کابل میں ’’اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کا قیام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۶ اگست ۲۰۰۰ء

کابل کے حالیہ سفر کے دوران جن دو باتوں پر مجھے سب سے زیادہ خوشی ہوئی آج کے کالم میں ان کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ان میں سے ایک خوشی معروف افغان کمانڈر مولوی سیف الرحمن منصوری سے ملاقات ہے جو میرے انتہائی مخلص دوست مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ کے فرزند ہیں جنہیں دیکھ کر شہید دوست کی یاد تازہ ہوگئی۔

مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ کا تعلق حرکت انقلاب اسلامی سے تھا اور وہ صاحب فکر اور صاحب رائے عالم دین تھے۔ جہادی معاملات اور ان کے نتائج و عواقب پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کو جہاد افغانستان کے بارے میں باخبر رکھنے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ محنت کی۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے ساتھ خصوصی عقیدت رکھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جہاد افغانستان کے آغاز کے فورًا بعد حضرت درخواستیؒ اور مولانا مفتی محمودؒ نے قبائلی اور سرحدی علاقوں کا دورہ کر کے جہاد افغانستان کی حمایت اور مجاہدین کی پشت پناہی کے لیے اس خطہ کے عوام کو جس طرح تیار کیا اس سے ہمارے حوصلوں میں اضافہ ہوا اور جہاد کے میدان میں ہمارے پاؤں جم گئے۔

میرے ساتھ بھی ان کا مشفقانہ اور مخلصانہ تعلق تھا اور میں پاکستان کے بعض دوروں میں ان کے ساتھ شریک رہا۔ وہ دو باتوں پر بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ ایک یہ کہ مجاہدین کے مختلف گروپ باہمی اتحاد کر کے ایک کمان کے تحت کاروائیاں کریں۔ اس مقصد کے لیے محنت کر کے ایک موقع پر انہوں نے ایک اتحاد بنوایا مگر وہ اتحاد مختلف گروپوں کو اکٹھا کرنے کی بجائے خود ایک گروپ کی شکل اختیار کر گیا جس کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ دوسرا وہ امریکی امداد اور مغربی ممالک کے تعاون کو ایک خاص دائرہ تک محدود رکھنے کی بات کرتے تھے اور اس تعاون کو جہادی معاملات میں مداخلت کی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس لیے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ اپنی اس آزادانہ سوچ کے باعث پورے جہادی نیٹ ورک سے ہی وقتی طور پر آؤٹ ہوگئے اور انہیں حالات کی سنگینی نے ایران پہنچا دیا جس پر ہمارے بہت سے ساتھی ان سے ناراض ہوگئے۔ مگر مجھے ان کی افتاد طبع، سوچ اور مجبوریوں کا علم تھا اس لیے ان کا ایران جانا میرے لیے تشویش کا باعث نہ بنا اور ہمارے تعلقات بدستور پہلے کی طرح استوار رہے۔

طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد انہوں نے اپنی سنیارٹی اور خدمات کا حوالہ دیے بغیر پورے خلوص کے ساتھ انہیں سپورٹ کیا مگر ان کی گاڑی میں بم کے دھماکے نے انہیں عروس شہادت سے ہمکنار کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے خاندان کے ساتھ طالبان حکومت کے روابط سے میں بالکل بے خبر تھا اس لیے جب ان کے بیٹے مولوی سیف الرحمن منصور کو طالبان کی سرکاری فوج کے ایک کمانڈر کی صورت میں دیکھا تو مجھے جو خوشی ہوئی اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ ان کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں جہاد کے دوران زخمی ہوگئی تھیں اور بعض انگلیاں کٹ گئی ہیں لیکن وہ اس کے باوجود جنگی خدمات میں مصروف ہیں اور ایک بریگیڈ کی کمان کر رہے ہیں۔ حالیہ سفر میں ان سے دو ملاقاتیں ہوئیں، میں انہیں دیکھ کر اپنے شہید دوست کو یاد کرتا رہا اور بیٹے کے روپ میں باپ کی شبیہہ دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا۔

دوسری خوشی مجھے کابل کے اس سفر میں ’’اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کو دیکھ کر ہوئی جس کا باقاعدہ نام پشتو میں ’’دعلومو اکادمی‘‘ ہے۔ میرے میزبان اس کا ترجمہ ’’ریسرچ اکیڈمی‘‘ کرتے تھے لیکن میں نے اس کا ترجمہ ’’اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کیا ہے۔ اپنے میزبان کے ساتھ کابل کے ایک روڈ پر گزرتے ہوئے دعلومو اکادمی کے بورڈ پر نظر پڑی تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ علوم کی تحقیق و ریسرچ کا ادارہ ہے جو طالبان کی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی اور میں نے اپنے میزبان سے عرض کیا کہ یہ تو میرے اپنے ذوق اور شعبہ کا کام ہے جس کا کابل کے حوالہ سے ایک عرصہ سے خواب دیکھ رہا ہوں۔ اس لیے اس ادارہ کو ضرور دیکھنا ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات سے بات کرنی ہے۔

چنانچہ مولانا الیاس چنیوٹی اور دیگر رفقاء کے ہمراہ تھوڑی دیر کے لیے وہاں حاضری ہوئی۔ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مولانا خلیل اللہ فیروزی موجود نہیں تھے البتہ ان کے نائب مولانا فرید الدین محمود سے ملاقات ہوگئی جو بنیادی طور پر استاد ہیں اور اس وقت بھی طلبہ کی ایک کلاس کو تعلیم دے رہے تھے۔ اکیڈمی بالکل ابتدائی مراحل میں ہے، الماری میں چند کتابیں پڑی تھیں اور ڈپٹی ڈائریکٹر ہمیں اکیڈمی کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بے سروسامانی کا شکوہ کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اکیڈمی مختلف علوم و فنون کے حوالہ سے افغانستان کی موجودہ معروضی صورتحال کا جائزہ لینے، مختلف شعبوں میں تحقیقی کام اور افراد کار کے خلاء کی نشاندہی کرنے، اور ریسرچ کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ لیکن ضروری وسائل کے فقدان کے باعث ابتدائی اور بنیادی کام کے لیے بھی ہمارے پاس اسباب اور افراد کی کمی ہے اور ہم کام کو صحیح طور پر منظم نہیں کر پا رہے۔ البتہ خواہش ضرور موجود ہے اور چند نوجوان اس سلسلہ میں محدود دائرہ میں کچھ نہ کچھ کر بھی رہے ہیں جو کام کی نوعیت اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نہ ہونے کے برابر ہے۔

میں نے اس پیش رفت پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے وقت کی سب سے اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ اور ’’الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ‘‘ کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ میں نے انہیں دعوت دی کہ اگر اکیڈمی آف سائنسز کابل کے ذمہ دار دوست کسی وقت اسلام آباد آئیں تو مختلف شعبوں کے ماہرین اور ارباب علم و دانش کے ساتھ ان کی نشست کا اہتمام کیا جا سکتا ہے جو اس علمی و فکری کام کی حدود اور اساسی اصولوں کے تعین، اور اسے آگے بڑھانے کے بارے میں اسباب و وسائل اور افراد کار کی فراہمی کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ راقم الحروف نے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کی طرف سے بھی انہیں تعاون کا یقین دلایا اور گزارش کی کہ ہم لندن میں افغان دانشوروں کی میزبانی اور علوم و فنون کے مختلف مراکز تک ان کی رسائی کے لیے خدمت کا شرف حاصل کر کے خوشی محسوس کریں گے۔

مولانا فرید الدین محمود نے اس پیشکش پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امارت اسلامی افغانستان کی حکومت سے اجازت حاصل کر کے اسلام آباد آنے کا پروگرام بنائیں گے تاکہ اس سلسلہ میں مزید تعاون کے عملی امکانات کا جائزہ لیا جا سکے اور اس میں پیش رفت کا طریق کار طے کیا جا سکے۔