مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء

وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے اور حالات اس طرح بھی بدل جاتے ہیں، اس کے بارے میں سن تو بہت کچھ رکھا تھا مگر رفتار زمانہ نے عمل و تجربہ کی دنیا میں احساس دلایا تو اس کا صحیح اندازہ ہوا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ قومی سیاست میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی شب و روز سرگرمیاں اور ان کی حکمت و تدبر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ شریک کار تھے۔ مگر آج جب وقت کا حساب لگایا ہے تو زمانے کی بے رحم رفتار نے بتایا کہ ۱۴اکتوبر کو انہیں ہم سے رخصت ہوئے پینتیس برس ہو جائیں گے۔

میری حضرت مفتی صاحبؒ کے ساتھ عملی رفاقت کم و بیش دس بارہ سال رہی ہے۔ ۱۹۶۸ء سے ۱۹۷۵ء تک جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی اور صوبائی سطح کے عہدہ دار کی حیثیت سے اور ۱۹۷۵ء سے ۱۹۸۰ء تک مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور ان کے رفیق کار خادم کے طور پر ان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ وہ میرے باقاعدہ استاذ نہیں تھے لیکن میں نے ہمیشہ انہیں اپنے اساتذہ کی صف میں ہی سمجھا ہے، بلکہ جب یہ دیکھتا ہوں کہ میں نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے بغیر ان سے کیا کچھ سیکھا ہے تو ’’شاگرد‘‘ کا لفظ بہت ہلکا دکھائی دینے لگتا ہے۔

آج سے چھ عشرے پہلے کی طرف دیکھتا ہوں تو قومی سیاست میں دینی قیادت کی مسلسل پیش رفت اور نفاذ اسلام کی جدوجہد میں آگے بڑھنے کا منظر نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے اور مولانا مفتی محمودؒ اس پیش قدمی کی قیادت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جب ۱۹۵۶ء کے دستور میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا تھا، اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا تھا، اور ملک میں نفاذ اسلام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود جمعیۃ علماء اسلام اس پر مطمئن نہیں تھی اور ان دستوری اقدامات کو ناکافی سمجھ رہی تھی۔ ۱۹۵۶ء کے دستور پر جمعیۃ علماء اسلام کی قائم کردہ کمیٹی جو مولانا شمس الحق افغانیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، شیخ حسام الدین مرحوم اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود پر مشتمل تھی، اس نے دستور پر باقاعدہ تنقیدات مرتب کی تھیں جو جمعیۃ کی طرف سے شائع ہوئی تھیں، اگر ان تنقیدات کے مطبوعہ رسالے کو کہیں سے تلاش کر کے ایک بار پھر قومی پریس کی زینت بنایا جا سکے تو صحیح طور پر اندازہ ہو جائے گا کہ مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کی ٹیم نفاذ اسلام کے حوالہ سے کیا اہداف رکھتی تھی۔ اور یہ کہ ہماری آج کی قناعت پسندی کا ان اہداف کے ساتھ فاصلہ کتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

۱۹۶۲ء کے دستور میں ملک کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اس کے لیے ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ کا نام تجویز ہوا تو مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا سید گل بادشاہؒ ، اور مولانا عبید اللہ انورؒ کے قافلے کے اضطراب اور بے چینی کا عالم کیا تھا۔ جب تک حکمرانوں کو یہ تبدیلی واپس لینے اور دوبارہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شناخت واپس کرنے پر مجبور نہیں کر دیا گیا یہ بے چینی اور اضطراب ملک بھر کی سڑکوں اور مساجد و مدارس میں مرغ بسمل کی طرح تڑپتا دکھائی دیتا رہا۔ مگر آج ملک کی اسلامی شناخت کو دھیرے دھیرے مدھم کرتے چلے جانے پر یہ اضطراب سڑکوں اور مساجد تو کجا زبانوں بلکہ دلوں میں بھی تلاش کرنا پڑ رہا ہے۔

۱۹۶۲ء کے دستور کے تحت اسمبلیاں اور حکومتیں وجود میں آئیں تو یہ عشرہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، اور پیر محسن الدین احمدؒ کی مسلسل صدا اور للکار کا دور تھا اور وہ پورے دور میں حالات کے جبر کے ساتھ سمجھوتا کرنے کی بجائے اس کے سامنے کھڑے نفاذ اسلام کا نعرۂ مستانہ بلند کرنے میں مصروف رہے۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتیجے میں نئے دستور کی بات ہوئی تو اب دستور سازی کے محاذ پر مولانا مفتی محمودؒ پھر قائدانہ حیثیت سے کھڑے تھے۔ انہیں مولانا عبد الحق آف اکوڑہ خٹک، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، پروفیسر غفور احمدؒ ، مولانا محمد ذاکرؒ ، اور مولانا ظفر احمد انصاریؒ کی رفاقت حاصل تھی۔ مگر انہوں نے جس تدبر و جرأت کے ساتھ دستور سازی کا رخ لبرل ازم اور سوشلزم سے اسلامی جمہوریہ پاکستان اور قرارداد مقاصد کی طرف موڑا وہ بلاشبہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا کرشمہ تھا۔ آج دستور کا رخ پھر سے لبرل ازم کی طرف پھیرا جا رہا ہے مگر ان بزرگوں میں سے کوئی بھی وہاں دکھائی نہیں دے رہا۔

مولانا مفتی محمودؒ نے نفاذ اسلام میں پیش رفت کے لیے جمہوری اسمبلیوں کی طرح جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ کے مارشل لاء کو ذریعہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جس کے نتیجے میں قرارداد مقاصد دستور کا باقاعدہ حصہ بنی، وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی، اسلامی نظریاتی کونسل فعال ہوئی، اور حدود آرڈیننس کا نفاذ عمل میں آیا۔ مگر آج یہ ساری چیزیں نظر ثانی کی زد میں ہیں، کچھ ان اس کی نذر ہو چکی ہیں اور باقی امور اپنی اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔

یہ حالات کی تیز رفتار تبدیلی کا کرشمہ ہے کہ مولانا مفتی محمودؒ کے دور میں آج سے چار عشرے قبل نفاذ اسلام کے اقدامات کے حوالہ سے ہم پیش رفت کی پوزیشن میں تھے اور مسلسل پیش قدمی کرتے جا رہے تھے، مگر اب ہم صرف دفاع پر قناعت کیے ہوئے ہیں۔ اور اگر کچھ دوست ناراض نہ ہوں تو یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم سے یہ دفاع بھی نہیں ہو پا رہا۔ مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد ہماری اس پوزیشن میں تبدیلی کیسے آئی ہے اور ہم کہاں کہاں پیش قدمی کی بجائے پسپائی پر مجبور ہوئے ہیں، اس کا حساب لگانے کی ضرورت ہے۔ اس کے اسباب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس کی تلافی کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کل سامنا ہونے پر مولانا مفتی محمودؒ کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ ’’چھوڑو یار! تم سے تو ہماری کمائی کی حفاظت بھی نہ ہو سکی۔‘‘