’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘

   
تاریخ بیان: 
۲۱ مارچ ۲۰۱۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم سب کے لیے سعادت کی بات ہے کہ جناب سرور کائناتؐ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہونے والی مبارک محفل میں بیٹھے ہیں، مختلف حوالوں سے آقائے نامدارؐ کا ذکر کر رہے ہیں اور سن رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائیں اور عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے آج کی مختصر گفتگو میں ایک دو کا تذکرہ ہی ہو سکے گا۔ میں خود کو اور آپ حضرات کو توجہ دلانا چاہوں گا کہ ہم عام طور پر جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ کس مقصد کے لیے کرتے ہیں اور یہ تذکرہ کس حوالہ سے ہونا چاہیے؟

  1. ہم حضور علیہ السلام کا تذکرہ ان کے ساتھ اپنی نسبت کے اظہار کے لیے کرتے ہیں جس سے یہ بتانا مقصد ہوتا ہے کہ ہم ان سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور نسل انسانی کی تقسیم میں ہم ان کے کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تذکرہ ہوتا تو نبی اکرمؐ کے ساتھ نسبت کے اظہار کے لیے ہے لیکن دراصل یہ ہماری شناخت ہوتی ہے کیونکہ کسی مسلمان کی واحد شناخت یہ ہے کہ وہ جناب نبی اکرمؐ کا امتی ہے اور اس شناختی کارڈ کے بعد ہمیں کسی اور شناخت کے اظہار کی ضرورت نہیں رہتی۔
  2. دوسرے نمبر پر ہم جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ محبت کے اظہار کے لیے کرتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا تذکرہ اکثر کیا جاتا ہے۔ عربی کا محاورہ ہے کہ ’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘ جو آدمی جس چیز سے محبت کرتا ہے اس کا اکثر ذکر کرتا رہتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے جناب نبی اکرمؐ سے زیادہ محبوب مخلوقات میں اور کوئی نہیں ہے اس لیے وہ اپنے محبوبؐ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے اور اس سے حظ اور لطف اٹھاتا ہے۔
  3. تیسرے نمبر پر جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ ثواب اور اجر کے حصول کے لیے ہوتا ہے کہ آپؐ کا تذکرہ کریں گے تو ثواب ہو گا، اجر ملے گا اور درجات بلند ہوں گے۔ یقینًا یہ ثواب ملتا ہے اور اجر حاصل ہوتا ہے، اور تذکرہ رسولؐ ہمارے لیے ثواب کمانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ دوسری کوئی بات ذہن میں آتی ہو یا نہیں کم از کم یہ بات تو ضرور ہے کہ نبی اکرمؐ کے تذکرہ کے ساتھ ایک بار درود شریف ضرور پڑھنا ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص نبی اکرمؐ پر ایک بار درود پڑھتا ہے میں اسے دس گنا اجر عطا کرتا ہوں۔ اس لیے آقائے نامدارؐ کا تذکرہ ہمارے لیے کمائی کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔
  4. چوتھے نمبر پر ہم جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور برکات ملتی ہیں۔ نبی کریمؐ خود سراپا رحمت ہیں اور آپ کا تذکرہ جہاں ہوتا ہے وہاں رحمتوں اور برکتوں کا صرف نزول نہیں ہوتا بلکہ ان کی بارش ہوتی ہے۔
  5. پانچویں نمبر پر ہم جناب رسول اکرمؐ کا تذکرہ اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں، اس لیے کہ دوست کے ذکر سے ہر دوست کو خوشی ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے ہمارے کسی دوست کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا جائے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے اور ہم اس کا اظہار بھی کرتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے حبیبؐ کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں اور ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے۔

یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو ضرور حاصل ہوتی ہیں اور ان مقاصد کے لیے ذکر رسولؐ ضرور کرنا چاہیے۔ لیکن میں یہ عرض کروں گا کہ یہ سب وہ فائدے ہیں جو ہم حاصل کرتے ہیں، اور جس طرح کسی کاروباری شخص کو سب سے زیادہ دلچسپی اپنے نفع اور فائدہ سے ہوتی ہے اسی طرح ہم بھی انہی امور کو ترجیح دیتے ہیں جن میں نفع ملتا ہو اور فائدہ حاصل ہوتا ہو، یہ کوئی غلط بات نہیں ہے ان فوائد کا حصول ہر مسلمان کی ضرورت ہے۔ البتہ ذکر رسولؐ کا ایک اور اہم پہلو جو ہماری نگاہوں سے اکثر اوجھل رہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے آخری رسولؐ کا تذکرہ راہنمائی حاصل کرنے کے لیے کریں اور ان کی جس بات کا ذکر کریں اس پر عمل کی کوشش بھی کریں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ ہمارے تعلق کے حوالہ سے فرمایا ہے کہ وہ تمہارے لیے ’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہیں، نمونہ حیات ہیں اور آئیڈیل ہیں، اور تمہارا کام یہ ہے کہ ان کے نقش قدم پر چلو، ان کی پیروی کرو اور ان کی عادات و اخلاق کو اپنانے کی کوشش کرو۔ حضرات صحابہ کرامؓ کی اولین ترجیح یہی ہوتی تھی اور وہ رسول اللہؐ کی مختلف باتوں کا تذکرہ کر کے ان پر عمل کا اہتمام کرتے تھے۔ احادیث مبارکہ میں اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں، میں ان سے صرف ایک دو جھلکیاں آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو اللہ تعالیٰ نے عجیب ذوق سے نوازا تھا، وہ صرف پیروی نہیں کرتے تھے بلکہ وقت، مقام اور طریقہ بھی وہی اختیار کرتے تھے جو اس کام کے لیے نبی اکرمؐ نے اختیار کیا ہوتا تھا۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی کے دن عیدگاہ میں نماز پڑھانے کے بعد قربانی کا جانور ذبح کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ زندگی بھر یہی کرتے رہے لیکن اس کے ساتھ اس بات کا اہتمام بھی کرتے تھے کہ جس جگہ پر حضور علیہ السلام نے جانور ذبح کیا ہے اسی مقام پر وہ بھی ذبح کرتے تھے۔ یہ اگرچہ ذوق کی بات ہے مسئلہ کی نہیں ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اس کا اہتمام بھی کرتے تھے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے، ان کے شاگرد حضرت نافعؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عمرؓ نے مجھے فرمایا کہ نافع! مجھے ذرا بازار لے چلو میں ان کا ہاتھ تھام کر انہیں بازار لے گیا اور وہ بازار کا ایک چکر لگا کر واپس آگئے۔ میں نے پوچھا کہ بازار کس کام کے لیے گئے تھے؟ اس لیے کہ انہوں نے بازار میں کوئی کام تو کیا نہیں صرف چکر لگا کر آگئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں جس کام کے لیے گیا تھا وہ کر کے آیا ہوں، آتے جاتے مجھے کچھ لوگ ملے جنہوں نے مجھے سلام کیا اور میں نے جواب دیا، کچھ کو میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا، میں اسی کام کے لیے بازار گیا تھا۔ نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ یہ ہے کہ وہ بازار جاتے ہوئے ملنے والوں کو سلام کہتے تھے اور ان کے سلام کا جواب دیتے تھے، میں کافی دنوں سے بازار نہیں گیا تھا اس لیے آج جی چاہا کہ اس سنت پر عمل ہونا چاہیے اور میں اسی کام کے لیے بازار گیا تھا جو کر کے واپس آگیا ہوں۔ جناب نبی اکرمؐ کے تذکرہ کے حوالہ سے حضرات صحابہ کرامؓ کے اسی طرز اور ذوق کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے ذوق کے حوالہ سے ایک اور بات کا ذکر بھی آج کی محفل میں کرنا چاہوں گا جو اگرچہ مسئلہ کی بات نہیں لیکن ذوق کا معاملہ ضرور ہے اور اس سے مسئلہ اور ذوق کے درمیان فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کا ذوق تھا کہ وہ سنت پر عمل بھی کرتے تھے اور اس کے وقت جگہ اور طریقِ کار کا بھی اسی طرح اہتمام کرتے تھے۔ وہ ہر سال حج کو جاتے تھے اور بعینہ اسی ترتیب کے ساتھ جاتے تھے جس ترتیب کے ساتھ نبی اکرمؐ نے حج فرمایا تھا اور اس ساری ترتیب کو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اپنے دماغ کے کمپیوٹر میں محفوظ کر رکھا تھا۔ جس جگہ نبی اکرمؐ نے احرام باندھا وہیں سے احرام باندھتے تھے، جس مقام پر پہلی رات قیام کیا اسی جگہ قیام کرتے تھے، جس جگہ دوسرے دن ظہر پڑھی وہیں پڑھتے تھے اور جس پتھر کے ساتھ تیسرے دن قیلولہ کیا وہیں قیلولہ کرتے تھے۔ یہ مسئلہ کی نہیں بلکہ ذوق کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ کسی کو نصیب فرما دیں تو بڑی سعادت کی بات ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ منٰی میں جس جگہ نبی اکرمؐ کا خیمہ لگا تھا حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی اسی جگہ خیمہ لگاتے تھے۔ ایک بار منٰی جاتے ہوئے کسی شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ منٰی میں کس جگہ لگایا گیا تھا؟ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اسے یہ کہہ کر ڈانٹ دیا کہ تجھے اس سے کیا؟ جہاں امیر حج کہتا ہے وہاں خیمہ لگاؤ اور جہاں جگہ ملتی ہے وہاں لگاؤ، محدثین کرامؒ فرماتے ہیں کہ اس بات سے حضرت ابن عمرؓ کے دو مقصد تھے۔ ایک یہ کہ مسئلہ کی بات نہیں بلکہ ذوق کی بات ہے جو ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہے، اور دوسرا یہ تھا کہ اگر اس نے میرے بتانے پر پہلے سے جا کر وہاں اپنا خیمہ گاڑ دیا تو میں کہاں خیمہ لگاؤں گا؟

اسی طرح کا واقعہ حضرت ابو ہریرہؓ کا بھی ہے، احادیث میں آتا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مسلمانوں کے وضو کے اعضا چمک رہے ہوں گے اور نبی اکرمؐ اس سے مسلمانوں کو پہچانیں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ ایک روز مسجد کی چھت پر وضو کر رہے تھے اور بازوؤں کو کہنیوں کی بجائے کندھوں تک دھو رہے تھے، اسی طرح پاؤں کو ٹخنوں کی بجائے گھٹنوں تک دھو رہے تھے۔ ایک شخص نے جو یہ منظر دیکھ رہا تھا ان سے پوچھ لیا کہ حضرت! یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت ابو ہریرہؓ نے پہلے تو یہ فرمایا کہ اچھا تو بھی دیکھ رہا تھا؟ پھر وضاحت فرمائی کہ میں اپنے وضو کے اعضا کی چمک کو بڑھا رہا تھا یعنی پاؤں کے ساتھ ٹانگوں کو اور بازوؤں کے ساتھ کندھوں کو بھی اس چمک کا حصہ بنا رہا تھا۔ یہ بات حضرت ابو ہریرہؓ نے بطور مسئلہ نہیں بتائی لیکن خود اس کی کوشش کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض معاملات کا تعلق سنت اور مسئلہ سے ہوتا ہے اور بعض کا ذوق سے ہوتا ہے جو ہر ایک کے لیے ضروری نہیں ہوتا، ہمارے ہاں بعض مسائل اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

بہرحال میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ ہمیں اپنی نسبت کے اظہار کے لیے، اپنی شناخت کے لیے، ثواب کے لیے، محبت کے لیے، برکات کے حصول کے لیے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ضرور کرنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ راہنمائی کا حصول بھی ہمارا مقصد ہونا چاہیے اور جس بات کا تذکرہ کریں اس پر عمل کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔