اشتراکیت نہیں، اسلام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جون ۱۹۷۳ء

پنجاب کے وزیر خزانہ جناب محمد حنیف رامے نے صوبائی اسمبلی میں سمال انڈسٹریز کارپوریشن بل پر بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان کے حالات کا اولین تقاضا ہے کہ ہم سودی نظام سے نجات حاصل کریں۔ اور حکومت سود سے پاک اقتصادی نظام رائج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر موجودہ سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام میں سود سے چھٹکارا ممکن نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ معاشی نظام سے گلوخلاصی کرا کے اشتراکی نظام رائج کیا جائے۔ حنیف رامے صاحب نے اس سلسلہ میں کارل مارکس فریڈرک، اینگلز اور لینن کے حوالہ سے اشتراکیت کا ذکر کرتے ہوئے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا سب سے پہلا سوشلسٹ قرار دیا۔

جہاں تک رامے صاحب کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ پاکستان کے حالات کا اولین تقاضا سودی نظام سے نجات حاصل کرنا ہے، ہم اس سے سو فیصد متفق ہیں اور اس لحاظ سے ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ برسرِ اقتدار طبقہ کے ایک ذمہ دار فرد نے اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا ہے جس پر علماء حق قیام پاکستان سے اب تک مسلسل زور دیتے آئے ہیں۔ یہ اعتراف جرأت مندانہ بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ ہم رامے صاحب کے اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ موجودہ سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کی موجودگی میں سود سے گلو خلاصی مشکل ہے۔ سود کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ پورے اقتصادی ڈھانچہ کو ازسرنو انقلابی تبدیلیوں کے ساتھ مرتب کیا جائے۔

مگر معزز وزیرخزانہ کے اس فرمان سے اتفاق مشکل ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظام کا نفاذ ناگزیر ہے۔ اور نہ ہم ان کی طرف سے کارل مارکس کے حوالہ سے جناب سرور کائناتؐ کو ’’سوشلسٹ‘‘ قرار دے سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک کارل مارکس اور لینن کے ساتھ آقائق نامدار علیہ السلام کا ذکر بھی ختمی مرتبتؐ کی توہین ہے چہ جائیکہ ان کے درمیان فکری مناسبت کی قدریں تلاش کی جائیں، العیاذ باللہ۔ اشتراکی نظام عالم انسانیت کے مسائل کا حل نہیں اور رامے صاحب کا یہ کہنا غلط ہے کہ اشتراکی نظام میں ’’محنت‘‘ کو بنیادی درجہ حاصل ہے اور سرمایہ داری کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ اشتراکیت تو سرمایہ داری کی ایسی گھناؤنی شکل ہے جس میں محنت، سرمایہ کے دباؤ سے آزادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ انفرادی طور پر محنت کا استحصال کرتا ہے مگر اشتراکیت میں وہی سرمایہ اجتماعیت اور حکومت کے ڈنڈے سے مسلح ہو کر محنت پر مسلط ہو جاتا ہے۔ اور پھر محنت کار کا جو حشر ہوتا ہے اس کا سوشلسٹ ممالک خصوصاً روس کی رجعت قہقہری سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ محنت کار کی جو سرمایہ دارانہ نظام میں حیثیت ہے وہی اشتراکی نظام میں ہے، بلکہ اس سے بھی بدتر۔ کیونکہ اشتراکی نظام میں حکومت سرمایہ دار کا فرض انجام دیتی ہے اور اس کے ہاتھ میں لاء اینڈ آرڈر کا ڈنڈا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اس نظام میں تو محنت کار کے لیے آزادی کے ساتھ سانس لینے کی بھی گنجائش نہیں رہتی۔

ہمارے نزدیک سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور محنت کار کی محنت کا دونوں ہی استحصال کرتے ہیں۔ ایک انفرادی شکل میں اور دوسرا اجتماعی طور پر۔ استحصال کے خاتمہ اور محنت و سرمایہ کے درمیان توازن کی ضمانت دنیا میں صرف ایک نظام دیتا ہے اور وہ ہے ’’اسلام‘‘۔ حضرت محمد عربیؐ، صدیق اکبرؓ، فاروق اعظمؓ، عثمان غنیؓ، حیدر کرارؓ، صحابہ کرامؓ، عمر بن عبد العزیزؒ اور سلف صالحینؒ کا اسلام۔ جس اسلام نے دنیا میں حقوق کی مساوات کی مثال قائم کی اور جس کے عملی نفاذ کا دور دنیائے انسانیت کی تاریخ کا حاصل ہے۔ اسلام نے سرمایہ اور محنت کے حقوق متعین کر کے ان کے درمیان ایسا توازن قائم کیا ہے جس سے دونوں کے مابین نزاع کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا ہے۔

اسلام سرمایہ دار اور محنت کار کے درمیان نفرت پیدا کر کے اور انہیں آپس میں لڑا کر طبقاتی تقسیم کے بہانے ایک گروہ کو ہمیشہ کے لیے دوسرے پر مسلط کرنے کا روادار نہیں۔ بلکہ وہ باہمی الفت و محبت، صلح و آشتی اور ادائیگیٔ حقوق کے ماحول میں اجتماعی زندگی کی گاڑی چلانے کی عملی مثال پیش کرتا ہے۔ اس کے نزدیک نہ ’’سرمایہ‘‘ شرافت و عزت اور عظمت کی دلیل ہے اور نہ ’’محنت‘‘۔ بلکہ وہ کردار کو عظمت کی دلیل قرار دیتا ہے۔ انسانی اخلاق و کردار سے اگر َعثمان غنیؓ، عبد الرحمان بن عوفؓ اور زبیر بن عوامؓ جیسے مالدار وابستہ ہوں تو اسلام ان کی عظمت کے گن گاتا ہے۔ اور اگر بلالؓ، صہیبؓ، وحشیؓ، عمارؓ، خبیبؓ اور زیدؓ جیسے محنت کار اخلاق و کردار کی اس راہ پر گامزن ہون تو اسلام ان کی زندگی کو انسانی زندگی کی معراج قرار دیتا ہے۔ اصل بات سرمایہ یا محنت کی نہیں بلکہ انسانی بھائی چارہ، باہمی حقوق کی صدق دل سے ادائیگی، اور ظلم و بے انصافی کی راہ سے گریز ہے۔ اور اس کی ضمانت نہ سرمایہ دارانہ نظام دیتا ہے اور نہ اشتراکی نظام۔ اس کا ضامن صرف اسلام ہے۔

اس لیے ہم ارباب اقتدار سے گزارش کریں گے کہ آپ ’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ والی بات نہ کریں۔ اگر آپ صدق دل سے ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ منصفانہ اور عادلانہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں تو وہ عادلانہ نظام اشتراکیت نہیں، اسلام ہے۔ آؤ اور حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہؒ کے حکیمانہ فلسفہ کی بنیاد پر فرنگی سامراج کے ساختہ پرداختہ سرمایہ دارانہ نظام کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا، عادلانہ اور منصفانہ نظام نافذ کرنے کی بات کرو، پھر دیکھو کہ خدا کی رحمتیں اور برکتیں کس طرح پاکستان پر نازل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس راہ پر گامزن ہونے کی توفیق دیں، آمین۔

درجہ بندی: