حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ ستمبر ۲۰۱۰ء

عید الفطر کی رات جن چند دوستوں کو عید مبارک کہنے اور حال احوال معلوم کرنے کے لیے فون کیا ان میں برادرم مولانا سعید یوسف خان بھی تھے، انہیں فون کرنے کا ایک مقصد حضرت الشیخ مولانا محمد یوسف خان کی خیریت دریافت کرنا تھا جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے باقی ماندہ چند گنے چنے شاگردوں میں سے تھے اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ مولانا سعید نے بتایا کہ حضرت کی صحت معمول کے مطابق ہے، وہ بخیریت ہیں اور انہوں نے رمضان المبارک کے روزے بھی سارے رکھے ہیں۔ میں نے حضرت شیخ کی خدمت میں سلام عرض کرنے اور دعا کی درخواست پیش کرنے کے لیے کہا اور مطمئن ہو کر فون بند کر دیا۔

مگر اس کے صرف دو روز بعد کی بات ہے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی جو میرے چچا زاد ہونے کے ساتھ ساتھ داماد بھی ہیں، حسب معمول عید کی چھٹیوں میں بچوں سمیت گھر آئے ہوئے تھے، عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد سیڑھیاں چڑھتے ہوئے گھر آرہے تھے کہ کسی دوست کا فون آنے پر انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا شروع کر دیا، میرا دل دھڑکا اور فون مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر اشارے سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت مولانا محمد یوسف خان کا انتقال ہوگیا ہے، زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور دل غم و اندوہ کی گہرائیوں میں ڈوب گیا۔ ہم نے پیر کے روز لاہور جانے کا پروگرام بنا رکھا تھا کہ مخدوم زادہ مکرم صاحبزادہ میاں محمد اجمل قادری صاحب پر رمضان المبارک کے دوران فالج کا اٹیک ہوا ہے اور وہ صاحب فراش ہیں۔ حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحب کے ہمراہ ان کی عیادت اور بیمار پرسی کے لیے لاہور جانے کا پروگرام طے تھا۔ مگر ’’عرفت ربی بفسخ العزائم‘‘ (میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا) کی تصویر سامنے آگئی اور لاہور جانے کی بجائے پلندری کی طرف سفر کرنا پڑا۔

حاجی محمد فیاض خان سواتی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور عزیزم حافظ زبیر جمیل کے ہمراہ نماز فجر کے بعد گوجرانوالہ سے روانگی ہوئی اور ہم ساڑھے گیارہ بجے کے لگ بھگ پلندری پہنچ گئے۔ دارالعلوم تعلیم القرآن میں داخل ہوئے تو ہر طرف علمائے کرام کا ہجوم تھا۔ حضرت شیخ اسی برآمدے میں چارپائی پر سکون کی نیند سوئے ہوئے تھے جہاں ابھی دو ماہ قبل ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ان کی زیارت و ملاقات کے لیے حاضر ہوا تھا، ایک دن ان کی خدمت میں رہا، اسی برآمدے میں وہ اپنی مخصوص مسند پر تشریف فرما تھے، مجھے انہوں نے ساتھ بٹھا رکھا تھا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے باتوں میں مصروف تھے۔

میرا ان کے ساتھ گزشتہ چار عشروں سے مسلسل تعلق تھا جو چچا اور بھتیجے کا تعلق بھی تھا، استاذ اور شاگرد کا بھی تھا، راہنما اور کارکن کا بھی تھا اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں علمی و فکری استفادہ کا بھی تھا۔ ان سے رخصت ہونے لگا تو دل کے کونے سے آواز آئی کہ اچھی طرح زیارت کر لو شاید یہ آخری ملاقات ہو۔ مین گیٹ تک جانے کے بعد ایک بار پھر واپس پلٹا، زیارت کی، مصافحہ کیا اور دعائیں سمیٹتا ہوا رخصت ہوگیا۔ آج بھی وہی برآمدہ تھا مگر مسند کی بجائے چارپائی تھی اور حضرت شیخ بلبل کی طرح چہچہانے کی بجائے آرام کی نیند سو رہے تھے۔ چہرے پر بلا کا سکون تھا، ہمیں ان کے قدموں میں گھنٹہ بھر بیٹھنے کی سعادت مل گئی، حاجی محمد فیاض خان نے کہا کہ چہرے پر نورانیت کا منظر دیکھیں جبکہ میرے ذہن کا کیمرہ اس سکون اور نورانیت کی بار بار تصویریں لے رہا تھا۔

علمائے کرام اور سرکردہ حضرات ایک طرف کرسیوں پر بیٹھے چہرے کی زیارت کر رہے تھے، دوسری طرف عوام کا جم غفیر قطار میں تھا اور لوگ اپنے اس محبوب بزرگ کی باری باری زیارت کر کے آگے بڑھ رہے تھے۔ سامنے صحن میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علمائے کرام اور دیگر حضرات تشریف فرما تھے اور علمائے کرام ان کے سامنے خطاب میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف خان کے عزیز ترین شاگرد اور رفیق خاص حضرت مولانا محمد اسحاق مدنی ایک طرف بیٹھے آنسو بہا رہے تھے جبکہ حضرت شیخ کے صاحبزادگان صبر و ضبط کا دامن تھامے اردگرد آنے والے لوگوں سے تعزیتیں وصول کر رہے تھے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ حضرت شیخ نے رمضان المبارک کے سارے روزے رکھے، تراویح کی نماز مسجد میں اہتمام کے ساتھ باجماعت ادا کرتے رہے، وفات کے دن بھی مغرب کی نماز گھر میں باجماعت پڑھی، نماز کے بعد معمول کے مطابق وظائف میں مصروف تھے اور تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر کر رہے تھے کہ اچانک سینے میں تکلیف محسوس ہوئی اور تسبیح ہاتھ سے گر گئی، فوری طور پر ایک قریبی ہسپتال میں لے جانے کا اہتمام ہوا مگر کاتب تقدیر کا قلم اپنا فیصلہ صادر کر چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے حضرت شیخ کی وفات کی تصدیق کی اور یہ خبر آناً فاناً علاقے میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں پھیل گئی۔ خود میرے موبائل فون پر گزشتہ رات پیغامات کا تانتا بندھا رہا اور موبائل فون کی کالوں اور پیغامات نے رات ہی رات دنیا بھر میں حضرت شیخ کے متعلقین اور عقیدت مندوں کو اس سانحے سے آگاہ کر دیا تھا۔

حضرت مولانا محمد یوسف خان نے نوے برس کے لگ بھگ عمر پائی، ان کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی، دینی اور قومی زندگی کا کوئی شعبہ ان کی تگ و تاز سے خالی نہیں رہا، ہر شعبہ زندگی کے لوگ سمجھتے تھے کہ شاید سب سے زیادہ توجہ انہیں حاصل ہے۔ مگر ان کے اوقات کار اور توجہات کی ایسی متوازن تقسیم تھی کہ انہوں نے مختلف شعبوں کو بھرپور وقت دیا اور زندگی کا کوئی لمحہ مصروفیت سے خالی نہیں رہنے دیا۔ دینی علوم کی تدریس کا شعبہ ہو، سلوک و ارشاد کے ذریعے علماء اور عوام کی روحانی اصلاح کا میدان ہو، سیاسی قیادت اور راہنمائی کا محاذ ہو، سماجی خدمات کا دائرہ ہو، نفاذِ شریعت کی جدوجہد کی فکری و علمی پشت پناہی ہو، آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد ہو، جمعیۃ علماء آزاد کشمیر کے عنوان سے علمائے کرام میں تحریکی ذوق پیدا کرنے کا معاملہ ہو، حضرت مولانا محمد یوسف خان ہر محاذ پر صف اول میں موجود رہے۔

حضرت شیخ کی علمی، دینی، قومی، تحریکی اور سماجی خدمات کا احاطہ اس مختصر تاثراتی مضمون میں ممکن نہیں ہے مگر ان کی وفات پر جنازے کے لیے آنے والے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے مختلف حضرات نے جن تاثرات کا اظہار کیا ان کے چند پہلوؤں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ایک مقرر نے، جن کا نام میں یاد نہیں رکھ سکا، کہا کہ آزاد کشمیر کی عدالتوں میں آج اگر ججوں کے ساتھ قاضی بیٹھتے ہیں اور بہت سے معاملات میں شریعت کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں تو یہ حضرت مولانا محمد یوسف خان اور ان کے رفقاء کی طویل جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب آزاد جموں و کشمیر کی عدالتوں میں شرعی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ ہو رہا تھا تو انتظامیہ اور عدلیہ کے ایک اعلی سطحی بھرپور اجلاس میں چیف جسٹس آزاد کشمیر نے اس سلسلہ میں اپنے اشکالات اور اعتراضات تفصیل کے ساتھ پیش کیے مگر حضرت مولانا محمد یوسف خان نے ان کے اس قدر مدلل اور تسلی بخش جوابات دیے کہ خود جسٹس موصوف نے اسی محفل میں برملا اعتراف کیا کہ مولانا یوسف خان کے مفصل خطاب نے نہ صرف ان کے بہت سے اشکالات دور کر دیے ہیں بلکہ ان کے ذہن کا رخ بھی بدل ڈالا ہے۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا محمد یوسف خان صرف آزاد کشمیر اور پاکستان کے نہیں بلکہ عالم اسلام کی شخصیت تھے اور وہ ان کے بارے میں ایک مغربی دانشور کا یہ قول بیان کرنا چاہیں گے کہ کسی چھوٹے آدمی کا بڑی جگہ پر بیٹھ کر کام کرنا بڑی بات نہیں ہے بلکہ بڑے آدمی کا چھوٹی جگہ پر بیٹھ کر اپنے کمالات کا اظہار کرنا اور انہیں منوانا اصل کمال کی بات ہے، اور یہ مقولہ مولانا محمد یوسف خان کی جدوجہد پر صادق آتا ہے۔ سابق صدر آزاد کشمیر سردار محمد انور خان نے کہا کہ مولانا محمد یوسف خان کی خدمات کو صرف دینی دائرے میں محدود کرنا درست نہیں ہے، وہ تحریک آزادی اور نفاذِ اسلام کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی محاذ پر بھی ہمارے راہنما تھے۔

راقم الحروف نے اپنی گزارشات میں عرض کیا کہ حضرت شیخ نے ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزاری، آج سے ۶۵ برس پہلے جب وہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہو کر اس علاقے میں آئے تھے تو ان کا استقبال ڈوگرہ حکمرانوں کے جیل خانے نے کیا تھا، اور آج جب وہ رخصت ہو رہے ہیں تو قوم کے تمام طبقات ان کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہیں اور ان کی یہ کامیاب زندگی ’’فزت و رب الکعبۃ‘‘ (رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا) کا عملی نمونہ پیش کر رہی ہے۔

اس فضا میں مولانا سعید یوسف خان کے سر پر حضرت شیخ کی پگڑی رکھ کر ان کے جانشین ہونے کا اعلان کیا گیا اور لاکھوں افراد نے مولانا سعید یوسف کی اقتداء میں نماز ادا کر کے حضرت شیخ کو الوداع کیا۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔