ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے ناگزیر تقاضے

   
تاریخ بیان: 
۱۹ نومبر ۲۰۲۰ء

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ مجھے گفتگو کے لیے جو موضوع دیا گیا ہے اس کے مطابق بین الاقوامی تناظر میں محبت رسولؐ کے تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنی ہیں۔

  • اس سلسلہ میں پہلی بات تو یہ کروں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہمارے نبی نہیں ہیں بلکہ پوری نسل انسانی کے نبی ہیں اور ان کا خطاب ’’یا ایھا الناس‘‘ کے عنوان سے ہے، چنانچہ آج کے عالمی تناظر میں پوری نسل انسانی تک نبی اکرمؐ کی دعوت، پیغام اور تعارف کو پہنچانا ہماری ذمہ داری بنتی ہے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس ذمہ داری کے حوالہ سے اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔
  • دوسری بات یہ عرض کروں گا کہ جناب نبی اکرمؐ نبی اور رسول تو پوری نسل انسانی کے لیے ہیں جبکہ رحمت و برکت تمام جہانوں کے لیے ہیں اور رحمۃ للعالمین ہیں۔ تمام انسانوں اور آج کے دور میں موجود تمام جہانوں اور عالمین تک نبی اکرمؐ کی رحمت و برکت کو پہنچانے اور سب لوگوں کو اس رحمت و برکت کے دائرے میں لانے کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ بالخصوص نبی کریمؐ نے انسانی سماج کو رحمت و برکت کے جس نظام سے روشناس کرایا اس کا دائرہ سب مستحقین تک وسیع کرنا ہمارے ذمے ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ (۱) اس سلسلہ میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ (۲) ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اور (۳) ہم کیا کر رہے ہیں؟

ان دو اصولی باتوں کے بعد آج کے عالمی تناظر میں جس مسئلہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالہ سے مسلمانوں کو سامنا ہے وہ ناموس رسالت کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اس کا ایک کیس مثال کے طور پر ذکر کرنا چاہوں گا کہ ہمارا موقف کیا ہے اور کس کس سے ہمارا کیا کیا تقاضہ ہے؟

  1. سب سے پہلا تقاضہ تو عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے ہے کہ آج کی دنیا میں انسان کی تکریم اور اس کا احترام اہم ترین موضوع ہے۔ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ’’ولقد کرمنا بنی آدم‘‘ ہم نے آدم علیہ السلام کی تمام اولاد کو تکریم کا مستحق بنایا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی منشور کا آغاز بھی انسان کی بحیثیت انسان تکریم سے ہوتا ہے۔ یہ تکریم کیا ہے اور اس کا دائرہ کیا ہے؟ اس پر بخاری شریف کی ایک روایت پیش کروں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپؐ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور مسئلہ بھی آپؐ نے یہ بیان کیا کہ جنازہ گزر رہا ہو تو اس کے گزر جانے تک احترام میں کھڑے رہنا چاہئے۔ جنازہ گزر گیا تو ایک ساتھی نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ جس جنازے کے احترام میں کھڑے ہوئے ہیں وہ ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے۔ نبی کریمؐ فرمایا ’’الیست الانسان‘‘ کیا وہ انسان نہیں ہے؟

    اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان احترام کا مستحق ہے، وہ زندہ ہو یا مردہ، مرد ہو یا عورت اور مسلمان وہ یا کافر۔ یہی بات آج انسانی حقوق کا عالمی منشور کہتا ہے، مگر میرا عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ہیومن رائٹس کمیشن سے سوال ہے کہ ایک عام انسان کا احترام لازم ہے اور اس کی اہانت جرم ہے جس کے لیے دنیا کے ہر ملک میں ہتک عزت کے ازالہ اور حیثیت عرفی کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں جو کسی بھی ملک کے ایک عام شہری کے لیے تو ہیں، مگر نسل انسانی کی سب سے زیادہ برگزیدہ شخصیات حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی اہانت کو بین الاقوامی ماحول میں جرم تسلیم نہیں کیا جا رہا اور اس کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ جب انبیاء کرام علیہم السلام کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کی بات کی جاتی ہے تو انسانی حقوق اور آزادی رائے کا حوالہ دے کر اسے جرائم کی بجائے حقوق کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے، یعنی ایک عام شخص کی توہین اور ہتک عزت تو جرم ہے مگر اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر کی اہانت آزادی رائے کے عنوان سے حقوق میں شمار کی جا رہی ہے جو ظلم اور نا انصافی کی انتہا ہے۔

  2. دوسری گزارش یہ ہے کہ عام شخص کی توہین اور کسی بھی ملک کی قومی شخصیات کی توہین یکساں جرم شمار نہیں ہوتے، ہمارے ہاں پاکستان میں عام شہری کی توہین اور بانیٔ پاکستان قائد اعظم مرحوم و مغفور کی توہین قانوناً ایک جیسے جرم نہیں ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔ ہر ملک میں عام شہری کی توہین کی سطح اور ہوتی ہے جبکہ قومی شخصیات کی توہین کا جرم اس سے مختلف شمار ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین اور عام شہری کی توہین میں اتنا فرق ضروری ہے جتنا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور عام انسان کی حیثیت میں فرق ہے۔ یہ مطالبہ ہمارا اقوام متحدہ سے ہے، یورپی یونین سے ہے اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے ہے، جبکہ اس کے ساتھ ایک بات اور شامل کرنا چاہوں گا کہ ایک یورپی عدالت نے بجا طور پر اسے ڈبل جرم قرار دیا ہے کہ ایک تو مقدس شخصیات کی توہین بجائے خود جرم ہے اور دوسرا اس سے دنیا کے کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کرنا بذات خود مستقل جرم تصور ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی اداروں کو اس پر سنجیدہ توجہ دینا ہو گی اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی اہانت کو ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق جرم تسلیم کرنا ہو گا۔

    اس کے بعد عرض کروں گا کہ بین الاقوامی اداروں سے اس موقف کو تسلیم کرانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ظاہر بات ہے کہ یہ ذمہ داری مسلمان حکومتوں کی ہے، او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کی ہے، اور ان میں سے پاکستان اور سعودی عرب بطور خاص اس کے ذمہ دار ہیں کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی اداروں میں اسے کیس کے طور پر پیش کریں اور اس کے لیے لابنگ اور سفارت کاری کے تقاضے پورے کریں۔ مگر صورتحال یہ ہے کہ اکثر مسلمان حکومتیں چپ سادھے بیٹھی ہیں، صرف ترکی کے صدر طیب اردگان مسلمانوں کی ترجمانی کر رہے ہیں، مگر ان کا ساتھ بھی دو تین ملکوں کے سوا کوئی نہیں دے رہا جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ مسلمان حکمران صرف بیان دے رہے ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں جبکہ اصل ضرورت متعلقہ بین الاقوامی اداروں میں باقاعدہ کیس پیش کرنے اور اس کے لیے محنت کرنے کی ہے جس کے لیے مسلم حکمرانوں میں سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی۔ آپ حضرات خود غور فرمائیں کہ اگر میرا کوئی کیس ہائیکورٹ میں ہے تو میں اس کے لیے موچی دروازے میں تقریریں نہیں کروں گا بلکہ ہائیکورٹ میں باقاعدہ کیس لڑوں گا، ورنہ میری دھواں دھار تقریروں سے کیس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے مسلمان حکومتوں، او آئی سی اور خاص طور پر پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور بین الاقوامی حقوق انسانی کمیشن میں باقاعدہ طور پر یہ کیس لڑیں اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کو بین الاقوامی طور پر جرم تسلیم کرائیں۔

  3. جبکہ تیسرے نمبر پر میں دنیا بھر کے مسلمان عوام بالخصوص پاکستانی مسلمانوں سے گزارش کروں گا کہ اپنے ایمان و عقیدہ اور غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم فرانسیسی مصنوعات کا منظم طور پر بائیکاٹ ضرور کریں۔ یہ ہمارا محاذ ہے جو اصل میں تو حکومت کو سنبھالنا چاہئے مگر ایسا نہیں ہو رہا، اس لیے ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہئے، یہ بھی ایمانی تقاضہ اور جہاد کا ایک شعبہ ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے کرنے والے بدبختوں کی بنائی ہوئی چیزیں استعمال نہ کریں اور ان کا تجارتی بائیکاٹ کر کے انہیں پیغام دیں کہ ہم اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی پیغمبر کی توہین کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے۔