صدر ضیاء الرحمان شہید

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جون ۱۹۸۱ء

بنگلہ دیش کے صدر جناب ضیاء الرحمان کو گزشتہ دنوں، جب وہ چٹاگانگ کے دورہ پر تھے، فوج کے بعض افسروں کی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ بغاوت، جس کی قیادت میجر جنرل منظور احمد کر رہا تھا، بنگلہ دیش فوج کی مداخلت کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ جنرل منظور احمد خود قتل ہوگیا ہے جبکہ اس کے رفقاء بنگلہ دیش حکومت کی حراست میں ہیں جن پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

فوج کے ایک حصہ کی طرف سے صدر ضیاء الرحمان کی حکومت کے خلاف بغاوت اور صدر مرحوم کے المناک قتل کا پس منظر کیا ہے اور اس میں کون سے عوامل کارفرما ہیں، اس بارے میں حتمی بات تو اس وقت کہی جا سکے گی جب باغی لیڈروں پر چلائے جانے والے مقدمہ کی تفصیلات سامنے آئیں گی، لیکن اسلامی ممالک اور تیسری دنیا کی مجموعی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ ناکام فوجی بغاوت بھی عالمی طاقتوں اور بنگلہ دیش کے ہمسایہ مخالف ملکوں کی اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جو وہ عالم اسلام اور غیر وابستہ ممالک میں عدم استحکام اور باہمی محاذ آرائی کو فروغ دینے کےلیے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام کا اتحاد اور غیر وابستہ ممالک کا کامل غیر وابستگی کی منزل کی طرف گامزن رہنا بڑی طاقتوں کے مفاد میں نہیں ہے اور اس ’’مشترکہ مفاد‘‘ کے تحفظ کے لیے دونوں بڑی طاقتوں کی حکمت عملی یکساں ہے۔ افغانستان میں روس کا کردار اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسی اس پر شاہد ہے۔

صدر ضیاء الرحمان مرحوم ان مسلم راہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے عالم اسلام کے اتحاد اور مسلمان ممالک بالخصوص عراق و ایران کے باہمی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے متحرک اور مؤثر کردار ادا کیا اور آخر وقت تک وہ اس سلسلہ میں سرگرم رہے۔ مرحوم اگرچہ ایک فوجی انقلاب کے ذریعہ برسرِ اقتدار آئے لیکن انہوں نے آئینی و سیاسی عمل کے تعطل کو زیادہ دیر نہیں رہنے دیا۔ سیاسی ادارے اور جمہوری عمل بحال کر کے ملک میں انتخابات کرائے جس کے نتیجہ میں ملک کی باگ ڈور ایک بار پھر سیاسی اداروں کے ہاتھ میں آگئی اور خود صدر ضیاء الرحمان مرحوم بھی انتخابات کے ذریعہ ہی دوبارہ برسرِ اقتدار آئے۔

عالم اسلام کے اتحاد کے لیے مساعی اور اندرون ملک جمہوری عمل کی بحالی کے ساتھ ساتھ صدر ضیاء الرحمان مرحوم نے عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے آزادانہ تشخص کو ابھارنے اور اسے عالمی برادری میں باوقار مقام دلانے کے لیے بھی مؤثر جدوجہد کی۔ یہی وجہ ہے کہ مرحوم کی وفات کے غم کو نہ صرف بنگلہ دیش کے عوام نے بلکہ عالم اسلام اور تیسری دنیا کے لوگوں نے بھی محسوس کیا ہے۔

ہم اس موقع پر بنگلہ دیش کے برادر عوام کے اس قومی غم میں شرکت کے ساتھ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ صدر ضیاء الرحمان مرحوم کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور بنگلہ دیش اور وہاں کے عوام کو ہر قسم کی آفات اور آزمائش سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔