اسلامی نظام معیشت اور بیت المال کا تصور

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ مارچ ۲۰۱۲ء

۱۲ مارچ کو تھوڑی دیر کے لیے ضلع اٹک کے گاؤں موزا جانے کا اتفاق ہوا اور ’’قرآن اور صاحبِ قرآن‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس میں حاضری ہوئی جو مولانا قاری عطاء الرحمانؒ کے قائم کردہ مدرسہ کے سالانہ اجتماع کے طور پر منعقد ہوئی۔ مولانا قاری عطاء الرحمانؒ میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی اور ہم سبق تھے، گزشتہ ماہ ان کا انتقال ہوگیا ہے ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب ان کی جگہ ان کے بھائی اور بیٹے اس دینی و تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مولانا قاری عطاء الرحمان جمعیۃ علماء اسلام ضلع اٹک کے امیر کی حیثیت سے بھی متحرک رہے ہیں اور مختلف دینی و سیاسی تحریکات میں انہوں نے حصہ لیا ہے۔

کانفرنس میں شرکت کے علاوہ جمعیۃ علماء اسلام ضلع اٹک کے موجودہ امیر سید امیر الزمان اور دیگر راہنماؤں کے ساتھ مختلف دینی و جماعتی مسائل پر گفت و شنید کا موقع ملا، جبکہ کانفرنس میں مولانا قاری مطیع الرحمان مرحوم کے ایک پوتے اور ایک نواسے کی دستار بندی ہوئی جنہوں نے حال ہی میں قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے۔ ظہر کے بعد منعقدہ اس کانفرنس میں شرکت کے بعد گوجرانوالہ واپسی ہوئی اور اگلے روز ۱۳ مارچ کو جامعہ محمدیہ چائنہ چوک اسلام آباد میں دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ میں شرکت کے لیے اسباق کے بعد پھر اسی طرح سفر کرنا پڑا۔

یہ تین روزہ ورکشاپ اسلام آباد کے دینی مدارس کے ایک مقامی فورم ’’ہیئۃ المدارس الاسلامیۃ اسلام آباد‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی اور ہمارے فاضل دوست مولانا ظہور احمد علوی اس میں پیش پیش رہے۔ ورکشاپ کی پہلی نشست میں ’’اساتذہ کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی اور راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ دینی مدرسہ کے اساتذہ کو اپنے حال سے اور نئی نسل کے مستقبل سے آگاہ ہونا چاہیے، اور معروضی صورتحال کے ساتھ ساتھ مستقبل کے امکانات اور خطرات کو سامنے رکھ کر اپنے طلبہ و تلامذہ کی تعلیم اور اس کے ساتھ ساتھ فکری، دینی اور اخلاقی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس موقع پر استاذ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی دامت برکاتہم کی زیارت و ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا اور ان کی مشفقانہ دعاؤں سے فیضیاب ہوا۔

اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ ’’دعوت اکادمی‘‘ کا ایک ریڈیو چینل کا اہتمام کر رہا ہے جس کی نشریات اسلام آباد، راولپنڈی اور اردگرد کے علاقوں میں سنی جاتی ہیں۔ دو روز قبل مجھ سے فون پر فرمائش کی گئی کہ سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کی حیات مبارکہ اور خدمات پر ایک دستاویزی پروگرام تیار کیا جا رہا ہے اس میں شرکت ہو جائے تو بہتر ہوگا۔ میرے لیے انہوں نے ’’حضرت صدیق اکبرؓ کے دور کا معاشی نظام اور ریونیو‘‘ کا عنوان طے کر رکھا تھا۔ اس پروگرام کے انچارج مدثر صاحب سے گزارش کی کہ وہ جامعہ محمدیہ میں ہی آجائیں، چنانچہ جامعہ محمدیہ کی لائبریری میں اس پروگرام کے لیے کچھ معروضات ریکارڈ کرائی گئیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

اسلام کے معاشی نظام کی اساس ’’بیت المال‘‘ پر ہے جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے نادار، معذور، مستحق اور ضرورت مند افراد کی کفالت کا ریاستی سطح پر اہتمام کیا جائے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا دائرہ یہ تھا کہ زکٰوۃ، عشر، خراج اور جزیہ وغیرہ کی رقوم آنحضرتؐ کے پاس جمع ہوتی تھیں اور آپؐ ان سے ضرورت مندوں، ناداروں اور بے سہارا لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مجاہدین اور بیت المال کے لیے کام کرنے والوں کو بھی وظیفے دیتے تھے۔ قرآن کریم نے اس سلسلہ میں اصولی ہدایات اور طریق کار کا ذکر کیا ہے لیکن آنحضرتؐ چونکہ خود بحیثیت ’’رسول اللہ‘‘ اتھارٹی تھے اس لیے آپؐ کا فیصلہ اور عمل ہی حتمی ہوتا تھا اور بیت المال کے لیے تفصیلی قواعد و ضوابط طے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ بیت المال کو باقاعدہ ایک ادارہ کی شکل دینے اور اس کے قواعد و ضوابط طے کرنے کی نوبت حضرت عمرؓ کے دور میں آئی جبکہ حضرت ابوبکرؓ کا دور خلافت اس سلسلہ میں ایک ارتقائی مرحلہ تھا۔

بیت المال کی اصولی ذمہ داری کے حوالے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہماری راہنمائی کرتا ہے جو بخاری شریف کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص مال چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس کا مال اس کے وارثوں کو ملے گا اور جو شخص قرضہ کا بوجھ اور بے سہارا اولاد چھوڑ کر گیا تو ’’فالیّ وعلیّ‘‘ وہ مجھ سے رجوع کریں گے اور میری ذمہ داری میں ہوں گے۔ فقہاء کرام نے اس سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ سوسائٹی کے بے سہارا افراد اور بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی کفالت بیت المال کی ذمہ داری ہے اور آنحضرتؐ کے دور میں بیت المال کی رقوم اور سامان اس مد میں تقسیم ہوتے رہے ہیں۔

جناب نبی اکرمؐ نے ایک اور ارشاد گرامی میں بھی بیت المال کے اس کردار کی وضاحت فرمائی ہے جس میں زکٰوۃ کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ ’’تؤخذ من اغنیاءھم وترد الی فقراءھم‘‘ زکٰوۃ سوسائٹی کے مالدار افراد سے وصول کی جائے گی اور نادار افراد میں تقسیم کی جائے گی۔ بیت المال کے اس کردار کو باقاعدہ ادارہ اور نظام کی شکل امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ملی اور اس کے لیے طریق کار اور قواعد و ضوابط طے کیے گئے۔ البتہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت کے تین اہم فیصلوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے بیت المال کے نظام کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا:

  • حضرت صدیق اکبرؓ نے مانعین زکٰوۃ کے ساتھ جنگ کر کے سوسائٹی کے ذمہ بیت المال کے واجبات کی نوعیت واضح کی اور یہ بتایا کہ بیت المال کو اپنا نظام چلانے اور سوسائٹی کے ذمہ اپنے واجبات کی وصولی کے لیے حکومتی قوت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔
  • بیت المال سے خلیفۂ وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے وظیفہ مقرر کرتے ہوئے یہ اصول طے کیا گیا کہ انہیں سربراہ حکومت کے طور پر اتنا وظیفہ ملے گا جس سے وہ مدینہ منورہ کے متوسط شہری کے معیار پر زندگی گزار سکیں اور اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں اور عام شہریوں کے معیار زندگی میں فرق کو اسلام جائز نہیں سمجھتا اور حکمرانوں کو عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے۔
  • بیت المال سے عام لوگوں کو وظیفے دینے کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی رائے میں اختلاف تھا۔ حضرت عمرؓ انصار اور دیگر طبقات کے درمیان فضیلت کے درجات کا لحاظ کر کے وظیفوں میں فرق قائم کرنا چاہتے تھے اور ’’گریڈ سسٹم‘‘ کے تحت وظائف کی تقسیم کے حق میں تھے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا موقف یہ تھا کہ ’’ھذہ معاش فالأسوۃ فیہ خیر من الأثرۃ‘‘ یہ معیشت کا باب ہے اس میں برابری کا اصول ترجیحات سے بہتر ہے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عمرؓ کی رائے کو قبول نہیں کیا اور بیت المال سے سب لوگوں کو برابری کی بنیاد پر یکساں وظیفے دیے۔ مگر حضرت عمرؓ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے اس طریق کار کو تبدیل کر کے اپنی رائے کے مطابق درجہ بندی کی اور درجات کے لحاظ سے وظیفوں کا الگ الگ معیار مقرر کر دیا۔ البتہ دس سال کی حکومت کے بعد جب اس درجہ بندی اور گریڈ سسٹم کے منفی اثرات سامنے آنا شروع ہوئے تو ’’کتاب الخراج‘‘ میں امام ابویوسفؒ کی درج کردہ ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے اس کا اعتراف کیا اور فرمایا کہ ان کا خیال ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے زیادہ صائب تھی اس لیے اگلے سال وہ برابری کی بنیاد پر وظائف تقسیم کریں گے، لیکن اگلے سال سے قبل ان کی شہادت ہوگئی۔

سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے ان اساسی فیصلوں کے ذریعے ایک اسلامی حکومت کے معاشی نظام کے سلسلہ میں جو رہنمائی فرمائی تھی وہ قیامت تک امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔