قاری محمد عبد اللہؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۱ء

گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا۔ ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مفتیٔ شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے گاوں میں مسجد بنائی اور تعلیم القرآن کے مدرسہ کا آغاز کیا جس میں علاقہ کے سینکڑوں حضرات نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی۔ راقم الحروف کو ۱۹۷۰ء سےاس بستی میں جانے اور مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی مسلسل سعادت حاصل ہوتی رہی۔ قاری محمد عبد اللہ صاحبؒ نے اس مدرسہ میں سالہا سال تک حفظ قرآن کریم کی تدریس وتعلیم کی خدمات سرانجام دیں، پھر کچھ عرصہ تک مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے، اور اس کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ سے منسلک ہو گئے جہاں وہ بیماری اور معذوری تک مسلسل قرآن کریم کی خدمت کرتے رہے۔

قاری صاحب موصوف ایک اچھے استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلکی معاملات اور دینی تحریکات میں بھی سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے تھے اور ان کا خاص ذوق بزرگوں کی تقاریر اور بیانات کو ریکارڈ کر کے محفوظ کرنے کا تھا۔ امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کے خطبات وبیانات اور دروس ومواعظ کا ایک اچھا ذخیرہ انہوں نے ریکارڈ کر کے محفوظ کر رکھا ہے جو ان کا صدقہ جاریہ رہے گا۔

قاری محمد عبد اللہ صاحبؒ کے کم وبیش سب بیٹے دینی خدمات میں مصروف ہیں جبکہ سب سے بڑے بیٹے مولانا قاری عبید اللہ عامر جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ میں ایک عرصہ سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور شہر میں مسلکی جدوجہد اور دینی تحریکات میں پیش پیش رہتے ہیں۔ قاری صاحب کی نماز جنازہ پہلے جامعہ نصرۃ العلوم میں پڑھائی گئی، امامت کے فرائض راقم الحروف نے سرانجام دیے، جبکہ دوسری نماز جنازہ ان کے بڑے فرزند قاری عبید اللہ عامر صاحب نے گاؤں پڑھائی اور اس کے بعد انہیں کوٹلی ناگرہ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

ہم قاری صاحب مرحوم کی وفات پر ا س غم میں ان کے خاندان، تلامذہ، احباب اور دیگر متعلقین کے اس غم میں شریک ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان کے پس ماندگان کو صبر وحوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔