یاسر عرفات مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ نومبر ۲۰۰۴ء

یاسر عرفات بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہیں رملہ میں ان کے ہیڈکوارٹر میں امانتاً سپرد خاک کیا گیا ہے اور فلسطینی قیادت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کی اس ریاست میں شمولیت کے بعد انہیں بیت المقدس میں دفن کیا جائے گا۔ یاسر عرفات کے جنازے پر فلسطینی عوام اور ان کے عقیدت مندوں کے بے پناہ ہجوم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے میں متنازعہ ہوجانے کے باوجود فلسطینی عوام کے محبوب ترین رہنما تھے اور انہیں اپنے وطن کے عوام کی ایک بڑی اکثریت کی محبت او رعقیدت حاصل تھی۔

یاسر عرفات کا نام میں نے پہلی بار ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اس وقت سنا جب وہ فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے بعد فلسطین کی مزاحمتی تحریک کے قائد کے طور پر منظر پر نمودار ہوئے۔ اس سے قبل بھی وہ ایک فلسطینی مزاحمتی گروپ کی قیادت کر رہے تھے لیکن ۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں مصر، شام اور اردن کی خوفناک شکست اور صحرائے سینا اور گولان پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد جب فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے مختلف گروپوں نے یکجا ہو کر مشترکہ طور پر تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا اور یاسر عرفات کو اس کا متفقہ لیڈر منتخب کیا گیا تو عرفات کا نام فلسطین اور فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی علامت کی حیثیت اختیار کر گیا۔

وہ میرا طالب علمی کا دور تھا اور میں جمعیۃ علماء اسلام کی سرگرمیوں میں شریک ہوا کرتا تھا۔ اس دور میں مصر کے صدر جمال عبد الناصر مرحوم ہماری سیاسی عقیدت کا مرکز و محور تھے اور ہم یہ سمجھتے تھے کہ عالم اسلام میں وہی مضبوط اور قدآور شخصیت ہیں جو عالم اسلام اور عرب دنیا کے خلاف مغربی استعماری جارحیت او رسازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے عرب دنیا اور فلسطین کے حوالے سے ہماری ذہنی و فکری ترجیحات صدر جمال عبد الناصر مرحوم کی پالیسیوں کے حوالے سے تشکیل پاتی تھیں۔ جمال عبد الناصر عرب قوم پرستی کے علمبردار تھے، وہ امریکی اور مغربی استعمار کے شدید ترین مخالف تھے اس لیے بائیں بازو اور روسی بلاک کی طرف ان کا میلان ہمارے نزدیک زیادہ قابل اعتراض بات نہیں تھی۔ ہم یہ کہہ کر ان کا دفاع کیا کرتے تھے کہ یہ وقت کی ضرورت ہے، حالات کا جبر ہے اور اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ یاسر عرفات کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔ وہ بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے قوم پرست فلسطینی رہنما سمجھے جاتے تھے اور ایک لبرل مسلمان کے طور پر پہنچانے جاتے تھے۔ اس لیے انہیں مسلسل جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں کی دلی ہمدردیاں حاصل رہیں۔

دائیں بازو اور بائیں بازو کی عالمی کشمکش میں پاکستان واضح طور پر امریکہ کا حلیف تھا اور اس کے ساتھ سیٹو اور سینٹو کے معاہدات میں شریک تھا۔ اس لیے پاکستان کے ساتھ فاصلے کو قائم رکھنا یاسر عرفات کی مجبوری تھی۔ پھر جب اردن میں فلسطینی حریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کے خلاف مسلح ریاستی کارروائی ضروری سمجھی گئی اور اس میں پاکستان کے فوجی دستوں نے اہم کردار ادا کیا تو یہ فاصلے مزید بڑھ گئے اور بہت سے پاکستانی حلقوں کو یہ شکایت ہونے لگی کہ پاکستان تو فلسطینی عوام کی حریت و آزادی کی غیر مشروط حمایت کر رہا ہے اور اسرائیل دشمنی میں پیش پیش ہے مگر فلسطینی قیادت اور یاسر عرفات کی جانب سے پاکستان کو مسئلہ کشمیر سمیت اہم معاملات میں وہ حمایت میسر نہیں ہے جس کی پاکستانی عوام کو ان سے توقع رہتی ہے۔

پھر افغانستان میں روس کی مسلح افواج کی آمد نے حالات کا سارا نقشہ تبدیل کر دیا۔ پاکستان کے وہ دینی حلقے جو امریکہ اور روس کی عالمی کشمکش میں کسی حد تک بائیں بازو کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، اپنے افغان بھائیوں کی حمایت میں روس کے مقابل جا کھڑے ہوئے جس کا فائدہ ظاہر ہے کہ عالمی سیاست میں امریکہ کو ہونا تھا۔ چنانچہ وہی ہوا اور افغان عوام کی روسی جارحیت کے خلاف مسلح جدوجہد کی پشت پناہی کر کے امریکہ نے اس مسلح مزاحمت اور اس کی پاکستانی حمایت دونوں کو اپنے پلڑے میں ڈال لیا۔ جس کے مثبت اور منفی نتائج اب تک سامنے آرہے ہیں اور خدا جانے کب تک ان کا ظہور ہوتا رہے گا۔

ادھر یاسر عرفات کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اسرائیل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عسکری قوت، امریکہ کی طرف سے اس کی مکمل اور غیر مشروط پشت پناہی اور افغانستان کی جنگ میں الجھ کر روسی بلاک کے بکھرنے کے عمل نے یاسر عرفات کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب فلسطین میں جو کچھ بھی ہوگا امریکہ کی مرضی سے ہوگا اور فلسطینی عوام کو اگر کچھ ملنا ہے تو اسی سے ملنا ہے۔ اس لیے انہوں نے معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے کم سے کم پر قناعت کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی حدود طے کرتے ہوئے امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا۔ دوستی کا یہ ہاتھ یکطرفہ تھا جس کے ذریعے یاسر عرفات نے فلسطینی مسئلے کے حل کو مکمل طور پر امریکہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ہمارے نزدیک یہ ان کی ’’اجتہادی‘‘ غلطی تھی لہٰذا نظری اور اصولی طور پر ہم نے برملا اس سے اختلاف کیا لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کے سوا ان کے پاس او رکوئی آپشن نہیں تھا اور کوئی دوسرا دروازہ نہیں تھا جسے وہ کھٹکھٹاتے۔ اس لیے کہ سوویت یونین بکھر چکا تھا اور اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کی کوئی حیثیت نہیں تھی چنانچہ ان کے پاس دو ہی راستے تھے۔ ایک یہ کہ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ غیظ و غضب کا نشانہ بن کر منظر سے بالکل ہی غائب ہو جائیں یا خود کو امریکی ایجنڈے کے ساتھ نتھی کر کے جو کچھ بھی حاصل ہو سکتا ہے کرلیں، اور جو کچھ بھی بچایا جا سکتا ہو بچا لیں۔ یاسر عرفات نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور پھر اپنی تمام تر تگ و دو کو اسی نکتے پر مرکوز کر لیا۔

یاسر عرفات کی اس رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ہمیں بھی اس سے اختلاف ہے۔ لیکن یہ بات بھی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ انہوں نے مسلح جدوجہد ترک کرنے کے بعد ’’مذاکرات کے ذریعے امن‘‘ کے امریکی ایجنڈے کو قبول کر کے فلسطینی عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کی جو جدوجہد کی اس میں انہیں مسلح جدوجہد سے زیادہ قربانیاں دینا پڑیں اور اس سے کہیں زیادہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر پورے فلسطین کی آزادی کی بجائے صرف بائیس فیصد علاقے پر آزاد فلسطینی ریاست کے فارمولے کو قبول کیا۔ انہوں نے امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے ایک ایسی ’’فلسطینی اتھارٹی‘‘ کی صدارت کا تحقیر آمیز تمغہ اپنے سینے پر سجا لیا جس کا زمین پر کوئی وجود نہیں تھا۔ انہوں نے زندگی کے آخری دو سال اپنے ہیڈکوارٹر میں محصوری کے عالم میں بسر کیے۔ یہ سب کچھ کس لیے تھا، صرف اس لیے کہ امریکہ نے فلسطینی عوام سے ان کے وطن عزیز کے ایک چوتھائی سے بھی کم رقبے پر ’’آزاد فلسطینی ریاست‘‘ کے قیام کا جو وعدہ کر رکھا ہے وہ اس پر قائم رہے اور اسے اس سے منحرف ہونے کا کوئی جواز فراہم نہ ہو۔

مگر یاسر عرفات کی ان قربانیوں کا صلہ امریکہ نے کیا دیا؟ یہی کہ آخر میں یاسر عرفات کو فلسطینیوں کا جائز نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے ساتھ فلسطین کے مسئلہ پر گفتگو کا دروازہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ یاسر عرفات جسے فلسطینی عوام کی اکثریت نے اپنا لیڈر چنا تھا اور جس کی موت پر فلسطینی عوام نے دیوانہ وار جمع ہو کر دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا کہ ان کی نمائندگی کا حق صرف اسے ہی حاصل تھا، مگر امریکہ اس کے ساتھ مذاکرات سے انکاری تھا اور اسے اس بات پر اصرار تھا کہ وہ یاسر عرفات سے گفتگو نہیں کرے گا۔ صرف اس وجہ سے کہ اس نے امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کے ساتھ فلسطینیوں کے لیے جس کم از کم حد کا تعین کر لیا تھا اور جس پر امریکہ نے خود صاد کر لیا تھا، وہ اس کم از کم سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا اور اسرائیل کو مزید کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہیں تھا۔

یاسر عرفات ایک متحرک اور صبر آزما زندگی گزار کر اپنے مالک و خالق کے حضور پیش ہو چکے، ان کی جدوجہد اور تگ و تاز تاریخ کا حصہ بن چکی، اور اب تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ان کے جانشینوں پر آپڑی ہے۔ اس مرحلہ پر وہ ہماری دعاؤں کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کے جانشینوں کو فلسطینی عوام کے بہتر مستقبل کے لیے صحیح سمت میں پیش رفت کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ البتہ اس کے ساتھ ہم یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی خوشنودی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے والوں کو یاسر عرفات کی زندگی سے سبق حاصل کرنا چاہیے، اس لیے کہ خود کو مکمل طور پر جبر کے سپرد کر دینا او رطوفان کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا زندگی سے دستبرداری کی علامت ہوا کرتا ہے۔ زندگی ہر حال میں ہاتھ پاؤں مارتے رہنے کا نام ہے اور اکثر ہاتھ پاؤں مارتے رہنے والوں کو زندگی مل بھی جایا کرتی ہے۔