راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جنوری ۲۰۱۷ء

اکیس تا تئیس جنوری کے تین دن راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ میں گزرے۔ راولپنڈی کے آرٹس کونسل ہال میں ’’خدمتِ قرآن ٹرسٹ‘‘ کی ایک تقریب میں شرکت ہوئی، حافظ محمد بلال فاروقی اس سفر میں ہمراہ تھے۔ خدمتِ قرآن ٹرسٹ راولپنڈی کے کچھ باذوق علماء کرام نے اس مقصد کے لیے قائم کر رکھا ہے کہ قرآن کریم کی تعظیم و تکریم کا شعور بیدار کیا جائے اور قرآن کریم کی طباعت کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے اوراق کی بے حرمتی کے اس رجحان پر قابو پایا جائے جو بے شعوری کی وجہ سے مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان تقریب میں مہمانِ خصوصی تھے اور سرکردہ علماء کرام اور تاجر حضرات نے اس میں اپنے تاثرات و جذبات کا اظہار کیا ۔مولانا قاضی ظہور احمد اور ان کے رفقاء کی یہ تنظیم کئی سالوں سے سرگرم عمل ہے اور اس سلسلہ میں کام کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ بھی وہ رابطہ میں رہتے ہیں۔

میں نے اس موقع پر گزارش کی کہ اس حوالہ سے بہت سا کام متفرق طور پر ملک کے مختلف حصوں میں ہو رہا ہے اور قانون سازی بھی کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ بالخصوص حکومت پنجاب کے قرآن بورڈ نے اس سلسلہ میں خاصی پیش رفت کر رکھی ہے اس لیے زیرو پوائنٹ سے ازسرنو کام شروع کرنے کی بجائے اب تک ہو جانے والے کام کو جمع کیا جائے، کام کرنے والی تنظیموں و اداروں میں رابطہ قائم کیا جائے اور باہمی مشاورت کے ساتھ اس کے ضروری پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک دوسرے کے تجربات و مشاہدات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ پروگرام طے کیا جائے۔

عصر کے لگ بھگ اس پروگرام سے فارغ ہو کر ہم نوشہرہ روانہ ہوئے اور جامعہ ابوہریرہؓ میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی نائب امیر مولانا عبد القیوم حقانی کے ہاں رات رہے۔ انہوں نے عشاء کی نماز کے بعد طلبہ سے گفتگو کے لیے کہا جس کی تعمیل میں موجودہ عالمی اور ملکی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے طلبہ سے عرض کیا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنے علم کو پختہ کریں اور تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں۔ اس لیے کہ علمی استعداد اور صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی اسی قدر آج کے فکری اور علمی فتنوں کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ جبکہ ادھورا علم اور ناقص استعداد خود فتنوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے ’’ملاّ‘‘ بننے کی کوشش کریں اور ’’نیم ملاّ‘‘ نہ بنیں کیونکہ نیم ملا ہمیشہ ایمان کے لیے خطرہ ثابت ہوتا ہے۔

صبح نماز فجر کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر جامعہ عثمانیہ پشاور میں حاضری ہوئی جو مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں ایک عرصہ سے وقیع علمی و دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے بڑے اور باوقار علمی اداروں میں شما رہوتا ہے۔ مفتی صاحب محترم نے تخصص فی الحدیث اور تخصص فی الفقہ کی کلاسوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے سامنے آج کے حالات کے تناظر میں کچھ عرض کروں۔ میں نے آج کے دور میں اجتہاد کے بارے میں پائے جانے والے تصورات اور تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی جس کا خلاصہ ان شاء اللہ تعالیٰ ماہنامہ نصرۃ العلوم فاروق گنج گوجرانوالہ کے فروری کے شمارے میں شائع ہو رہا ہے اور ان گزارشات کے ساتھ تخصص کے طلبہ سے دو باتیں بطور خاص عرض کیں۔ ایک یہ کہ علم میں ترقی اور اضافے سے زندگی بھر کبھی بے پرواہی نہ کریں، یہ زندگی کے آخری سانس تک جاری رہنے والا عمل ہے۔ اور مطالعہ و تحقیق اور تعلیم و تدریس کے ذریعہ ہی علم تازہ رہتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کتابوں کے ساتھ ساتھ سماج کا بھی مطالعہ کریں اس لیے کہ اپنے اردگرد کے ماحول کو اچھی طرح سمجھیں گے تبھی علم اور معاشرے میں صحیح مطابقت پیدا کر سکیں گے۔

ہماری پشاور حاضری دراصل خطیبِ اسلام حضرت مولانا محمد امیر بجلی گھرؒ کی یاد میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے لیے تھی جو اس روز سول کوارٹرز کے وسیع گراؤنڈ میں منعقد ہوئی اور سرکردہ علماء کرام اور زعماء نے اس سے خطاب کیا۔ مولانا محمد امیر بجلی گھرؒ اپنے دور کے بڑے خطباء میں سے تھے، پشتو زبان کے مقبول ترین واعظ و خطیب تھے۔ انہوں نے عام مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے زندگی بھر مسلسل جدوجہد کی اور لاکھوں لوگوں نے ان سے استفادہ کیا۔ ان کے ساتھ میرا نیاز مندی کا تعلق تھا اور ان کے ہاں آنا جانا رہتا تھا۔ اب ان کے فرزند مولانا محمد قاسم بجلی گھر اور ان کے برادران و اہل خاندان اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اس کانفرنس میں مولانا محمد امیر بجلی گھرؒ کی دینی و اصلاحی خدمات کے حوالہ سے چند معروضات پیش کیں اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کے تلامذہ اور فرزندانِ گرامی ان کے مشن اور کام کو بحمد اللہ تعالیٰ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کانفرنس میں حاضری کے بعد چارسدہ روانگی ہوئی جہاں ہمارے ایک عزیز شاگرد حافظ تحمید جان کی شادی تھی جو دارالعلوم حقانیہ کے فضلاء میں سے ہیں اور جامعہ ازہر قاہرہ سے بھی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ وہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے سابقہ طالب علم اور ہمارے مخلص ساتھیوں میں سے ہیں۔ بلکہ وہ اور ان کے ساتھی مولانا شبیر احمد اب بھی ذہنی طور پر الشریعہ اکادمی کے ماحول میں ہی رہتے ہیں۔ چنانچہ اکادمی کا پورا گروپ جو مولانا حافظ وقار احمد، مولانا حافظ عبد الرشید، حافظ محمد بلال فاروقی اور حافظ شہزاد عباسی پر مشتمل تھا، گوجرانوالہ سے جا کر میرے ساتھ ان کی شادی میں شریک ہوا۔ ہمارے محترم دوست ڈاکٹر قبلہ ایاز، مولانا اسرار مدنی اور مولانا محمد ادریس اعوان بھی شادی میں شریک تھے۔ اس طرح یہ شادی ہم خیال دوستوں کی ملاقات اور خوشگوار گپ شپ کا مزہ بھی دے گئی۔

مغرب کے بعد ہم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پہنچے، خیال تھا کہ حضرت مولانا سمیع الحق کے ساتھ گزشتہ دنوں افغان حکومت کے سرکردہ حضرات کی جو بات چیت ہوئی ہے اس کی کچھ تفصیلات معلوم ہو جائیں گی لیکن مولانا موصوف اکوڑہ میں موجود نہیں تھے۔ البتہ ان کے فرزند مولانا راشد الحق سمیع سے ملاقات ہوئی اور ان سے بہت سی مفید معلومات حاصل ہوئیں۔ اس روز عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما خان عبد الولی خان مرحوم کے والد خان عبد الغفار خان مرحوم کی برسی بھی تھی جس کی وجہ سے سڑکوں پر رش تھا۔ پشاور سے چارسدہ آتے ہوئے سرخ جھنڈے اٹھائے متعدد قافلے سڑکوں پر رواں دواں نظر آئے۔ یہ سرخ پوش اپنے عظیم قائد کے ساتھ محبت و عقیدت کا مظاہرہ کر رہے تھے جبکہ میرے ذہن میں تحریکِ آزادی کے لیے خان عبد الغفار خان مرحوم کی جدوجہد او رخدمات کے مناظر گھوم رہے تھے۔

اکوڑہ خٹک سے روانہ ہو کر ہم رات دس بجے کے لگ بھگ اسلام آباد میں مولانا محمد رمضان علوی کے ہاں پہنچے۔ رات ان کے ہاں گزاری، وہ ہمارے باشعور اور باذوق ساتھیوں میں سے ہیں او رجمعیۃ علمائے اسلام (س) او رپاکستان شریعت کونسل کے کاموں میں مسلسل شریک رہتے ہیں۔ تئیس جنوری کو صبح ناشتہ کے بعد مولانا محمد رمضان علوی نے ہمیں فیض آباد بس اسٹینڈ پر پہنچایا اور ہم واپس گوجرانوالہ کی طرف روانہ ہوگئے۔