الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ مئی ۲۰۱۱ء

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کا نام پہلی بار افغانستان کی پہاڑیوں میں جہادِ افغانستان کے دوران سنا جب افغانستان میں روسی افواج کی آمد اور سوشلسٹ نظریات کے تسلط کے خلاف افغانستان کے مختلف حصوں میں علماء کرام اور مجاہدینِ آزادی نے علمِ جہاد بلند کیا اور افغانستان کی آزادی کی بحالی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے میدانِ کارزار میں سرگرم ہوگئے۔ ابتداء میں یہ مجاہدین کسمپرسی کے عالم میں لڑتے رہے حتیٰ کہ پرانی بندوقوں اور بوسیدہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بوتلوں میں صابن اور پٹرول بھر کر ان دستی بموں کے ساتھ روسی ٹینکوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ دنیا انہیں دیکھ کر مجنون سمجھتی رہی، چٹان کے ساتھ سر ٹکرانے اور خودکشی کرنے کے طعنے دیتی رہی مگر ان خدامست لوگوں نے کسی طعنے اور الزام کی پراو کیے بغیر سر ٹکرانے کا یہ عمل جاری رکھا۔ مجھے وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب شیرانوالہ لاہور کے ہمارے ایک بزرگ حضرت مولانا حمید الرحمان عباسیؒ شب و روز محنت کر کے آٹا، چینی اور دیگر ضروریات جمع کرتے اور جب ٹرک کے برابر سامان ہو جاتا تو اسے افغانستان پہنچانے کا بندوبست کرتے۔

پھر جب دنیا کو یہ نظر آنے لگا کہ یہ چٹان سے سر ٹکرانے والے آسانی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور چٹان کے اپنی جگہ سے سرکنے کا امکان پیدا ہوتا جا رہا ہے تو پوری دنیا اس طرف متوجہ ہوگئی۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو سرد جنگ میں سوویت یونین کو شکست دینے کے خواہاں تھے، وہ لوگ بھی تھے جو گرم پانیوں اور خلیج عرب تک سوویت یونین کی رسائی کو روکنا چاہتے تھے، اور وہ لوگ بھی بڑی تعداد میں تھے جنہوں نے قرآن و حدیث میں جہاد کی اہمیت و فضیلت کا سبق پڑھ رکھا تھا اور تاریخ میں مجاہدین کے کارنامے پڑھ پڑھ کر ان کے دل جہاد میں حصہ لینے کے لیے مچلتے تھے مگر کوئی عملی میدان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان بین الاقوامی کشمکش کا بہت بڑا میدان بن گیا اور مختلف ملکوں اور طبقات کے لوگ جہاد کے اس عمل میں مشغول پائے جانے لگے۔ افغان مجاہدین کی مختلف جماعتیں وجود میں آئیں، ان کے اتحاد تشکیل پائے، بیرونی قوتوں سے ان کے رابطے ہوئے، ہتھیاروں اور رقوم کی ریل پیل ہوئی اور افغانستان مجاہدین کی بھرتی اور ٹریننگ کا عالمی مرکز بن گیا۔

اس دوران میرا بھی افغانستان آنا جانا رہتا تھا، بہت سے مورچوں میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ لڑنا تو میں سرے سے نہیں جانتا اور نہ ہی کسی ہتھیار کی ٹریننگ حاصل کر سکا۔ ایک بار کسی انٹرویو میں مجھ سے سوال ہوا کہ کیا آپ ہتھیار چلانا جانتے ہیں؟ میں نے قلم ہاتھ میں پکڑ کر کہا کہ یہ میرا ہتھیار ہے اور اس کو چلانا بحمد اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہوں۔ میرا مورچوں میں جانا دو مقاصد کے لیے ہوتا تھا۔ ایک یہ کہ اس سے مجاہدین کی حوصلہ افزائی ہوتی اور دوسرا اس لیے کہ وہاں سے تازہ معلومات حاصل کر کے قلم کے ذریعے اپنے قارئین کو ان سے آگاہ کرتا تھا۔ ان دنوں میں جمعیۃ علمائے اسلام کے آرگن ہفت روزہ ترجمانِ اسلام لاہور کا چیف ایڈیٹر تھا اور ایسے مقامات پر آنے جانے کے لیے میرا بڑا ٹائٹل یہی ہوا تھا۔ میں وقتاً فوقتاً کسی مورچے میں جاتا، ایک دو دن رہتا اور واپسی پر اپنے مضامین کے ذریعے تاثرات و معلومات قارئین کی خدمت میں پیش کر دیتا۔ اس دور میں میرے بیسیوں مضامین ہفت روزہ ترجمانِ اسلام اور ملک کے دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے۔

جہادِ افغانستان میں عرب ممالک سے ہزاروں نوجوان شریک ہوئے، ان کے اپنے کیمپ تھے، ان میں بھی جانے کا موقع ملتا تھا۔ اس دوران وہیں سنا کہ سعودی عرب کے ایک انتہائی متمول اور مقتدر خاندان کا ایک نوجوان جہاد میں عملاً شریک ہے اور جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کے دونوں محاذوں پر دادِ شجاعت دے رہا ہے۔ اس نوجوان کا نام اسامہ بن لادن ہے اور وہ شہزادگی کی زندگی ترک کر کے خاکساری کے ذوق کے ساتھ شب و روز کے اعمال میں مصروف ہے۔ یہ یاد نہیں کہ اس دوران اسے دیکھا یا نہیں لیکن اس کی شجاعت اور سخاوت کے واقعات مسلسل سننے میں آتے رہے تا آنکہ عالمی میڈیا نے بھی اسے ایک عظیم مجاہد اور فریڈم فائٹر کے انداز میں جہادِ افغانستان کے ہیرو کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا۔

افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی، جہادِ افغانستان کے اس دور کا اختتام، سوویت یونین کے بکھرنے کا تاریخی عمل، اور جہادِ افغانستان کے منطقی نتیجے کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں ایک مستقل موضوع بحث ہیں جس کا صرف ایک پہلو یہ ہے کہ افغان مجاہدین اور ان کے ساتھ جہاد میں شریک دنیا بھر کے مجاہدین کے بارے میں عالمی پراپیگنڈے کا رخ اس طرح موڑ دیا گیا کہ انہوں نے دراصل امریکہ کی جنگ لڑی ہے اور سرد جنگ میں سوویت یونین کو شکست دینے میں امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں۔ اسی دور کی بات ہے ابھی افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کی تشکیل کے مختلف فارمولے آزمائے جا رہے تھے اور طالبان اور القاعدہ کا دور دور تک کوئی وجود بلکہ آثار تک نہیں تھے، اسلام آباد میں بائیں بازو کے چند دانشوروں کے ساتھ ایک مجلس میں میری تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کا موقف یہ تھا کہ افغان مجاہدین کو امریکہ نے تیار کیا تھا، اس نے انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر کے چھوڑ دیا ہے اور افغان مجاہدین نے امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ جبکہ میرا موقف یہ تھا کہ جہادِ افغانستان کا آغاز افغان علماء اور مجاہدین نے اپنے ملک کی خودمختاری اور نظریاتی تشخص کے لیے کیا تھا اور کم و بیش تین برس تک وہ دیسی ہتھیاروں کے ساتھ فاقہ مستی کے عالم میں لڑتے رہے۔ جبکہ امریکہ اپنا مفاد دیکھ کر اس میں شریک ہوا اور پھر ساری دنیا اس طرف متوجہ ہوئی۔ اس لیے اس جنگ میں مجاہدین کے اہداف مختلف تھے اور امریکہ کے اہداف الگ تھے۔ ان کے درمیان اشتراکِ عمل تو ہوا جس میں امریکی کیمپ نے اپنا ہاتھ دکھا دیا کہ اپنے مقاصد حاصل کر لیے مگر مجاہدین کے مقاصد و اہداف کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے۔

جب گفتگو کچھ آگے بڑھی تو میں نے ان دوستوں سے کہا کہ اس کا فیصلہ وقت پر چھوڑٰ دیں۔ اگر مستقبل کے پروگرام میں یہ مجاہدین امریکی ایجنڈے کا حصہ بن گئے تو میں تسلیم کر لوں گا کہ انہوں نے امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ لیکن اگر آنے والے دور کا نقشہ اس سے مختلف ہوا اور مجاہدین نے امریکی ایجنڈے میں فٹ ہونے سے انکار کر دیا تو آپ دوستوں کو میری بات ماننا ہوگی کہ اس جنگ میں مجاہدین کے اپنے اہداف و مقاصد تھے اور وہ امریکہ کی جنگ لڑنے کی بجائے اپنی جنگ لڑ رہے تھے۔ البتہ جنگ کی ترجیحات کے تعین میں وہ امریکہ سے بازی ابھی تک نہیں جیت پائے کہ امریکہ نے اپنی طاقت، لابنگ، ڈپلومیسی اور میڈیا کے ذریعے انہیں سرِدست کارنر کر دیا ہے۔

اس کے بعد القاعدہ سامنے آئی اور طالبان کا دور دنیا نے دیکھا۔ وہی مجاہدین جو سوویت یونین کے خلاف جہاد میں بظاہر امریکہ کے شانہ بشانہ تھے اب امریکہ کے سامنے کھڑے تھے اور تمام تر جاہ و جلال اور شان و شوکت کے باوجود امریکہ کا سانس پھولتا سب کو دکھائی دے رہا تھا۔ الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ جن دنوں جلال آباد افغانستان میں مقیم تھے میری ان سے ملاقات ہوئی، میں نے ایک رات ان کے کیمپ میں گزاری، ان سے انٹرویو لیا جو قومی اخبارات میں انہی دنوں شائع ہوا۔ خفیہ ادارے کافی عرصہ تک میرا پیچھا کرتے رہے کہ آپ وہاں تک کیسے پہنچے؟ مگر میرا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ میں جرنلسٹ ہوں میرے اس سفر کی ساری رپورٹ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے اور میں نے کوئی خفیہ کام نہیں کیا۔ البتہ اپنے سفر کے ذرائع بتانے کا پابند نہیں ہوں او رنہ ہی بتاؤں گا۔

اس دوران جب ’’القاعدہ‘‘ تشکیل پائی تو مجھ سے بھی رابطہ کیا گیا مگر میرے کچھ تحفظات تھے۔ میں جہادِ افغانستان کے منطقی نتائج کی تکمیل اور افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کے قیام و استحکام سے پہلے عالم اسلام میں کسی بھی اور جنگ کو ’’قبل از وقت‘‘ سمجھتا تھا اور اپنی اس رائے پر اب بھی قائم و مطمئن ہوں۔ اس لیے میں نے خاموشی میں ہی مصلحت سمجھی البتہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جو مجاہدین خلوص کے ساتھ دین کی سربلندی اور اپنے اپنے ملک کی آزادی و خودمختاری کے لیے میدانِ عمل میں ہیں، میری دعائیں اور نیک تمنائیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہیں اور آج بھی ہیں۔

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ عالمِ اسلام بالخصوص عالمِ عرب میں عالمی استعمار کے استعماری ایجنڈے کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ انہوں نے زندگی بھر اس کے لیے پوری قوت کے ساتھ جنگ لڑی۔ ان کے طریق کار اور ترجیحات سے اختلاف ہو سکتا ہے جو ظاہر ہے کہ مجھے بھی تھا لیکن ان کے خلوص، ایثار، جدوجہد حبِ دینی، استقامت، عزم و حوصلے اور مسلسل قربانیوں سے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اور اس پر وہ ہر نیک دل مسلمان کے سلامِ محبت و عقیدت کے حقدار ہیں۔ جہاد کے اس مقدس عمل میں کون کون لوگ کہاں کہاں سے شریک ہوئے، ان کی قربانیوں اور جہد و ایثار کو دیکھیں تو بلاشبہ یہ اس دور میں اسلام کے اعجاز اور جہاد کی کشش کا خوبصورت اظہار ہے۔ میں اس نوجوان کو کبھی نہیں بھول سکتا جو ایک بار مجھے افغانستان کے ایک مورچے سے واپس پاکستان چھوڑنے آرہا تھا۔ وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا، عمر زیادہ سے زیادہ سولہ ستر سال ہوگی، میں نے پوچھا کہاں کے رہنے والے ہو؟ بتایا کہ مدینہ منورہ کا باشندہ ہوں۔ دریافت کیا کہ کب سے یہاں ہو؟ جواب دیا کہ دو سال سے ہوں۔ پوچھا کہ کب واپسی کا ارادہ ہے؟ کہا کہ جہاد میں کامیابی کے بعد ہی واپس جاؤں گا یا یہیں شہید ہو جاؤں گا۔ میں نے کہا کہ مدینہ منورہ چھوڑ کر یہاں کیوں آگئے ہو؟ اس نے کہا اس لیے کہ جہاد یہاں ہو رہا ہے، اس کے بعد مجھے اس سے کوئی اور سوال کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔

یہ نوجوان اسامہ بن لادن نہیں تھا لیکن اپنے جذبے اور قربانی کے حوالے سے وہ بھی ایک اسامہ ہی تھا، اس جیسے اسامہ بن لادن سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مجاہدین کی صفوں میں موجود ہیں۔ اس لیے اسامہ شہید تو ہوا لیکن مرا نہیں، کیونکہ وہ اب گوشت پوست کے کسی انسان کا نام نہیں رہا بلکہ حریت، جہاد اور استقامت کی علامت بن چکا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے جوارِ رحمت میں جگہ دیں او رخلوص و ایثار کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو ہر جگہ کامیابی سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔