دینی جدوجہد کے مشترکہ فورم کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ اکتوبر ۲۰۰۸ء

گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کے دو اجتماعات ہوئے جن سے کچھ امید ہونے لگی ہے کہ ملی و دینی مسائل میں دینی حلقوں کے موقف کے اجتماعی اظہار کی کوئی مناسب صورت بن جائے گی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر قومی و ملی امور پر تمام دینی حلقوں کا موقف کم و بیش یکساں ہوتا ہے جس کا اپنی اپنی جگہ وہ اظہار بھی کرتے ہیں لیکن کوئی مستقل فورم ایسا نہیں ہے جس پر وہ اس موقف کا اجتماعی طور پر اظہار کر سکیں۔ جب کبھی ضرورت شدید ہوتی ہے تو وقتی طور پر کوئی فورم سامنے آتا ہے اور جونہی وہ ضرورت کسی حد تک نرم پڑتی ہے وہ فورم بھی نرم پڑ جاتا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے قیام پر کچھ اطمینان ہوا تھا کہ اب شاید ایک مستقل فورم عوام کو ملی اور قومی مسائل پر دینی راہنمائی کے مشترکہ اظہار کے لیے میسر آجائے گا لیکن حالیہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کا یہ فورم سیاسی مصلحتوں اور ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گیا اور دینی قیادت کے مشترکہ فورم کے افق پر پھر سے دھند سی چھا گئی۔

کراچی سے ملک کے مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کا ملک کی موجودہ صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا تو اس سے لاہور کے علماء کرام میں بھی تحریک پیدا ہوئی اور مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا فضل الرحیم اشرفی، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، پروفیسر حافظ محمد سعید اور مولانا عبد المالک خان نے باہمی مشورہ سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا جس کے داعی کے طور پر متحدہ علماء کونسل کا فورم طے کیا گیا جو مولانا مفتی ظفر علی نعمانی، مولانا حسن جان شہید، مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا قاضی عبد اللطیف، مولانا معین الدین لکھوی، مولانا عبد المالک خان اور دیگر سرکردہ علماء کرام کی راہنمائی میں ایک دور میں شریعت بل، عورت کی حکمرانی اور سودی قوانین کے خاتمہ جیسے مسائل کے لیے تمام مکاتب فکر کے مشترکہ فورم کے طور پر متحرک رہی ہے اور راقم الحروف بھی اس کا ایک سرگرم کردار رہا ہے۔

یہ اجلاس ۱۴ اکتوبر کو جامعہ نعیمیہ لاہور میں ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کراچی کے اکابر علماء کرام کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعلامیے کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کی سرحدات کے اندر امریکی حملوں کی مذمت کی گئی، قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، سوات میں نفاذ شریعت کا مطالبہ بلا تاخیر منظور کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور پاکستان کے اندر خودکش حملوں کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ان خودکش حملوں میں بین الاقوامی عناصر زیادہ ملوث ہیں اور حکومت بھی ان کی ذمہ داری سے بری نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’’متحدہ علماء کونسل‘‘ کو ملک بھر میں دوبارہ متحرک و منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ ۱۹ اکتوبر کو متحدہ علماء کونسل کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں مولانا عبد المالک خان، مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا حافظ محمد یحیٰی مجاہد اور مولانا مفتی اطہر القادری کے علاوہ راقم الحروف بھی شریک تھا، یہ طے پایا کہ ۲۳ نومبر کو اسلام آباد میں ’’قومی علماء کنونشن‘‘ منعقد کر کے متحدہ علماء کونسل کی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا اور اس کنونشن میں تمام دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے سرکردہ زعماء کو شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ ملی و قومی مسائل میں عوام کو اجتماعی دینی راہنمائی مہیا کی جائے اور مشترکہ دینی مقاصد کے لیے رائے عامہ کو بیدار اور منظم کرنے کے لیے جدوجہد کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

دوسرا اجتماع ۱۹ اکتوبر کو ظہر کے بعد لاہور میں مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر میں مجلس کے سربراہ مولانا پیر سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا ایجنڈا قادیانیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور قادیانیوں کے بارے میں دستور و قانون کے فیصلے کو غیر مؤثر بنانے کی مبینہ سازشوں کے پس منظر میں رائے عامہ کو بیدار اور دینی حلقوں کو متحرک کرنے کا پروگرام طے کرنا تھا۔ اس اجلاس کی دعوت انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے راہنما مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل جناب عبد اللطیف خالد چیمہ اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے راقم الحروف کی طرف سے تھی۔ اجلاس میں مولانا محب النبی، مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا عبد المالک خان، مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی، مولانا محمد نعیم بٹ، مولانا محمد نعیم بادشاہ، الحاج عبد الرحمان باوا، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، جناب محمد متین خالد، مولانا شمس الرحمان معاویہ اور دیگر بہت سے سرکردہ حضرات نے شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی مجلس کے مبلغ مولانا عمر حیات نے کی جبکہ اس سے قبل مجلس کے مرکزی راہنما حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے خود ۱۷ اکتوبر کو میرے ہاں تشریف لا کر فرمایا کہ وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام میں مصروفیت کی وجہ سے تشریف نہیں لا سکیں گے البتہ مجلس کی نمائندگی کے لیے مولانا عمر حیات اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اجلاس میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان خبروں کا بھی جائزہ لیا گیا کہ قادیانیوں کے بارے میں ۱۹۷۴ء کے دستوری فیصلے اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو حدود آرڈیننس کی طرح سبوتاژ کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے تحت درپردہ لابنگ جاری ہے اور مختلف سرکاری محکموں میں قادیانی افسران کے تقرر اور ان کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

اجلاس میں ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے اس متفقہ رائے کا اظہار کیا گیا کہ اس صورتحال میں اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی طرح کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مشترکہ پلیٹ فارم کو دوبارہ متحرک کیا جائے اور اس کے لیے کل جماعتی مجلس عمل سے اپیل کی گئی کہ وہ اس سلسلہ میں جلد از جلد پیشرفت کرے۔ تاہم کل جماعتی مجلس عمل کے متحرک ہونے تک کام کے آغاز اور تسلسل کے لیے ’’متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات شامل ہوں گے اور جو قادیانیوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت میں مختلف حلقوں کی سرگرمیوں اور سازشوں کو بے نقاب کرنے اور دینی حلقوں اور رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے کام کرے گی۔

قارئین جانتے ہیں کہ میری ہمیشہ سے یہ کوشش، خواہش اور رائے رہی ہے کہ ملی و قومی مسائل پر دینی قیادت کے مشترکہ موقف کے اظہار اور مشترکہ دینی مقاصد کے لیے جدوجہد کی خاطر ایک ایسا فورم قومی سطح پر ضروری ہے جس پر مختلف دینی جماعتوں کے قائدین اور مکاتب فکر کے راہنما مل بیٹھ کر قوم کو متفقہ موقف دیں اور قومی و ملی مسائل میں عوام کی راہنمائی کریں۔ اس سے عوام کو حوصلہ ہوتا ہے، موقف میں وزن پیدا ہوتا ہے، دینی حلقوں کی وحدت کا اظہار ہوتا ہے حکومت اور دیگر متعلقہ حلقوں پر دباؤ پڑتا ہے، اور ہمارا ہمیشہ سے یہ تجربہ ہے کہ اس قسم کی مشترکہ محنت نہ صرف بہت سی خرابیوں میں رکاوٹ بن جاتی ہے بلکہ ہم نے تو ایسی بہت سی مشترکہ تحریکات کے نتیجے میں دینی مقاصد میں پیشرفت بھی کی ہے۔ اس لیے موجودہ معروضی حالات میں تمام مذہبی حلقوں اور دینی جماعتوں کو اپنی تمام تر ترجیحات اور تحفظات کے باوجود ان کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے اور ان کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ موجودہ حالات میں قوم کو مایوسی کی دلدل سے نکالنے کا کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔