صدارت کا منصب اور جونیئر افسر کی ماتحتی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۰ فروری ۲۰۰۰ء

اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان سے پی سی او کے تحت حلف لیے جانے کے بعد صدر مملکت جناب محمد رفیق تارڑ کے بارے میں بھی مختلف خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ ان سے بھی پی سی او کے تحت حلف لینا ضروری ہوگیا ہے، بعض دوست اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ شاید یہ حلف اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوں اس لیے کہ ان کے ایوان صدر سے رخصت ہونے کا وقت قریب آرہا ہے۔ ایک معروف قانون دان کا کہنا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کی وہی آخری علامت رہ گئے ہیں اس لیے ان کی رخصتی عملاً دستور پاکستان کی رخصتی ہوگی۔ اور ان کے بقول دستور سے پیچھا چھڑانے کے خواہشمند حضرات اور حلقوں کی درپردہ تگ و دو یہی ہے کہ دستور کی اس آخری نشانی سے بھی گلوخلاصی کرالی جائے۔

اس سلسلہ میں سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کا تبصرہ سب سے دلچسپ ہے جنہوں نے گزشتہ دنوں ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے اپنے صدر ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بے اختیار صدر بن کر ایوان صدر میں قید ہونے کے خواہشمند نہیں ہیں کیونکہ ان کے بقول موجودہ حکومت کو ایسے صدر کی ضرورت ہے جو پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر چیف ایگزیکٹو کے تابع ہو کر کام سکے، جبکہ فوجی روایات کے مطابق سینئر جرنیل کبھی اپنے جونیئر افسر کے ماتحت کام نہیں کرتا۔

جہاں تک صدر بن کر ایوان صدر میں قید ہوجانے کا تعلق ہے ہم مرزا اسلم بیگ کے ارشاد سے سو فیصد متفق ہیں اس لیے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں پے در پے ترامیم کے ذریعے صدارت کے منصب کو جس طرح ’’فٹ بال‘‘ بنایا گیا ہے اس سے صدر محض ایک نمائشی عہدہ اور شو پیس ہو کر رہ گیا ہے۔ اور جب ہم صدارت کے منصب پر ایک طرف جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم، غلام اسحاق خان اور سردار فاروق احمد لغاری کے ابتدائی دور کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف ہمیں اسی کرسی پر چوہدری فضل الٰہی مرحوم اور جناب محمد رفیق تارڑ بھی اپنے اپنے دور میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں تو حق بات یہ ہے کہ ’’صدر‘‘ اور ’’صدارت‘‘ کے مفہوم کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور اسی لیے ہمیں آنے والے کسی بھی متوقع شخصیت سے ابھی سے ہمدردی ہے کہ کسی اچھے بھلے چلتے پھرتے شخص کو خواہ مخواہ ایوان صدر کے سنہری پنجرے میں قیدی بنا کر بٹھا دیا جائے گا۔

البتہ جنرل اسلم بیگ نے کسی جونیئر افسر کے ماتحت کام نہ کرنے کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے وہ میں کچھ اچھی نہیں لگی کیونکہ اسلامی روایات اس سے مختلف ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملت اسلامیہ کے سب سے عظیم جرنیل حضرت خالد بن ولیدؓ کو جب عین میدان جنگ میں امیر المومنین عمر بن الخطابؓ کی طرف سے امارت سے معزولی کا پروانہ ملا اور لشکر کی کمان اپنے ایک سپاہی حضرت ابوعبیدہؓ کے سپرد کرنے کی ہدایت ہوئی تو کسی تامل کے بغیر انہوں نے عین میدان جنگ میں لڑتے ہوئے لشکر کی کمان نئے کمانڈر کے سپرد کر کے ایک سپاہی کے طور پر اس کی ماتحتی میں اس اطمینان کے ساتھ دوبارہ لڑنا شروع کر دیا کہ جیسے کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہوا۔ خالد بن ولیدؓ اسلامی تاریخ کے نامور جرنیل ہیں جنہیں خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے ’’سیف اللہ‘‘ (اللہ کی تلوار) کا خطاب عطا فرمایا۔ انہوں نے زندگی میں سینکڑوں جنگیں لڑیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس پر کسی نہ کسی ہتھیار کے زخم کا نشان نہ ہو۔ مگر ان کی وفات میدان جنگ میں نہیں بلکہ بستر مرگ پر ہوئی اور وہ وفات کے وقت بھی شہادت سے ہمکنار نہ ہونے پر حسرت کا اظہار کرتے رہے۔ جبکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ انہیں جب خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تلوار کہہ دیا تھا تو یہ تلوار میدان جنگ میں ٹوٹ ہی نہیں سکتی تھی۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مختلف قبائل اور گروہوں کی بغاوت کو فرو کرنے میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے جس جرأت، تدبر اور مہارت کے ساتھ اسلامی فوجوں کی کمان کی اس نے خلافت اسلامیہ کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنا دیا اور خالد بن ولیدؓ کا نام جنگوں میں فتح اور کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے محض اس مصلحت کی وجہ سے انہیں معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا کہ کہیں مسلمانوں میں انہیں مافوق الفطرت شخصیت کا درجہ حاصل نہ ہو جائے اور مسلمانوں کا عقیدہ کمزوری کا شکار نہ ہونے لگے۔ چنانچہ طبری کی روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے خالد بن ولید کو معزول کرتے ہوئے صاف طور پر کہا کہ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے اور انہیں کسی کوتاہی کی وجہ سے کمانڈر کے منصب سے الگ نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر ان سے یہ منصب واپس لیا جا رہا ہے۔ چنانچہ عین حالت جنگ میں انہیں معزولی کا حکم ملا اور اسی لمحہ وہ نئے امیر حضرت ابوعبیدہؓ کو چارج دے کر انہی کی کمان میں ایک سپاہی کے طور پر جنگ میں مصروف ہوگئے۔

اس لیے جنرل اسلم بیگ کا یہ کہنا کہ ’’کوئی سینیئر فوجی افسر اپنے جونیئر افسر کے ماتحت کام نہیں کرتا‘‘ آج کے دور کی کسی روایت کا ذکر ہو تو ہو اسلامی روایات میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے اور اسلامی روایت وہ ہے جس کا ذکر ہم نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے شاندار کردار کے حوالہ سے کیا ہے۔