دکانداروں کا قصور؟ / بدحواسی یا کچھ اور؟ / بیرون ملک جانے کا جنون / حلال کی کمائی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جنوری ۱۹۷۸ء

پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی دکھلانے کے لیے چھوٹے دکانداروں اور پرچون فروشوں کے خلاف دھڑادھڑ کاروائیوں میں مصروف ہے اور روزنامہ اخبارات میں ملاوٹ اور گراں فروشی کے الزامات میں مختلف مقامات سے ان دکانداروں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔

ملاوٹ اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور مستحسن بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں چیزوں کی ذمہ داری پرچون فروشوں اور چھوٹے دکانداروں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ ملاوٹ اور گراں فروشی میں اگرچہ کسی حد تک پرچون فروش بھی ملوث ہوتے ہیں لیکن ان کا اصل سرچشمہ تھوک فروش بلکہ تیار کنندگان ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ ملاوٹ اور گراں فروشی کی ذمہ داری اس غیر فطری نظام معیشت پر عائد ہوتی ہے جس کو غلط اور باطل قرار دینے کے باوجود ہم اسے بدلنے پر خود کو آمادہ نہیں کر سکے اور اصلاحات کے نام پر وقتاً فوقتاً مرہم رکھ کر دل کو بہلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

حکومت کو چھوٹے دکانداروں پر سارا نزلہ گرانے کی بجائے ملاوٹ اور گراں فروشی کے اصل اسباب و محرکات کی راہ روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں ورنہ ملک کے مختلف حصوں سے چند سو دکانداروں کو گرفتار کرنے سے مہنگائی اور ملاوٹ کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بدحواسی یا کچھ اور؟

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے شیخوپورہ کے نمائندہ خصوصی کے حوالے سے ۲۸ دسمبر کے شمارہ میں ’’ٹیلی ویژن والوں کی بدحواسی‘‘ کے زیرعنوان ایک خبر میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ روز لاہور ٹیلی ویژن سے کسی گزشتہ تقریب کی فلم ٹیلی کاسٹ کی گئی ہے جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل محمد ضیاء الحق کو سابق وزیراعظم بھٹو کو سلامی دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ہمارے خیال میں ٹیلی ویژن والوں کی اس حرکت کو محض بدحواسی کا عنوان نہیں دیا جا سکتا، ہمیں اس معاملہ کا دوسرا پہلو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری رائے ہے کہ انتظامیہ میں سابق حکمران گروہ کے پروردہ ایسے افسران کی کمی نہیں ہے جو مختلف شعبوں میں اب بھی مسٹر بھٹو اور ان کی پارٹی کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔ بالخصوص وہ افسران جنہیں محض بھٹو پرستی کی بنا پر کسی جواز کے بغیر تقرریوں اور ترقیوں سے نوازا گیا تھا۔

مارشل لاء انتظامیہ نے جس وقت ملک کا نظم و نسق سنبھالا تھا اس کے بعد سے اب تک اگر سول انتظامیہ کے طرز عمل کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر محسوس کی جائے گی کہ سول انتظامیہ کا رویہ اور کارکردگی مارشل لاء حکومت کے لیے کسی نیک نامی کا باعث نہیں بن سکے اور ہم اسے محض اتفاق قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم عبوری حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ سول انتظامیہ کے مجموعی کردار بالخصوص بھٹو آمریت کے دور میں بلاجواز ترقیوں اور تقرریوں سے بہرہ ور ہونے والے افسران پر کڑی نظر رکھے تاکہ وہ ملک میں جن خوشگوار تبدیلیوں کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے، وہ نوکر شاہی کی مخصوص چالوں کا شکار ہو کر نہ رہ جائے۔

بیرون ملک جانے کا جنون

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ایک خبر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تقریباً ایک درجن ایسی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستانیوں کو بوگس ویزوں پر بیرون ملک بھجوانے کا مذموم کاروبار کرتی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل حکومت مغربی جرمنی نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایک سو چار پاکستانیوں کو واپس بھجوایا تھا جو غیر قانونی طور پر انہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور یہ واقعہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بنا تھا۔

ہمارے ہاں باہر جانے کا رجحان اب جنون کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے محرکات میں ملک میں معقول روزگار کے فقدان اور ہنرمند افراد کی بے قدری کے ساتھ ساتھ دولت جمع کرنے اور معیارِ زندگی کی دوڑ میں سب سے آگے بڑھ جانے کی ہوس بھی شامل ہے۔ ہم اہل علم و فن کے ملک سے باہر جانے کے مخالف نہیں کیونکہ اس سے ملک کی نیک نامی کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے جو آج کے دور میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ لیکن باہر جانے کے نام سے اس وقت جو کچھ ہمارے ہاں ہو رہا ہے اسے کسی بھی صورت مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حکومت اور دیگر قومی اداروں کو اس صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے اور ویزوں کا جعلی کاروبار کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ ملک سے افرادی قوت کے اس بے تحاشا انخلاء کے اثرات و نتائج پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ ہماری رائے میں حکومت کو ملک کی افرادی قوت کی منصوبہ بندی کر کے ملک میں روزگار کے مواقع میں وسعت پیدا کرنی چاہیے۔ اور جن افراد کا بیرون ملک جانا ملک و قوم کے مفاد میں ہو ان کی بھی مناسب تربیت کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بیرون ملک اپنے وطن کی بدنامی اور رسوائی کا ذریعہ نہ بنیں۔

حلال کی کمائی

اے پی پی کی اطلاع کے مطابق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے اسلام آباد میں سہ فریقی لیبر کانفرنس کے عشائیہ میں مزدوروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلال کی کمائی میں برکت ہوتی ہے اور انسان رزق سے اس وقت ہی بھرپور استفادہ کر سکتا ہے جب وہ حلال کمائی کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو۔

جنرل موصوف کا ارشاد بالکل بجا ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ حلال کمائی کا ذریعہ کیا ہے؟ کیا اس نظام معیشت میں جس کی بنیاد سود اور سٹے پر ہو، کوئی بھی فرد اپنی کمائی کے خالص ہونے کا یقین کر سکتا ہے؟ جنرل صاحب موصوف صاحبِ اختیار ہیں اس لیے یہ فرض سب سے پہلے انہی کا ہے کہ وہ اس ملک میں حلال کمائی کے مواقع لوگوں کو مہیا کریں، اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک معیشت کے اجتماعی نظام کو حرام سے پاک کر کے حلال پر اس کی بنیاد نہیں رکھی جاتی۔