مرزا طاہر احمد کی خوش فہمی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۹ نومبر ۱۹۹۹ء

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اپنے ایک حالیہ خطاب میں دستور پاکستان کے معطل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ جلد وہ دن آئے گا کہ وہ پاکستان واپس آ کر اپنی جماعت کے لوگوں سے مل سکیں گے۔

آئین کے معطل ہونے سے مرزا طاہر احمد کی وطن واپسی کا کیا تعلق ہے؟ یہ بات نئی نسل کے بہت سے حضرات کو معلوم نہیں ہوگی اس لیے اس کا تھوڑا سا پس منظر عرض کرنا ضروری ہے۔ دستور پاکستان میں ۱۹۷۴ء کے دوران زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار دونوں گروہوں (قادیانی اور لاہوری) کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر انہیں ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کیا گیا تھا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی جس کی بنیاد پر دنیا بھر کے تمام مسلم اداروں اور مکاتب فکر نے انہیں متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا۔

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر اس حیثیت سے ان کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے جس کی وجہ سے قیام پاکستان کے بعد ملک بھر کے دینی حلقوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ دستوری طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے مسلسل عوامی تحریک جاری رہی حتیٰ کہ ۱۹۷۴ء میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے دیا جبکہ اس کے دس سال بعد ۱۹۸۴ء میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے اسی دستوری فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے قادیانیوں کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات اور اصطلاحات کے استعمال سے روک دیا۔

دوسری طرف قادیانیوں کا شروع سے یہ اصرار چلا آرہا ہے کہ نئے نبی، نئی وحی، اور نئے مذہب کے باوجود وہ مسلمان ہیں جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے دنیا بھر کے اربوں مسلمان کافر ہیں۔ اسی لیے انہوں نے دستور پاکستان کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد سے لندن میں ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں جہاں سے وہ اور ان کی جماعت اپنے بارے میں پارلیمنٹ کا مذکورہ فیصلہ اور ۱۹۸۴ء کا صدارتی آرڈیننس منسوخ کرانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، اور جرمنی کی حکومتوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے تعاون سے یہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں کہ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے دستوری اور قانونی اقدامات واپس لیے جائیں۔ بلکہ ان کی پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ دستور ہی منسوخ ہو جائے تاکہ وہ اپنے عالمی آقاؤں کی سرپرستی میں پاکستان واپس آکر عالمی استعمار کے ادھورے رہ جانے والے ایجنڈے کی تکمیل میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مرزا طاہر احمد کی پاکستان سے یہ ’’جلاوطنی‘‘ قانونی نہیں بلکہ ان کی خودساختہ اور اختیاری ہے، اس لیے کہ ملک کا کوئی قانون یا کوئی انتظامی فیصلہ ان کی وطن واپسی میں رکاوٹ نہیں ہے۔ وہ دستور اور قانون کا فیصلہ تسلیم کر کے غیر مسلم اقلیت کی حیثیت قبول کر لیں تو وہ نہ صرف پوری آزادی کے ساتھ وطن واپس آسکتے ہیں بلکہ اپنی جماعت کی قیادت بھی کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ پارلیمنٹ میں ان کی جماعت کے لیے نشست بھی موجود ہے۔ لیکن دستور اور قانون کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اور انہیں چیلنج کر کے ملک کی غالب اکثریت کے خلاف محض اپنی مرضی ملک پر مسلط کرنے کی ضد اور ہٹ دھرمی نے مرزا طاہر احمد کو اس خودساختہ جلاوطنی پر مجبور کر رکھا ہے جس میں ان کے سوا کسی ا ور کا کوئی دخل اور قصور نہیں ہے۔

اس پس منظر میں دستور پاکستان معطل ہونے کی خبر پڑھ کر مرزا طاہر احمد کو شاید خوشی ہوئی ہے کہ ممکن ہے دستور کے معطل ہونے سے قادیانیوں کے بارے میں دستوری فیصلے کے خاتمہ کی راہ بھی ہموار ہو جائے اور وہ اپنی ضد اور انا کو پورا ہوتے دیکھ کر پاکستان واپس آکر اپنی جماعت کے لوگوں سے یہ کہہ سکیں کہ میں اپنے مشن میں کامیاب ہو کر واپس لوٹا ہوں۔ مگر یہ مرزا صاحب کی محض خوش فہمی ہے۔

  • اولاً اس لیے کہ قادیانیوں کا غیر مسلم ہونا پارلیمنٹ کے فیصلے پر موقوف نہیں ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے دستوری فیصلے سے انہیں غیر مسلم سمجھا جانے لگا ہے۔ بلکہ پوری ملت اسلامیہ پہلے سے انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے جبکہ پارلیمنٹ نے تو صرف اس اجماعی فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اسے دستوری حیثیت دی ہے۔
  • ثانیاً اس لیے کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے دستور کو صرف معطل کرنے کا اعلان کیا ہے اسے منسوخ نہیں کیا۔ اس سے پہلے بھی جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں یہ دستور معطل رہ چکا ہے جس سے قادیانیوں کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا بلکہ دستور کی معطلی کے اس دور میں امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس نافذ ہوا تھا جو دستوری فیصلے سے بھی زیادہ ان کے خلاف مؤثر ثابت ہوا تھا۔
  • ثالثاً اس لیے کہ اب بات صرف ایک دستوری ترمیم کی نہیں رہی بلکہ قادیانیوں کی غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ٹھوس اور واضح فیصلے موجود ہیں جو دستور کے معطل ہونے کے باوجود بدستور موجود اور کارفرما ہیں۔ ملکی عدالتوں کے ان فیصلوں کے ہوتے ہوئے پاکستان میں قادیانیوں کا خود کو مسلمان ظاہر کرنا اور اسلام کے نام پر اپنے مذہب کا پرچار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔

اس لیے ہم مرزا طاہر احمد سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کرتے ہوئے معروضی حقائق کو تسلیم کریں اور اپنے بارے میں ملت اسلامیہ اور پاکستان کی پارلیمنٹ و اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو قبول کرتے ہوئے غیر مسلم اقلیت کے جائز مقام پر آجائیں کہ اس کے سوا اب ان کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ اگر ایک جائز اور مسلمہ بات کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان واپس آجائیں تو ان کے جائز حقوق کے تحفظ اور حمایت میں انہیں کسی باشعور اور سنجیدہ شہری سے مایوسی نہیں ہوگی۔