اشتیاق احمد مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

اشتیاق احمد مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں، دو تین بار کی ملاقات یاد ہے اور چند مضامین بھی نظر سے گزرے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر بچوں کے لیے لکھا ہے اور جب ان کی تصانیف اور مضامین کی شہرت ہوئی میں بچپن کی حدود سے بہت آگے جا چکا تھا۔ البتہ ان کے فن کی اہمیت و ضرورت سے ضرور آشنا رہا اور اسی وجہ سے ان سے محبت و انس کا تعلق رہا۔ وہ بنیادی طور پر جاسوسی ادب کے دائرے کے ادیب تھے اور جاسوسی ادب سے ایک دور میں میرا بہت زیادہ رشتہ رہا ہے۔ طالب علمی کے دور میں سینکڑوں اور کم و بیش ہر صنف کے ناول پڑھے ہیں، مگر تاریخی اور جاسوسی ناولوں کو ہمیشہ ترجیحاً پڑھا ہے۔ جاسوسی ادب اپنے پڑھنے والوں کے ذہن پر کیا اثر ڈالتا ہے اور ان کی کون کون سی خفیہ صلاحیتوں اور احساسات و جذبات کو اجاگر کرتا ہے اس کے تجربے سے خود بھی گزر چکا ہوں اس لیے اشتیاق احمد کو دیکھ کر اور ان کی تحریرات کے متعلق جان کر خوشی ہوتی تھی کہ وہ ادب کے ایک اہم شعبے کو اس مہارت اور ذوق کے ساتھ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے استعمال میں لا رہے ہیں اور ایک اہم دینی و ملی خدمت کی انجام دہی میں شب و روز مصروف رہتے ہیں۔

ادب ابلاغ کا ایک اہم اور موثر ترین ذریعہ ہے اور ابلاغ کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن و قلوب پر اثر انداز ہونے اور جذبات و احساسات کا رخ موڑنے میں اس کا ہر دور میں اہم کردار رہا ہے۔ اس کی مختلف اصناف میں واقعات، کہانیوں، کہاوتوں، لطیفوں اور افسانہ و ناول کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ کہاوت اور قصے کی صنف تو قرآن مجید میں بھی استعمال ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ مشرکین عرب کا قرآن کریم پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ ’’ان ھذا الاساطیر الاولین‘‘ کہ یہ تو محض قصے کہانیوں کی کتاب ہے۔ قرآن مجید نے قصہ اور واقعہ کے علاوہ کہاوت کا بھی جا بجا استعمال کیا ہے اور روایات میں صحابہ کرامؓ کی محافل میں قصوں، کہانیوں اور کہاوتوں کا بکثرت ذکر ملتا ہے۔ اس دور میں عوامی واعظ کو القاص (قصہ گو) کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ بخاری شریف میں دور صحابہ کے ایک قصہ گو حضرت نوف بکالی کا ذکر موجود ہے جنہوں نے حضرت موسٰیؓ اور حضرت خضرؓ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اس واقعہ میں جن حضرت موسٰیؓ کا ذکر ہے وہ بنی اسرائیل والے رسول و نبی نہیں بلکہ کوئی اور بزرگ ہیں تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اس کی تردید کر دی۔ یہ نوف بکالی ایک عوامی واعظ اور قصہ گو کے طور پر متعارف تھے۔

بات سمجھانے کے لیے حقیقی واقعات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فرضی کہانیوں کا اسلوب عام رہا ہے، جو مختصر ہو تو کہاوت کہلاتی ہے، قدرے طویل ہو تو اسے مقامہ یا افسانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور بہت لمبی ہو تو ناول کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہمارے ہاں درس نظامی میں ’’مقامات حریری‘‘ پڑھائی جاتی ہے جو اس دور کے افسانوں میں ہی شمار ہوتی ہے، اس میں اصلاحی باتیں فرضی واقعات کی صورت میں بیان کی گئی ہیں۔ جبکہ ہم نے اپنے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی سے مقامات ہمدانی، کلیۃ و دمنہ، اخوان الصفا اور مصطفیٰ لطفی منفلوطی کی العبرات سبقاً سبقاً پڑھی ہے جو فرضی کہانیوں کی طرز پر لکھی گئی تھیں اور حکمت و دانش سے بھرپور ہیں۔

قدیم دینی لٹریچر میں شعر و شاعری اور مقامہ و کہاوت کو تعلیم و تربیت کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل رہی ہے مگر اب اس کا ذوق ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ آج کے دور میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمارے شیخ محترم مولانا ابوالحسن علی ندویؒ فرمایا کرتے تھے کہ مسلم معاشرے میں مغربی فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کی یلغار معاشرتی علوم اور ادب و صحافت کے راستوں سے ہوئی ہے، اس لیے اس کا راستہ روکنے کے لیے انہی علوم و فنون میں مہارت پیدا کرنا اور انہیں استعمال میں لانا ضروری ہے۔ جبکہ اس کی طرف ہمارے دینی تعلیمی نظام و نصاب کی منصوبہ سازی کرنے والوں کی سرے سے توجہ ہی نہیں ہے۔ ہم اگر ادب کچھ پڑھتے پڑھاتے ہیں تو وہ عصری تقاضوں اور معروضی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس کی ضرورت کا دائرہ صرف یہ ہوتا ہے کہ قدیم دینی لٹریچر کے ساتھ تعلق قائم رہے اور ماضی سے ہمارا ادبی تعلق منقطع نہ ہونے پائے۔ یہ بھی ہماری بڑی ضرورت ہے لیکن اس سے عصری ضروریات اور معروضی ماحول سے مطابقت کا مقصد پورا نہیں ہوتا اور سال ہا سال دینی مدارس میں تعلیم پا کر جب ایک فاضل عملی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو معاشرتی و ادبی فنون کے ماحول میں وہ اجنبی ہوتا ہے۔ جبکہ عصری ضروریات اس کے لیے صرف اجنبی نہیں ہوتیں بلکہ شجر ممنوعہ بن کر رہ جاتی ہیں۔

اس پس منظر میں اشتیاق احمد مرحوم کے ذوق و صلاحیت اور سعی و محنت کی قدر زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے ادب اور خاص طور پر جاسوسی ادب کو کامیابی کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور نئی نسل کی اخلاقی اور دینی تربیت کا ذریعہ بنایا اور اسی محنت میں زندگی بسر کر دی۔ میرے نزدیک اشتیاق احمد مرحوم کی زندگی میں ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کوئی بھی علم یا فن دینی حلقوں کے لیے شجر ممنوعہ نہیں ہے بلکہ اسے صحیح طور پر اور صحیح رخ پر استعمال کیا جائے تو وہ دین کی دعوت، معاشرے کی اصلاح اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اشتیاق احمد مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ان کی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔