شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے ۱۹ دسمبر ۱۹۷۵ء کے شمارہ میں چونیاں کے جناب نور احمد صاحب کا ایک مراسلہ جمعیۃ علماء اسلام کی شرعی عدالتوں کے بارے میں شائع ہوا تھا جس کے جواب میں ایک وضاحتی مراسلہ اسی روز راقم الحروف نے نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب کے نام ارسال کیا۔ ۲۰ دسمبر کو ’’نظام شریعت کنونشن گوجرانوالہ‘‘ کے سلسلہ میں درج مقدمہ کے تحت گوجرانوالہ پولیس نے مجھے گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا۔ ۲۸ دسمبر کو جیل سے نظامی صاحب کے نام ایک خط میں اس مراسلہ کے سلسلہ میں دوبارہ یاد دہانی کرائی لیکن تادمِ تحریر خود نوائے وقت کے شائع کردہ مراسلہ کے جواب میں وضاحتی مراسلہ نوائے وقت میں اشاعت پذیر نہیں ہو سکا۔ پریس ٹرسٹ کا کوئی اخبار یہ سلوک کرتا تو گلہ کی کوئی بات نہ تھی لیکن آزادیٔ صحافت اور عصمتِ قلم کے دعوے دار نوائے وقت کا یہ رویہ یقیناً محل نظر ہے۔ بہرحال نوائے وقت سے اس شکوہ کے ساتھ مراسلہ قارئینِ ترجمان اسلام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مراسلات کے کالم میں چونیاں کے محترم نور احمد کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو حسن نیت او رخلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے دو وجوہ سے اسے ناقابل عمل اور سادہ لوحی کا شکار ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ارشاد ہے کہ

  1. کوئی حکومت وقت اپنے مقابلے میں متوازی نظام کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتی خواہ وہ نظام صحیح ہی کیوں نہ ہو۔
  2. جمعیۃ علماء اسلام کے پاس کوئی ایسی قوت نہیں کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے اور اگر کوئی فریق اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو اسے فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ یہ دونوں امور اور ان کے علاوہ کچھ دیگر رکاوٹیں بھی جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شّریٰ کے اس اجلاس میں زیر بحث آئی تھیں جس اجلاس میں شرعی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اور ان تمام امور اور ان کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے پورے غور و خوض کے بعد انتہائی سنجیدگی کے ساتھ یہ اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

جہاں تک حکومت وقت کے مقابلہ میں متوازی نظام کے قیام کا تعلق ہے، ہمارے سامنے یہ مقصد نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے شرعی عدالتوں میں ان مقدمات و تنازعات کو بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سرکار فریق نہیں ہوتی، اور دونوں فریق اپنی مرضی سے سرکاری عدالت یا ثالث یا کسی عالم دین کے سامنے اپنے قضیہ کو پیش کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہلکا پھلکا نظام حکومتِ وقت کے مقابلے میں متوازی نظام نہیں کہلا سکتا۔ اور اگر اس احتیاط کے باوجود حکومتِ وقت اس نظام کو متوازی قرار دے گی تو ہم نے اس کے نتائج سے عہدہ برآ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی سعادت کی بات نہیں ہوگی۔

دوسری بات البتہ بظاہر کسی حد تک وزنی ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام کے پاس قوتِ تنفیذ نہیں ہے۔ لیکن ہمیں تجربات کی بنیاد پر یقین ہے کہ ہم اس مشکل پر اپنی جدوجہد سے قابو پا لیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ کیونکہ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر رضاکارانہ بنیادوں پر شرعی عدالتوں کا نظام کامیابی کے ساتھ چلایا گیا ہے، مثلاً دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے بارے میں ان کے پوتے اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد طیب نے اپنی کتاب ’’مسلک علماء دیوبند‘‘ میں لکھا ہے کہ

’’اسی دارالعلوم دیوبند کے احاطے میں حضرت بانی قدس سرہ نے محکمہ قضا قائم فرما کر صدر المدرسین حضرت مولانا محمد یعقوب کو اس کا قاضی مقرر فرمایا جس سے ہزارہا الجھے ہوئے مقدمات شرعی انداز میں فیصل ہونے لگے اور اسلامی عدلیہ مسلمانوں کے قبضے میں آنے لگا جو حکومت کا ایک اساسی شعبہ ہے۔ جس سے واضح ہوا کہ دارالعلوم کا مقصد مسلمانوں کے پرسنل لاء کا تحفظ اور تعمیری رنگ میں اس کا عملی اجراء و نفاذ بھی تھا جو عمل میں لایا جانے لگا۔‘‘

پھر اس کے بعد صوبہ بہار میں جمعیۃ علماء ہند کے تحت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کی قیادت میں امارت شرعیہ کا نظام قائم کیا گیا جو عدالتوں کے ساتھ ساتھ قومی زندگی کے دیگر شعبوں کو بھی محیط تھا۔ یہ نظام ایک عرصہ سے کامیابی کے ساتھ چلتا آرہا ہے اور آج بھی قائم ہے۔

اگر آج بھی صوبہ سرحد، بلوچستان، سابق ریاست بہاولپور اور آزادکشمیر کے علاقوں کا سروے کیا جائے تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات حیرت انگیز انکشاف کی حیثیت رکھے گی کہ ان خطوں میں اب تک غیر رسمی اور غیر منظم طور پر شرعی عدالتوں کا نظام کام کر رہا ہے۔ دین دار عوام اپنے تنازعات علماء کے پاس لاتے ہیں اور ان کے فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ پنجاب اور سندھ میں بھی جہاں جید اور فقہی مہارت رکھنے والے علماء موجود ہیں، ان کے پاس تنازعات اور مقدمات فیصلوں کے لیے آتے ہیں اور پھر فریقین ان فیصلوں کو بلاتامل تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔

ہم نے صرف ملک بھر میں پھیلے ہوئے اس نظام کو منظم کرنے کا ارادہ کیا ہے جس کی بنیادیں پہلے سے معاشرہ میں موجود ہیں اور ملک کے عوام اس سے کسی حد تک متعارف ہیں۔ باقی رہی بات قوتِ تنفیذ کی تو اس کے بارے میں گزارش ہے کہ رضاکارانہ بنیادوں پر اس نوعیت کا کام کرنے والے اداروں میں ہمیشہ اخلاقی قوت ہی موثر ہوتی ہے، اس وقت بھی جہاں جہاں گاؤں کی پنچایت یا برادری کا جرگہ کسی تنازع کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے منوانے کے لیے اخلاقی قوت ہی استعمال کی جاتی ہے۔ خود ہمارے تجربہ میں آیا ہے کہ بعض دیہات میں علماء کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے پر پورے گاؤں نے اس فریق کا بائیکاٹ کر کے اور اخلاقی دباؤ استعمال کر کے اسے فیصلہ قبول کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ پنجاب کے وسط ضلع گوجرانوالہ کا قصہ ہے، سرحد اور بلوچستان میں تو اس نوعیت کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

الغرض جمعیۃ علماء اسلام کی شرعی عدالتیں اول تو صرف ان تنازعات و مقدمات کو فیصلہ کے لیے قبول کریں گی جن میں فریقین اپنی مرضی سے شرعی عدالت کو حکم یا ثالث تسلیم کریں گے۔ اور اگر اس کے باوجود کوئی فریق فیصلہ قبول کرنے سے گریز کرے گا تو اس پر اخلاقی دباؤ ڈالا جائے گا اور اس کی برادری، احباب اور اہل محلہ سے اپیل کی جائے گی کہ وہ اسے شرعی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے پر مجبور کریں، جیسا کہ اکثر پنچایتوں کے معاملات میں ہوتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اخلاقی قوت دوسرے تمام ذرائع سے زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

آخر میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تمام تر مشکلات اور رکاوٹیں ہمارے سامنے ہیں اور اس کے باوجود ہم اس نظام کو سنجیدگی کے ساتھ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ مشکلات پر قابو پانے میں کچھ وقت صرف ہو جائے اور شرعی عدالتوں کا باقاعدہ آغاز نئے قمری سال کے آغاز کی بجائے اڑھائی تین ماہ مزید مؤخر ہو جائے لیکن ان شاء اللہ العزیز یہ نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوگا اور اس کے ذریعے پاکستان کے عوام شرعی قوانین کی برکات سے فیض یاب ہوں گے۔