حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ جون ۲۰۱۶ء

میرے مخدوم و محترم بزرگ استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ پرانے اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے، گوجرانوالہ کی قدیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم تھے۔ والد بزرگوار حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ گرامی تھے اور میں نے والد محترمؒ کو ان کا بے حد احترام کرتے ہوئے اور ان سے مختلف امور میں ہمیشہ راہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۲ء تک مسلسل تیرہ سال مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی خطابت میں ان کی نیابت و خدمت کا شرف حاصل رہا ہے اور ان کی وفات کے بعد سے اب تک یہ ذمہ داری سر انجام دے رہا ہوں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل جمعیۃ العلماء ہند کے سرگرم راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے، اس دور میں جمعیۃ کے ضلعی صدر بلکہ ایک مرحلہ میں کانگریس کے ضلعی صدر بھی رہے۔ سیاسی، علمی اور فقہی معاملات میں ان کی رائے کو ہمارے ہاں ہمیشہ سند اور دلیل کا درجہ حاصل رہا ہے۔ رؤیت ہلال اور دینی و سیاسی تحریکات کے معاملہ میں ان کے دور میں مرکزی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ) گوجرانوالہ کو پورے علاقے میں وہی مقام حاصل تھا جو پشاور میں مسجد قاسم علی خان کو حاصل ہے، بلکہ وہ مسجد قاسم علی خان کے سابق خطیب حضرت مولانا مفتی عبد القیوم پوپلزئیؒ کے دوستوں میں سے بھی تھے۔

میرے سامنے کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں ایک انتہائی نیک دل پولیس افسر سٹی انسپکٹر کے طور پر تعینات ہوئے، وہ دیندار اور خدا ترس آدمی تھے، علماء کرام کے ساتھ زیادہ میل جول رہتا تھا، پکے نمازی تھے اور اپنے عملہ کو بھی پابند رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے ایک موقع پر تجویز پیش کی کہ وہ شہر میں نمازوں کے لیے ایک ہی وقت مقرر کرانا چاہتے ہیں تاکہ اذان اور نماز ایک وقت میں ہوں اور نماز کے لیے بازار بند ہو جایا کریں۔ اکثر لوگوں نے ان کے اس جذبہ کو سراہا اور ان کی حمایت کی مگر مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے اس سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے لیے بازار بند کرانا شرعاً ضروری نہیں ہے۔ اور یہ لوگوں کو خواہ مخواہ حرج میں ڈالنے والی بات ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے اوقات میں گھنٹوں کی گنجائش دی ہے کہ اس دوران کسی وقت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے تو اس گنجائش کو محدود کر کے لوگوں کو ایک ہی وقت میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرنا شریعت کا تقاضہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقہ یعنی شیرانوالہ باغ اور بازار تھانے والا کے اردگرد مساجد میں نمازوں کے اوقات میں باہمی مشورہ کے ساتھ فرق رکھا ہوا ہے کہ دکاندار حضرات باری باری کسی نہ کسی مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کر لیں۔میری ذاتی رائے انسپکٹر صاحب کے حق میں تھی لیکن چونکہ میں سرکاری اجلاسوں میں حضرت مفتی صاحبؒ کی نمائندگی کرتا تھا اس لیے انہوں نے مجھے پابند کیا کہ اگر کسی اجلاس میں یہ بات آئی تو تم نے اس کی مخالفت کرنی ہے اور ان کو سمجھانا ہے کہ ایسا کرنا نہ تو شرعاً ضروری ہے اور نہ ہی حکمت کا تقاضہ ہے۔ مفتی صاحبؒ کی بات میں وزن تھا اس لیے انسپکٹر صاحب کو بات جلد سمجھ آگئی اور کسی اجلاس اور فیصلے کی نوبت نہ آئی۔

رؤیت ہلال کے بارے میں صورتحال یہ تھی کہ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ اسی طرح رؤیت ہلال کی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی جیسا کہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان ابھی تک اپنی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ رمضان المبارک اور عیدین کا چاند دیکھنے کے لیے شیرانوالہ باغ کی مسجد میں علماء کرام جمع ہو جایا کرتے تھے اور تمام مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث حتیٰ کہ شیعہ علماء بھی وہیں رجوع کرتے تھے۔ رات گئے تک شہادتوں کا انتظار رہتا تھا، گواہ لائے جاتے تھے، ان سے شہادت سنی جاتی تھی، رد و جرح ہوتی تھی اور اکثر اوقات سحری کے لگ بھگ فیصلہ ہوا کرتا تھا۔ پورے علاقہ میں جامع مسجد کے فیصلے کا انتظار کیا جاتا تھا، فون کے ذریعہ بھی رابطہ کیا جاتا تھا لیکن فون کی سہولت کم ہوتی تھی اس لیے بہت سے علاقوں کے لوگ خود جامع مسجد میں آکر بیٹھ جاتے تھے کہ فیصلہ سن کر واپس جائیں گے۔ حضرت والد گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ گکھڑ میں رہتے تھے مگر مسلسل رابطہ رکھتے تھے اور کوئی فیصلہ کرنے سے قبل دریافت کرتے تھے کہ جامع مسجد میں کیا فیصلہ ہوا ہے؟

رؤیت ہلال کی شب مرکزی جامع مسجد میں علماء کرام کی سرگرمیاں اور گہماگہمی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ مگر جب حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ جیسے اکابر کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو ہمارے ان دونوں بزرگوں یعنی مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے رؤیت ہلال کے سلسلہ میں قدیم سے چلا آنے والا یہ اہتمام یکسر ترک کر دیا۔ اس سے اگلے سال میں نے حضرت مفتی صاحبؒ سے دریافت کیا کہ رؤیت ہلال کے اہتمام کے لیے علماء میں سے کس کس کو بلانا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی ضرورت نہیں ہے، اب یہ ذمہ داری مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی ہے، وہ جو اعلان کریں گے اسی کے مطابق ہم عمل کریں گے، یہی بات حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے فرمائی۔ تب سے اسی پر ہمارے ہاں مسلسل عمل چلا آرہا ہے۔

(روزنامہ اسلام، لاہور، ۴ جون ۲۰۱۶ء)

میں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مولانا مفتی عبد الواحد قدس اللہ سرہ العزیز کے معاون اور نائب کے طور پر ذمہ داریاں ۱۹۶۹ء میں سنبھالی تھیں، لیکن اس سے قبل بھی ان کی غیر موجودگی میں جامع مسجد میں جمعہ پڑھانے کا متعدد بار اعزاز حاصل ہو چکا تھا۔ یہاں میں نے اپنے عمومی ماحول سے ایک مختلف بات یہ دیکھی کہ جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر خطیب کے سامنے لاوڈ اسپیکر پر نہیں دی جاتی، بلکہ مسجد کی حدود سے باہر امام کے سامنے حوض پر کھڑے ہو کر بغیر لاوڈ اسپیکر کے دی جاتی ہے۔ جبکہ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضرت صوفی صاحبؒ کا معمول یہ تھا کہ مؤذن جمعہ کی اذان ثانی لاوڈ اسپیکر پر امام صاحب کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا تھا۔ مجھے اس پر الجھن ہوئی تو میں نے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ سے دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک جمعہ کی اذان ثانی مسجد کی حدود سے باہر دینا بہتر ہے اور ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔ مسجد کے صحن کے آخر میں جو حوض ہے، وہ مسجد کا حصہ نہیں ہے، اس لیے ہم اعتکاف کرنے والوں کو وہاں تک جانے سے منع کرتے ہیں اور ہمارا مؤذن جمعہ کی اذان ثانی حوض پر امام کے سامنے کھڑے ہو کر دیتا ہے۔ میں نے اس کے بعد مزید اس مسئلہ کی کرید کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس لیے کہ اس قسم کے جزوی اور فروعی مسائل میں میرا ذوق اور معمول یہ ہے کہ جہاں کسی ذمہ دار بزرگ کے فتویٰ پر عمل ہو رہا ہو، میں وہاں اسی پر عمل کرتا ہوں اور ماحول کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہمارے اکابرمیں سے تھے، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کے استاذ تھے اور میں نے کئی بار حضرت والد محترمؒ کو بعض مسائل میں ان سے رجوع کرتے دیکھ رکھا تھا، اس لیے میں بھی کم وبیش بیالیس سال سے ان کے فتویٰ پر عمل کرتا آ رہا ہوں اور اب بھی اس پر کسی نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ لیکن اس کا پس منظر کافی عرصہ کے بعد اس وقت میر ے علم میں آیا جب حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی کی کتاب ”مطالعہ بریلویت“ سامنے آئی جس میں انہوں نے اس مسئلے کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہ فتویٰ دراصل مولانا احمد رضا خان کا تھا کہ جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر نہیں بلکہ مسجد کی حدود سے باہر ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ پر مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کا اپنے بہت سے معاصر علماءکرام سے تحریری مباحثہ بھی ہوتا رہا اور ان کے معاصر علماءکرام نے، جن میں دیوبندی اور بریلوی دونوں شامل ہیں، ان کے اس فتویٰ سے اتفاق نہیں کیا تھا مگر ہمارے ہاں مرکزی جامع گوجرانوالہ میں جمعہ کی اذان ثانی مسجد کی حدود سے باہر حوض پر دیے جانے کا انہی کی رائے کے مطابق معمول چلا آ رہا ہے۔

(ماہنامہ الشریعہ ۔ نومبر ۲۰۱۱ء)

اب سے ربع صدی پہلے کی بات کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد شہر کا تبلیغی مرکز ہوا کرتی تھی۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جامع مسجد کے خطیب تھے اور مجھے انہوں نے نائب کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی۔ حضرت مفتی صاحبؒ ہمارے ملک کے بڑے علماء میں سے تھے، حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے اور میرے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے استاذ محترم تھے۔ وہ تبلیغی جماعت کے ملکی سطح پر ذمہ دار حضرات میں شمار ہوتے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے بھی آخر وقت تک مرکزی ناظم رہے۔ ان کا شمار تبلیغی جماعت اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان دونوں کی ہائی کمان میں ہوتا تھا۔ تبلیغی جماعت کا شب جمعہ کا اجتماع مرکزی جامع مسجد میں ہوا کرتا تھا اور ہمارے ایک محترم بزرگ مرزا محمد یعقوبؒ شب جمعہ کو اکثر بیان کیا کرتے تھے۔ وہ کبھی کبھی حضرت مولانا محمد احمد بہاول پوری کی طرح موج میں آ کر رات کو بیان میں فرما دیا کرتے تھے کہ بزرگو دوستو! دین کا کام تو اب دعوت ہی کے راستے سے ہوگا، جلسوں سے کچھ نہیں ہوگا، جلوسوں سے کچھ نہیں ہوگا، ووٹوں سے کچھ نہیں ہوگا اور تحریکوں سے کچھ نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ اگلے روز مجھے اسی مسجد میں جمعہ پڑھانا ہوتا تھا، جبکہ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ گذشتہ ایک صدی سے دینی تحریکات کا مرکز چلی آ رہی ہے۔ تحریک آزادی، تحریک ختم نبوت، تحریک نفاذ اسلام، تحریک بحالیٔ مسجد نور، تحریک نظام مصطفیٰ اور اس جیسی درجنوں تحریکات میں جامع مسجد بیس کیمپ رہی ہے۔

مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کی ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ جب بھی دینی حوالے سے کوئی مسئلہ پیش آتا ہے، جامع مسجد میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام جمع ہو کر اس کے بارے میں مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں اور پھر اس کے مطابق تحریک منظم ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں شب جمعہ کے اجتماع میں مرزا محمد یعقوب صاحب مرحوم کا اس قسم کا کوئی بیان میرے لیے مسئلہ بن جاتا تھا اور میں اگلے روز دینی تحریکات کی اہمیت، جلوسوں جلسوں کی ضرورت اور دیگر متعلقہ امور پر خطبہ جمعہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیتا۔ متعدد بار ایسا ہوا کہ جس رات مرزا صاحب مرحوم ’’جلسوں سے کچھ نہیں ہوگا، جلوسوں سے کچھ نہیں ہوگا، تحریکوں سے کچھ نہیں ہوگا اور جیلوں میں جانے سے کچھ نہیں ہوگا’’ کی گردان پڑھتے، میں اگلے روز جمعہ کے اجتماع میں ’’دین کے لیے جلسہ کرنا بھی ثواب ہے، جلوسوں کا اہتمام بھی ثواب کی بات ہے، جیل میں جانا بھی ثواب ہے اور تحریک چلانا بھی ثواب کا کام ہے’’ کی گردان دہرا دیتا۔ اس سے اچھا خاصا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ مرزا صاحب مرحوم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے اور میرے لیے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے تحریکی کردار سے دست بردار ہونا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ کچھ دوستوں کی شکایت پر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ نے ہم دونوں کو طلب کر لیا اور ہمارا موقف سن کر جہاں مرزا صاحب مرحوم سے یہ کہا کہ وہ اس قسم کی باتیں بیان میں نہ کہا کریں، وہاں مجھ سے بھی فرمایا کہ میں جواب میں جلدی اور تیزی نہ دکھایا کروں۔ لیکن اس کے بعد یہ معاملہ اس طرح جلدی ٹھپ ہو گیا کہ تبلیغی جماعت کے حضرات نے اپنا مرکز اور شب جمعہ کا اجتماع مرکزی جامع مسجد سے مکی مسجد ڈیوڑھا پھاٹک میں منتقل کر لیا اور اس کے بعد قلعہ چند بائی پاس کے قریب اپنا نیا اور وسیع مرکز تعمیر کر لیا جہاں اب بحمد اللہ خوب کام ہو رہا ہے۔

(روزنامہ اسلام ۔ ۱۳ نومبر ۲۰۰۷ء)