کرنل امیر سلطان تارڑ شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ جنوری ۲۰۱۱ء

کرنل امام کی شہادت اور حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر خودکش حملہ بظاہر دو الگ الگ واقعات ہیں جن میں کوئی جوڑ اور تعلق دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا لیکن حالات میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے پس منظر پر نظر رکھنے والوں سے یہ بات اوجھل نہیں ہو سکتی کہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے سمیت ان تینوں واقعات کے پس منظر کو ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں۔

کرنل امام نے، جن کا اصل نام کرنل امیر سلطان تارڑ تھا، جہادِ افغانستان میں مجاہدین کو ٹریننگ دینے اور جنگی حکمت عملی سکھانے میں اہم کردار ادا کیا اور افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کم و بیش سب کے سب ان کی خدمات، قربانیوں اور جدوجہد کے معترف چلے آرہے ہیں۔ سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے بعد جب مجاہدین کے مختلف گروپوں کو باہمی خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی مکروہ سازش کا تانا بانا بنا گیا تو اس خلفشار سے تنگ آکر طالبان کی شکل میں سامنے آنے والے مجاہدین کو منظم کرنے میں بھی کرنل امام شہیدؒ متحرک رہے۔ اس پس منظر کے باعث کرنل امام کو سنجیدہ حلقوں میں اس نظر سے دیکھا جا رہا تھا کہ جب اس خطے میں استعماری قوتوں کی واپسی کے لیے کسی محفوظ راستے کی تلاش ہوگی تو جو لوگ خطے میں امن کی واپسی کے لیے اہم رول ادا کر سکیں گے ان میں کرنل امام سرفہرست ہوں گے۔ وہ افغان قوم کے مزاج و نفسیات سے بھی واقف تھے اور پاکستان کی ضروریات و مفادات کو بھی بہتر طور پر سمجھتے تھے۔ اس خطے میں بیرونی قوتوں کی دراندازی، بالخصوص بھارت کے مسلسل کردار پر بھی ان کی نظر تھی اور پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کے ذمہ دار حلقوں میں انہیں قابل اعتماد تصور کیا جاتا تھا۔ اس لیے ان انتہا پسند قوتوں اور عالمی سازشوں کے منصوبہ کاروں کے لیے، جو مصالحت و مفاہمت کا ہر راستہ بند کر دینا چاہتے ہیں اور جنہیں اعتدال و توازن کی بات کرنے والے اور امن کی واپسی کے لیے کام کرنے والے ایک آنکھ نہیں بھاتے، کرنل امام اپنی تمام تر جہادی خدمات کے باوجود ان کی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔

میرے نزدیک کرنل امامؒ کی شہادت مولانا محمد حسن جان شہیدؒ، حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ آف وانا، اور ڈاکٹر محمد فاروق شہیدؒ کی شہادت کا تسلسل ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو درمیان کے آدمی سمجھے جاتے تھے اور جن سے نہ صرف امن کی واپسی کے لیے مؤثر کردار کی توقع تھی بلکہ یہ لوگ جمہور علمائے اسلام کی تعبیر اور طریق کار کے مطابق نفاذِ شریعت کے لیے بھی مخلص تھے اور عملاً کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کرنل امام شہیدؒ نے بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

کرنل امام کو اغوا کرنے والوں نے تاوان نہ ملنے پر شہید کیا ہے یا وہ دورانِ حراست حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کر گئے ہیں، شہید تو وہ دونوں صورتوں میں ہیں۔ اور مجھے جنرل (ر) حمید گل کی اس بات سے اتفاق ہے کہ کرنل امام ’’شہیدِ پاکستان‘‘ ہیں، جبکہ ان کے بقول ان کی شہادت کے پیچھے اصل ہاتھ بھارت کا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ ہم سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد اس خطے کے مجاہدین کو تنہا چھوڑ دیا جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ یہی بات اگر بین الاقوامی تناظر سے ذرا نیچے اتر کر قومی سطح پر دیکھ لی جائے تو صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ راقم الحروف کئی بار یہ بات مختلف فورموں اور مختلف کالموں میں عرض کر چکا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل سندھ میں ’’حروں‘‘ کی سرگرمیاں اسی نوعیت کی تھیں، وہ برطانوی تسلط کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف تھے اور اگر آج کی اصطلاح استعمال کی جائے تو ’’دہشت گرد‘‘ جبکہ ہماری قومی تاریخ کے مطابق وہ مجاہدینِ آزادی تھے اور ہر محب وطن انہیں مجاہدینِ آزادی کے طور پر ہی خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے جنہیں قیام پاکستان کے بعد ’’پاک فوج‘‘ میں ایڈجسٹ کر لیا گیا تھا۔ مگر افغانستان میں سوویت یونین کی واپسی کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مجاہدین کے بارے میں یہ حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔ انہیں حکومت پاکستان نے بھی تنہا چھوڑ دیا، پاک فوج نے بھی انہیں کسی عسکری حکمت عملی کا حصہ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اور پاکستان کی وہ دینی جماعتیں جو انہی مجاہدین کے ذریعے جہادِ افغانستان میں پیش پیش نظر آتی تھیں انہوں نے بھی انہیں نظر انداز کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں سے ہر گروہ اپنا مستقبل، اپنا ٹارگٹ اور اپنا طریق کار طے کرنے میں آزاد ہوگیا۔ اس سے عالمی قوتوں اور بیرونی مداخلت کاروں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اور جس طرح ہیلری کلنٹن کے بقول عالمی قوتیں اپنی سطح پر اس کا خمیازہ بھگت رہی ہیں اسی طرح قومی سطح پر ہم سب اس قومی غفلت کے تلخ نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔

آج کی صورتحال اسی قومی اور مجرمانہ غفلت کا منطقی نتیجہ ہے اور اس مخمصے سے نکلنے کے لیے سوچا جانے والا کوئی بھی حل اس پس منظر کو نظر انداز کر کے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہم ان گروپوں کے ماضی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کی شدت پسندی کے اسباب کو دور کرنے سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہم انہیں بین الاقوامی سازشوں کے جال سے نکالنے میں سنجیدہ نہیں ہیں، اور انہیں ہر حالت میں ’’دشمن‘‘ قرار دے کر دشمنوں ہی کے حوالے کیے رکھنے کا ہم نے تہیہ کر لیا ہے تو پھر ہمیں اس سے زیادہ تلخ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ حالات میں تبدیلی محض خواہشات اور اپیلوں یا فتوؤں سے نہیں آیا کرتی، اس کے لیے عملاً کچھ کرنا پڑتا ہے اور اس میں ’’کچھ کرنے‘‘ کے ناگزیر تقاضوں کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔

بات ذرا دور نکل گئی ہے لیکن غیر متعلقہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ کرنل امامؒ کی شہادت کو اس پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اسی صورتحال میں اصلاح، توازن اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے پر اس رویے کو پسند نہ کرنے والوں کی انتہا پسندی کا شکار ہوئے ہیں۔ دوسری طرف داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر خودکش حملے کے المناک واقعہ کو دیکھ لیجئے۔ حضرت سید علی ہجویریؒ کے مزار پر اس سے قبل بھی خودکش حملہ کئی بے گناہ لوگوں کی جان لے چکا ہے اور اب اگرچہ پولیس کی مستعدی اور حفاظتی نظام کے باعث دربار کے اندر تک خودکش حملہ آور کی رسائی نہیں ہو سکی مگر وہ اپنے مقصد میں بہرحال کامیاب ہوا ہے کہ اس نے حضرت سید علی ہجویریؒ کے عرس کے زائرین کو نشانہ بنایا ہے اور بہت سے لوگوں کی قیمتی جانیں لے لی ہیں۔ حضرت سید علی ہجویریؒ اور حضرت سید عبد اللہ شاہ غازیؒ کے مزارات پر ہونے والے خودکش حملوں کے بعد اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر ملک میں بریلوی دیوبندی کشمکش کو ہوا دینے کی جو مہم چلائی گئی تھی اس کا غبار ابھی زمین پر نہیں بیٹھنے پایا تھا کہ لاہور اور کراچی کے ان تازہ دھماکوں نے ملک بھر کے عوام کو دل گرفتہ کر دیا ہے۔

بھلا ہو توہینِ رسالت کے قانون کا کہ ناموسِ رسالتؐ نے ایک بار پھر پوری قوم کو متحد کر دیا ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو خانہ جنگی میں بدلنے کی کوششیں دم توڑ گئی ہیں۔ مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ توہینِ رسالتؐ کے قانون کے حوالے سے رونما ہونے والی صورتحال نے عالمی قوتوں کے بہت سے مغالطوں کو دور کر دیا ہے۔ مثلاً

  • دین کے ساتھ بے لچک وابستگی اور ناموس رسالتؐ پر کٹ مرنے کا جذبہ ان کے نزدیک شدت پسندی اور انتہا پسندی ہے جسے انہوں نے دیوبندیوں کے کھاتے میں ڈال رکھا تھا اور انہیں کارنر کرنے کے لیے فرقہ وارانہ کشمکش کے فروغ کو عالمی استعمار نے اپنا ہدف بنا لیا تھا۔ مگر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اگر ناموس رسالتؐ پر کٹ مرنے اور دین کے ساتھ بے لچک وابستگی کا نام انتہا پسندی اور شدت پسندی ہے تو اس شدت پسندی میں پاکستان کا کوئی مسلمان اور کوئی مذہبی فرقہ دوسرے سے کم نہیں ہے۔
  • ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی اسلام‘‘ میں تفریق کر کے صوفی اسلام کو قابل قبول سمجھا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی سرپرستی میں ’’صوفی اسلام‘‘ کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطحی کونسل بھی قائم کر دی گئی تھی مگر حالیہ واقعات نے بتا دیا ہے کہ ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی اسلام‘‘ میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس خودساختہ فرق کا سہارا لینے کی مغربی کوششیں خود کو فریب دینے کے سوا کوئی معنٰی نہیں رکھتیں۔
  • دینی حمیت و غیرت کو مولوی کے ساتھ مخصوص قرار دے دیا گیا تھا مگر وکلاء، سیاست دانوں اور تاجروں نے ناموسِ رسالتؐ کے حوالے سے جس حوصلہ و جرأت او رمحبت و عقیدت کا مظاہرہ کیا ہے اس نے بہت سے لوگوں کی یہ غلط فہمی بھی دور کر دی ہے کہ مولوی کے علاوہ باقی طبقات کی دین کے ساتھ کمٹمنٹ کو توڑا جا سکتا ہے اور مولوی کے خلاف نفرت پھیلا کر اس معاشرے میں دین کے کردار کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے خیال میں جس طرح جنوبی ایشیا کے بارے میں عالمی منصوبوں کے ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ کے لیے ایسے لوگ گوارا نہیں ہیں جو افغانستان اور پاکستان کے درمیان پل بن سکتے ہیں اور ملک کے اندر بھی مصالحت و مفاہمت کا کردار ادا کر سکتے ہیں، اسی طرح دینی قوتوں کا کسی عنوان پر اتحاد بھی ان کے لیے قابل برداشت نہیں ہے۔ جو قوتیں دینی حلقوں کے اتحاد کو اپنے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں اور اعتدال و توازن اور صلح و مفاہمت کی بات کرنے والی شخصیات کو ’’کباب میں ہڈی‘‘ تصور کرتی ہیں وہی قوتیں کرنل امامؒ کی شہادت اور حضرت سید علی ہجویریؒ کے عرس پر خودکش حملے کی ذمہ دار ہیں۔ استعمال ہونے والے کوئی بھی ہوں، ان کا آپس میں تعارف و رابطہ بھی نہ ہو، اور خواہ انہیں اپنے استعمال ہونے کا شعور بھی نہ ہو، مگر استعمال کرنے والا ماسٹر مائنڈ تو ایک ہی ہے جو دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والوں کو صاف نظر آرہا ہے۔

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من اندازِ قدت را می شناسم