ایم آر ڈی اور علماء حق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ دسمبر ۱۹۸۷ء

ایم آر ڈی کے کراچی کے حالیہ اجلاس نے ان حلقوں کی خوش فہمی کو ختم کر دیا ہے جو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ تحریک بحالیٔ جمہوریت کے نام سے متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو کر آئندہ انتخابات میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔ اور کراچی کے اجلاس میں ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے یہ بات اور زیادہ واضح کر دی ہے کہ یہ سیاسی اتحاد اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے اور اب اس میں مزید آگے چلنے کی سکت باقی نہیں رہی۔

ایم آر ڈی کے اس منطقی انجام کے بارے میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے رہنماؤں نے ابتداء میں ہی نشاندہی کر دی تھی کہ کوئی نظریاتی بنیاد طے کیے بغیر قائم ہونے والا یہ اتحاد پیپلز پارٹی کی سیاست کو دوبارہ صف اول میں لانے اور ذہنی خلفشار کو بڑھانے کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہیں کر سکے گا۔ لیکن پیپلز پارٹی کی سیاسی رفاقت کا جنون ہمارے بعض دوستوں کو اس حد تک آگے لے گیا کہ انہوں نے نتائج و عواقب سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے کو ہی تدبر و سیاست کی معراج سمجھ لیا جس کا نتیجہ آج ان کے سامنے ہے اور ’’خود کردہ را علاج نیست‘‘ کے مصداق ان کے گلے کا ہار بن کر رہ گیا ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اور ان کے رفقاء نے اسلامی نظام کو بنیادی نکتہ تسلیم کیے بغیر ایم آر ڈی میں شمولیت سے انکار کیا تو ان کے اس طرز عمل کو ’’غیر سیاسی رویہ‘‘ قرار دیا گیا لیکن حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاست و تدبر کا تقاضا یہی تھا اور بحمد اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماء اسلام وقت کے اس امتحان میں سرخرو ہوئی ہے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ کو ’’غیر سیاسی رویہ‘‘ کا الزام دے کر پیپلز پارٹی کی سیاست کو دوبارہ صف اول میں لانے کے لیے اپنے کارکنوں کو قربانی کا بکرا بنانے والے یہ دوست آج ایم آر ڈی کو مصنوعی تنفس کے ذریعے زندہ رکھنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔

انتہائی ادب و احترام کے ساتھ ان دوستوں کی خدمت میں یہ عرض کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ سیاست و تدبر کا تقاضا آج بھی اس سراب کے پیچھے بھاگنا نہیں ہے جو ان کی تیز رفتاری سے زیادہ تیزی کے ساتھ ان کی نظروں سے دور ہوتا جا رہا ہے بلکہ دانش و بصیرت کی پکار اب بھی یہی ہے کہ دوسروں کے لیے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو ضائع کرنے کی بجائے اپنے مرکز پر واپس آجائیں اور اپنی تگ و تاز کو بامقصد بناتے ہوئے علماء حق کی عظیم جدوجہد اور قوت کے اجتماعی دھارے میں ضم ہو جائیں۔

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات