو شعوری طور پر اس قابل بنایا جاتا کہ وہ آزادی کی جنگ لڑنے والے عظیم مجاہدین کے ساتھ وفا کرتے ہوئے اسلامی تہذیب و اقدار کی پاسداری کرتی۔ فرنگی نشانات اور یادگاروں کے ضمن میں ہی ریڈ کراس کی بات بھی آتی ہے، شکر ہے کہ حکومت پاکستان نے ضمنی طور پر ہی سہی ایک صحیح بات کو تسلیم کرتے ہوئے ریڈ کراس کا نام تبدیل کر کے ہلال احمر سوسائٹی رکھ دیا ہے۔ اللہ کرے پاکستان کو فرنگی نظام اور اس کی تمام علامات سے کلی نجات حاصل ہو، آمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء