خان عبد الولی خان اور پنجاب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

روزنامہ جنگ کراچی کے نمائندہ خصوصی عارف الحق عارف کو انٹرویو دیتے ہوئے ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ:

’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ (روزنامہ جنگ، کراچی ۔ ۸ جنوری ۱۹۷۸ء)

خان عبد الولی خان کی حب الوطنی اور پنجاب میں ان کی مقبولیت کے بارے میں مذکورہ بالا ریمارکس اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ذمہ دار اور سربرآوردہ مسلم لیگی کے ریمارکس ہیں۔ اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کے اس طبقہ کے بارے میں جسے ’’نیشنلسٹ‘‘ کہا جاتا ہے، قیوم خان برانڈ مفاد پرستوں کے پھیلائے ہوئے اثرات رفتہ رفتہ زائل ہو رہے ہیں۔ اور ملک و قوم سے ہمدردی رکھنے والے عناصر یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ سیاست میں اس سرگرم اور بااصول گروہ کو نظر انداز کرنے اور پیچھے دھکیلنے کی بجائے ملک و قوم کو اس کی خدمات اور صلاحیتوں سے بہرہ ور کرنا ہی پاکستان اور اس کے غریب عوام کے مفاد میں ہے۔

اس میں شک نہیں کہ تحریک آزادی کے نامور راہنما خان عبد الغفار خان نے قیام پاکستان کے بعد جب ماضی کے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا تعاون غیر مشروط طور پر پیش کیا تھا، اگر عبد القیوم خان کی سازشوں کے باعث تعاون کے اس ہاتھ کو جھٹک نہ دیا جاتا تو آج ملک کی سیاسی صورتحال بہت مختلف ہوتی۔ لیکن قیوم خان برانڈ سیاستدانوں کی مذموم چالوں کے باعث خان عبد الغفار خان، ان کے خاندان او ررفقاء کو اب تک مسلسل جس طرح دھکیلا اور رگیدا جاتا رہا ہے اور ان کے ہاتھ میں غداری کا پرچم جبرًا تھمانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں اس کے باوجود اس عظیم خاندان اور اس کے متعلقین نے صبر و تحمل اور بردباری کا دامن نہیں چھوڑا اور انتہائی صبر و استقامت کے ساتھ جھوٹ اور فریب کے منطقی انجام کا انتظار کرتے رہے۔

آج بحمد اللہ تعالیٰ ان کا صبر رنگ لایا ہے اور مکر و فریب کی دھند چھٹنے کے بعد خان عبد الولی خان ایک بار پھر قومی سیاست کے مطلع پر نمودار ہوئے ہیں، مستقبل ان کا منتظر ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ ’’نیشنلسٹ‘‘ کہلانے والے سیاسی راہنما اور کارکن پاکستان کی تعمیر و استحکام میں اپنا حقیقی سیاسی کردار ادا کریں گے۔ اور ان شاء اللہ العزیز یہ پاکستان کے روشن مستقبل کا نقطۂ آغاز ہوگا۔