علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

   
مجلہ: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ اپریل ۱۹۸۷ء

۲۳ مارچ کی شب کو لاہور میں اہل حدیث یوتھ فورس کے جلسہ عام میں تخریب کاری کے المناک حادثہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور ممتاز اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے زخمی ہونے کا جو افسوسناک سانحہ پیش آیا ہے اس پر ہر مسلمان کی آنکھ اشکبار اور دل مضطرب ہے۔

تخریب کاری کے حادثات ایک عرصہ سے پاکستانیوں کی قیمتی جانوں اور املاک کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں مگر حکومت اور انتظامی اداروں کی طرف سے رسمی افسوس کے اظہار کے سوا کوئی مثبت اور سنجیدہ ردعمل اور کاروائی سامنے نہیں آرہی۔ اس لیے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت بھی ان تخریبی کاروائیوں کی ذمہ دار ہے۔ مذکورہ سانحہ تخریبی کاروائیوں میں اس لحاظ سے منفرد اور زیادہ الم و اضطراب کا باعث ہے کہ اس میں مذہبی حلقوں کو آپس میں لڑانے کی سازش جھلک رہی ہے جو بلاشبہ ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

ہم جاں بحق ہونے والوں کے لیے اللہ رب العزت کے حضور مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہوئے ان کے ورثاء کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور دست بدعا ہیں کہ اللہ رب العزت علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا یزدانی کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اس سانحہ کی مکمل اور فوری تحقیقات حکومت کی ذمہ داری ہے، اسے اس المیہ کے اسباب و عوامل کو بے نقاب کرنے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانے کے لیے فوری، ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ اس آگ کے پھیلتے ہوئے الاؤ کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور ۔ ۲۰ تا ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء)

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکہ کی سنگینی اپنے مقام پر کہ اس نے ملک کے سنجیدہ اور محب وطن حلقوں کو ایک مستقل بے چینی اور اضطراب سے دوچار کر دیا ہے اور تخریب کاروں کی اس سنگدلی نے انسانی جان و مال کے تحفظ کی رہی سہی امیدوں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے، مگر علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ اور مولانا حبیب الرحمانؒ یزدانی کی وفات اپنے طور پر بھی ملک کے دینی و علمی حلقوں کے لیے کچھ کم سنگینی اور صدمہ کی حامل نہیں ہے۔ یہ دونوں حضرات اہل حدیث مکتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اہل حدیث مکتب فکر کو سیاسی پلیٹ فارم پر منظم کرنے کی جو انتھک جدوجہد کی وہ تاریخ اہل حدیث کا ایک یادگار باب ہے۔ بالخصوص علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر باطل فتنوں اور غیر اسلامی نظریات و تحریکات کے خلاف جو جرأت مندانہ جدوجہد کی وہ ان کے بعض سیاسی افکار سے اختلاف کے باوجود ملک کی دینی جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے۔

ہم علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا حبیب الرحمانؒ یزدانی اور لاہور کے حادثہ کے دیگر شہداء کی جدائی کے غم میں اپنے اہل حدیث بھائیوں کے ساتھ شریک ہیں اور تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعاگو ہیں۔ ہم لاہور کے حادثہ کے سلسلہ میں مجرموں کو بے نقاب کرنے اور حادثہ کے محرکات و عوامل کو منظر عام پر لانے کے لیے جمعیۃ اہل حدیث کے راہنماؤں کے مطالبات کی مکمل تائید کرتے ہیں اور ان مطالبات کی منظوری کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے اس بارے میں اپنے کارکنوں کو پہلے ہی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس حادثہ کے سلسلہ میں جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور تعاون کریں۔

(ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور ۔ ۳ تا ۱۰ اپریل ۱۹۸۷ء)