کلیۃ الشریعہ کے نصاب سے متعلق دو روزہ سیمینار

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ اگست ۲۰۰۶ء

میں دو روز سے جامعۃ الرشید کراچی میں ہوں۔ ۲۰ اگست اتوار کو عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے ہمراہ کراچی پہنچا تو سیدھا لانڈھی چلا گیا۔ معین آباد میں جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا حافظ اقبال اللہ نے علماء کرام کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مختلف احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ لانڈھی سے متحدہ مجلس عمل کے ایم پی اے مولانا احسان اللہ ہزاروی بھی اس نشست میں شریک تھے، وہ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں، جمعیت علماء اسلام کے سرگرم رہنما ہیں اور پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں بھی ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں، گلشن حدید فیز وَن کی جامع مسجد توحید میں ایک عرصہ سے خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، گزشتہ انتخابات میں لانڈھی سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے مگر بیماری کے باعث زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، شوگر کی زیادتی آنکھوں پر حملہ آور ہوئی ہے اور وہ بینائی سے کم و بیش محروم ہی ہوگئے ہیں، معمولی سا دکھائی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ وہ چونکہ پاکستان اسٹیل ملز کے علاقے میں رہتے ہیں اور ان کے مقتدیوں کی زیادہ تعداد اسٹیل ملز کے ملازمین پر مشتمل ہے، اس لیے میں نے ان سے عرض کیا کہ میں رات آپ کے ہاں رہنا چاہتا ہوں تاکہ وہاں کے احباب سے اسٹیل ملز کے بحران کے بارے میں معلومات حاصل کر سکوں۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ لے گئے، رات ہم نے وہیں قیام کیا اور چند احباب کے ساتھ متعلقہ امور پر بریفنگ کے انداز میں گفتگو ہوئی جس سے اسٹیل ملز کے حالیہ بحران کے بارے میں خاصی معلومات حاصل ہوئیں۔

۱۲ اگست پیر کو جامعۃ الرشید میں کلیۃ الشریعۃ کے نصاب پر نظرثانی کے حوالے سے دو روزہ سیمینار کے لیے صبح ساڑھے نو بجے حاضری ہوئی۔ شیخ الحدیث مولانا حسن جان دامت برکاتہم کی صدارت میں سیمینار کا آغاز ہوا اور دو روز میں اس کی مختلف نشستیں ہوئیں۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا عزیز الرحمن، مولانا محمد انور بدخشانی، مولانا مفتی محمد ازہر، مولانا عبد الرؤف غزنوی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کے علاوہ دارالعلوم زاہدان ایران سے مولانا مفتی محمد قاسم اور مولانا عبد القادر، جنوبی افریقہ سے علامہ سید سلیمان ندویؒ کے فرزند ڈاکٹر سید سلمان ندوی اور مولانا مفتی عبد الرحیم نے سیمینار سے خطاب کیا۔

جامعۃ الرشید نے گریجویٹس اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے دینی علوم کی تعلیم و تربیت کا پانچ سالہ کورس شروع کر رکھا ہے جس میں اس اہم ضرورت کی تکمیل کا اہتمام کیا جا رہا ہے کہ عصری تعلیم سے بہرہ ور حضرات کو دینی تعلیم و تربیت سے اس حد تک آراستہ کر دیا جائے کہ وہ قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک باشعور اور باکردار مسلمان کی طرح خدمات سرانجام دے سکیں۔ یہ کورس اب تیسرے سال کے اختتام کے مرحلے میں ہے اور اب تک کے تجربات کی روشنی میں اس کو مزید بہتر بنانے اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے ارباب علم و دانش کی یہ دو روزہ محفل سجائی گئی تھی جو بحمداللہ بہت مفید اور کامیاب رہی۔ آج اس کی آخری نشست کے بعد مجھ سے اس کے بارے میں تاثرات دریافت کیے گئے تو میں نے عرض کیا کہ خود ہم نے اس سے بہت استفادہ کیا ہے۔

دو روزہ سیمینار میں علماء کرام کی گفتگو کی رپورٹ تو مختلف حوالوں سے قارئین کے سامنے آ جائے گی اور اس میں پیش کی جانے والی تجاویز سے بھی قارئین آگاہ ہو جائیں گے، مگر میں ایک عمومی تاثر کے طور پر کچھ گزارشات اس موقع پر قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

مقررین کی گفتگو اور شرکاء کے تبصروں میں یہ عنصر خاصا اہم رہا کہ بحمد اللہ تعالیٰ دینی مدارس میں طلبہ اور طالبات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے شرکاء کو بتایا کہ اس سال پاکستان بھر میں پونے دو لاکھ کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات وفاق المدارس العربیہ کے تحت مختلف درجوں میں دینی تعلیم کا امتحان دے رہے ہیں اور اس رجحان میں دن بدن وسعت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ یہ خبر سیمینار کے شرکاء کے لیے خوشی کا باعث بنی، لیکن اس کے ساتھ یہ احساس بھی شدت کے ساتھ موجود رہا کہ تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیار میں کمی کا رجحان بھی سامنے آ رہا ہے اور کیفیت کے بجائے کمیت پر زیادہ زور دیا جانے لگا ہے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے بتایا کہ وفاق المدارس کے اکابرین بھی اس کا نوٹس لے رہے ہیں اور اعلیٰ سطح پر اس کے بارے میں سوچا جا رہا ہے کہ کیفیت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے کون سے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ بہرحال یہ بات بہت حد تک قابل اطمینان ہے کہ مدارس کے حلقوں میں تعلیمی دائرے کی وسعت پر خوشی کے ساتھ ساتھ معیار اور کیفیت کے متاثر ہونے کا احساس بھی پایا جاتا ہے اور ارباب حل و عقد اس کی طرف سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہیں۔

نصاب کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے اور اس میں وقت کے تقاضوں کے مطابق ضروری ردوبدل کے ساتھ ساتھ استاد اور طالب علم کے معیار کو بہتر بنانے کی بات بھی شرکاء سیمینار کی گفتگو میں غالب رہی۔ اس سلسلے میں مولانا عبد الرؤف غزنوی نے دارالعلوم دیوبند کے ایک عظیم بزرگ مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ کے حوالے سے ایک دلچسپ اور سبق آموز بات بتائی کہ حضرت بلیاویؒ فرمایا کرتے تھے کہ تعلیم کے تین ارکان ہیں: استاذ، طالب علم اور نصاب۔ ان میں سے دو جاندار ہیں اور ایک بے جان ہے۔ چونکہ نصاب بے جان ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا اور دوسرے دونوں جاندار رکن اپنا اپنا دفاع کر سکتے ہیں، اس لیے دونوں جاندار اپنی اپنی کوتاہیوں کا سارا بوجھ بے جان نصاب پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں، حالانکہ اصل کام معلم اور متعلم کا ہوتا ہے اور وہ اگر مخلص، باصلاحیت اور محنتی ہوں تو نصاب کی کمزوریوں کو رفع کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ استاذ کو صحیح معنوں میں استاذ بنایا جائے اور طالب علم میں طلب علم کا ذوق بیدار کیا جائے تاکہ وہ محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکے۔

سیمینار میں استاذ کی تربیت کا مسئلہ خصوصی طور پر زیر بحث رہا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کو نہ صرف تعلیم و تربیت کے فن سے مستقل طور پر آراستہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دینی و اخلاقی تربیت اور روحانی معیار کے حوالے سے بھی ان کی خصوصی تربیت ضروری ہے، کیونکہ استاذ صرف تعلیم نہیں دیتا بلکہ طالب علم کے ذہن، اعمال اور اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

کم و بیش تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کی فنی و عملی تربیت کا خصوصی نصاب طے کیا جائے اور کسی بھی مدرسہ میں تدریس کے منصب کے لیے اسے ضروری قرار دیا جائے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اس حوالے سے بتایا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے دستور میں اس سے قبل اساتذہ کی تربیت اہداف میں شامل نہیں تھی مگر اب دستور میں ترمیم کر کے اسے اہداف میں شامل کر لیا گیا ہے اور اس کے لیے نصاب اور دیگر ضروری امور کی ترتیب و تشکیل کا کام ہو رہا ہے۔

سیمینار میں تیسری اہم بات جو عام طور پر موضوع گفتگو رہی، نصاب میں جدید کتابوں سے استفادہ اور طرز تدریس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی تھی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کتاب فہمی کے ساتھ ساتھ علم اور فن کے ساتھ مناسبت کو بھی اہداف میں شامل کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے اساتذہ کی خصوصی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ پرانی کتابوں کے علاوہ مختلف علوم و فنون میں نئی کتابوں میں سے بھی انتخاب کیا جائے، مشکل زبان کے بجائے آسان زبان کو ترجیح دی جائے، علم و فن کو بطور علم و فن پڑھا جائے اور کتاب فہمی کے معیار کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے، خاص طور پر عربی زبان کی تعلیم میں جدید اسلوب اور طریق کار سے استفادہ کیا جائے۔ سیمینار کے صدر مولانا حسن جان دامت برکاتہم نے بھی اس طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ مشکل پسندی اور لفظوں اور جملوں کی غیر ضروری بحثوں سے گریز کرتے ہوئے علم اور کتاب کے مفہوم پر زیادہ توجہ دی جائے اور عربی زبان میں لکھنے پڑھنے کی مہارت پیدا کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

ایک اور اہم مسئلہ جس کا سیمینار میں متعدد شرکاء نے خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا، عقائد کی تعلیم کے نصاب اور مواد پر نظرثانی کا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ذکر کیا گیا کہ ہمارے ہاں منصوص عقائد کی بطور عقیدہ تعلیم سے زیادہ زور عقائد کے فلسفیانہ مباحث پر دیا جاتا ہے جبکہ اس سے قبل منصوص عقائد کی تعلیم ضروری ہے۔ دوسرا پہلو گفتگو میں یہ نمایاں رہا کہ اس وقت نصاب میں شامل عقائد کی کتابوں میں جن امور اور مباحث کا تذکرہ موجود ہے، وہ یونانی فلسفہ کی پیداوار ہیں مگر اب نئے دور میں مغربی فلسفہ نے عقائد کے حوالے سے جو مسائل کھڑے کر دیے ہیں اور جن شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، ان کا عقائد کی مروجہ نصابی کتابوں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

دو روزہ سیمینار کا اصل عنوان جامعۃ الرشید کے کلیۃ الشریعہ کا نصاب تھا لیکن عمومی گفتگو کا دائرہ درس نظامی کے مجموعی نظام و نصاب تک وسیع رہا اور اس ضمن میں کلیۃ الشریعہ کے نصاب پر بھی ایجنڈے کے ایک حصہ کے طور پر گفتگو ہوتی رہی۔ کم و بیش سبھی شرکاء نے کلیۃ الشریعہ کی اہمیت و ضرورت سے اتفاق کیا اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس میں مزید بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں۔ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے دینی تعلیم کے اہتمام کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس کے ساتھ اس ضرورت کا ذکر بھی کیا گیا کہ جس طرح جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے دینی تعلیم کے اس طرح کے کورسز ضروری ہیں، اسی طرح دینی مدارس کے فضلاء کے لیے بھی عصری علوم کے کورسز کی ضرورت ہے۔ بعض ارباب علم نے اس طرف توجہ دلائی کہ جدید علوم سے اجمالی واقفیت اور ان کی بنیادی اصطلاحات اور معلومات سے آگاہی تو ہر عالم دین کے لیے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر علماء کرام قومی زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات کو ان کی زبان، اسلوب اور اصطلاحات میں دین کی تعلیم اور پیغام نہیں پہنچا سکیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری شعبوں میں تخصص کے درجات کا قیام بھی اہم ضرورت ہے۔ ذہین علماء کرام کو معیشت کے جدید علم اور بینکاری کی تعلیم دی جانی چاہیے، کیونکہ اسلامی بینکاری کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے لیکن انہیں اسلامی علوم سے بہرہ ور ماہرین معیشت مشورہ اور رہنمائی کے لیے نہیں مل رہے اور اس شعبہ میں بڑا خلا پایا جاتا ہے۔ صحافت کا ذوق رکھنے والے علماء کو اردو، عربی اور انگلش میڈیا کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے صحافت کی تربیت دی جانی چاہیے کیونکہ میڈیا آج کے دور کا بڑا ہتھیار ہے اور اسلامی عقائد و احکام کے خلاف پروپیگنڈا اور مسلمانوں کی کردارکشی کا سب سے بڑا مورچہ یہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ علماء کرام اس شعبہ میں آگے بڑھیں اور پوری مہارت اور تکنیک کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے فروغ اور اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب و دفاع کے لیے شعوری محنت کریں۔

جامعۃ الرشید کی یہ کوشش قابل داد ہے کہ اس نے ایک اہم موضوع پر ملک بھر سے ارباب علم و دانش کو جمع کیا اور فکری و علمی مباحثہ کا اہتمام کر کے تعلیم و تربیت کے شعبہ میں اجتماعی مشاورت اور راہنمائی کا ایک فورم قائم کیا۔ راقم الحروف نے اپنی گفتگو کا آغاز اسی سے کیا کہ جامعۃ الرشید اور اس کی سرگرمیاں میرے بہت پرانے خواب کی عملی تعبیر ہے، اس لیے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس پر سب سے زیادہ خوشی مجھے ہوئی ہے اور میں اس کی مسلسل ترقی اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعاگو رہتا ہوں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: