مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ مارچ ۱۹۸۰ء

شہید حریت حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے چھ برس ہوگئے ہیں مگر ان کی متحرک اور جری و جسور شخصیت ابھی تک نگاہوں کے سامنے پھر رہی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ابھی وہ ساتھ بیٹھے کام کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر باہر چلے گئے ہوں۔ دراصل شہیدؒ نے مختصر سی عملی زندگی میں اپنے اکابر احباب اور رفقاء کے دلوں میں جرأت و جسارت اور غیرت و حمیت کے کچھ ایسے نقوش قائم کر دیے ہیں کہ بڑے سے بڑے زخم کو مندمل کر دینے والا مرہم ’’وقت‘‘ بھی ان کی جدائی کے صدمہ کی شدت کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

سید شمس الدین شہیدؒ کا تعلق اس عظیم خاندان سے ہے جسے جناب رسالت ماب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کا شرف حاصل ہے اور اس خاندان نے اس عظیم شرف کی لاج رکھنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ شہیدؒ کے جد امجد حضرت سید حریف آلؒ بخارا سے ہجرت کر کے ژوب بلوچستان کے علاقہ میں آئے اور دو معزز قبائل کے درمیان صلح کا مقدس فریضہ سرانجام دے کر ہمیشہ کے لیے ان لوگوں کے دلوں میں اپنا گھر بنا لیا۔ اور پھر اپنے خاندان کو یہاں بسا کر احمد شاہ ابدالیؒ کے ہمراہ جہادِ ہندوستان میں شریک ہوئے اور جام شہادت نوش فرمایا۔ برصغیر پر فرنگی کے تسلط کے بعد بلوچستان میں فرنگی کے قدموں کو آگے بڑھنے سے روکنے میں بھی اس عظیم خاندان سادات نے جرأت مندانہ جدوجہد کی اور جب تک بس چلا فرنگی لشکر کے سامنے مزاحمت کی بلند دیوار قائم کیے رکھی۔

اسی خاندان میں سے اللہ تعالیٰ نے مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو جرأت و جسارت اور عزیمت و استقامت کی مختصر سی جھلکی لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے پیدا فرما دیا۔ سید شمس الدین شہیدؒ فورت سنڈیمن (اب ژوب) میں حضرت مولانا سید محمد زاہد مدظلہ کے ہاں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی، فورٹ سنڈیمن کے ہائی اسکول سے میٹرک کیا اور اس کے بعد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، مدرسہ مخزن العلوم خانپور، مدرسہ عربیہ نیوٹاؤن کراچی اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا عبد الحق مدظلہ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ جیسے اساطین علم و فضل سے علم دین حاصل کیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث پڑھ کر سند فراغت حاصل کی۔ راقم الحروف کو دورۂ حدیث میں شہیدؒ کی رفاقت کا شرف حاصل ہے جو اگرچہ آٹھ نو ماہ کے مختصر وقفہ پر مشتمل تھی مگر روحوں کے ازلی ملاپ نے اسے ناقابل شکست اخوت اور دائمی رفاقت کا روپ دے دیا۔

مولانا شہیدؒ دورۂ حدیث سے فارغ ہو کر واپس گھر گئے تو ۱۹۷۰ء کے انتخابی ہنگامے آغاز پر تھے، ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں لنگر لنگوٹ کس کر انتخابی میدان میں کودنے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ شہیدؒ جو طالب علمی کے دور میں جمعیۃ طلبہ اسلام سے وابستہ تھے، اب جمعیۃ علماء اسلام کا پلیٹ فارم ان کی جولانگاہ بننے والا تھا۔ انہیں نہ عملی سیاست سے کچھ زیادہ لگاؤ تھا اور نہ انتخاب کا کچھ تجربہ۔ ویسے بھی یہ بلوچستان کی اسمبلی کے پہلے انتخابات تھے۔ ناتجربہ کاری اور بے سروسامانی کے سوا کچھ موجود نہ تھا مگر فورٹ سنڈیمن میں علاقہ کے نواب اور بہت بڑے جاگیردار سردار تیمور شاہ جوگیزئی کو بلامقابلہ کامیاب ہوتے دیکھ کر سید شمس الدین شہیدؒ نے بھی نعرۂ مستانہ بلند کر دیا۔ لوگوں نےسمجھایا، ڈرایا اور انجام سے باخبر کیا اور نواب کے غیض و غضب سے بچنے کی تلقین کی مگر جرأت و استقلال کی حدت نے تخویف و تحریص کے تمام ہتھیاروں کو پگھلا کر رکھ دیا اور علاقہ کے تجربہ کار، باوسائل اور طاقتور نواب کے سامنے ایک بے سروسامان اور ناتجربہ کار نوجوان ڈٹ گیا جس کی عمر بمشکل چھبیس سال تھی۔ مقابلہ ہوا اور خوب ہوا کہ کاروں اور جیپوں کے مقابلہ میں بائیسکل سوار اور پیدل کارکنوں نے وسیع و عریض خطۂ زمین میں انتخابی جنگ لڑی اور جب انتخاب کے نتائج کا اعلان ہوا تو کئی نسلوں سے چلے آنے والے اجارہ دار خاندان کی سیاسی اجارہ داری کا بت دھڑام سے زمین پر آرہا اور چھبیس سالہ نوجوان نے نواب کو ہزاروں ووٹوں سے شکست دے دی۔

شہیدؒ نے ایک بار خود راقم الحروف سے کہا کہ اس الیکشن مہم میں ان کے کل سات سو روپے خرچ ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل کے انتخابی اخراجات لاکھوں سے متجاوز تھے۔ اب سید شمس الدین شہیدؒ بلوچستان میں جمعیۃ علماء اسلام کی سہ رکنی پارلیمانی پارٹی کے رکن اور اسمبلی کے سب سے کم عمر ممبر تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی نے صوبہ سرحد و بلوچستان میں مخلوط حکومتیں قائم کیں تو مولانا شہیدؒ کو بلوچستان اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر چن لیا گیا اور جمعیۃ علماء اسلام کی تنظیم نو کا مرحلہ آیا تو جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کی امارت کے منصب جلیلہ پر فائز ہوگئے۔ اور یہ سب کچھ اتنی عجلت میں ہوا کہ خود رشک کو بھی رشک ہونے لگا۔

سید شمس الدین شہیدؒ نے بلوچستان میں جمعیۃ نیپ کی مخلوط حکومت کے دوران بھی بے باکی کا جرأت مندانہ مظاہرہ فرمایا اور جس بات کو غلط سمجھا کوئی مصلحت انہیں اسے غلط کہنے سے نہ روک سکی۔ اور جب حکومت کے خاتمہ کے بعد انہیں لالچ اور خوف کے ہتھکنڈوں سے خریدنے کی کوشش کی گئی تو متعدد سفید ریش بزرگوں کو اقتدار کی دہلیز پر سربسجود دیکھتے ہوئے بھی اس کم عمر نوجوان نے استقلال اور عزیمت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

شہید نے بلوچستان میں قادیانیت کے خلاف سرگرم اور فیصلہ کن جدوجہد کر کے اس مسئلہ کو ازسرنو زندہ کیا اور نئی تحریک ختم نبوت کی بنیاد رکھی۔ اس دوران گرفتار بلکہ اغوا بھی ہوئے، مسلح دستوں کے محاصرہ میں رہے، دنیا میں کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ سید شمس الدین شہیدؒ کہاں ہیں؟ ہڑتالیں ہوئیں، جلوس نکالے گئے، جلسے ہوئے، نوجوانوں نے بھوک ہڑتال کی، قومی اسمبلی میں واویلا کیا گیا، ہائی کورٹ کے دروازے پر دستک دی گئی تب جا کر انہیں ظلم و استبداد کے پنجہ سے نجات ملی اور پتہ چلا کہ اس نوجوان کو اسلحہ اور ہتھیار کے حصار میں بٹھا کر وزارت اعلیٰ کی پیشکشیں کی جاتی رہی ہیں، بلینک چیک پیش کیے جاتے رہے ہیں، مگر اقتدار اور دولت اس نوجوان کے سامنے آکر اپنی کشش اور سکت سے محروم ہو چکی تھی۔

وقت کے سب سے بڑے شاطر اور فنکار ڈپلومیٹ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوانِ اقتدار میں طلب کیا اور ڈپلومیسی کے جال میں پھنسانا چاہا مگر بھٹو کی عیاری اور ڈپلومیسی بھی اس نوجوان کے ایمان میں نقب نہ لگا سکی۔ ایشیا بلکہ تیسری دنیا کی سیاسی قیادت کا دعوے دار ایک ناتجربہ کار اور نو عمر سیاستدان کو طلب کر کے کہتا ہے کہ

’’مولوی صاحب! آپ لوگ بڑے اچھے ہیں، دیانت دار ہیں، با اصول ہیں، صاحبِ کردار ہیں۔ میں ملک میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر اچھے ساتھی نہیں ملتے اگر آپ لوگ نیپ کا ساتھ چھوڑ کر میرے ساتھ آجائیں تو ملک اور قوم کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہوں۔‘‘

مولوی شمس الدین جواب دیتے ہیں کہ

’’بھٹو صاحب! یہ ٹھیک ہے کہ ہم بااصول ہیں لیکن فرمائیے کہ کیا ہم اقتدار کے لیے نیپ کا ساتھ چھوڑ دینے کے بعد بھی بااصول رہیں گے؟‘‘

تیسری دنیا کے سب سے بڑے ڈپلومیٹ کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور اہل حق کے قافلہ کا ایک نوجوان سالار اپنے ایمان اور کردار کی دولت کو صحیح سلامت بچاتے ہوئے کامیاب و کامران واپس پلٹ آتا ہے۔

یہ سید شمس الدین شہیدؒ کی مختصر سی مجاہدانہ زندگی کی چند جھلکیاں ہیں اور انہی کے باعث قافلہ ولی اللہی کے ہر فرد نے مولوی شمس الدینؒ کی شہادت کو اپنے گھر کا غم سمجھا ہے۔ آج سید شمس الدین شہیدؒ ہم میں نہیں ہیں، وہ کامیاب و کامران اپنے خدا، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے اکابر کے پاس پہنچ چکے ہیں لیکن ان کی زندگی، خدمات، جدوجہد، کردار، روایات اور جرأت و جسارت کے ناقابل فراموش مظاہرے تو ایک کھلی کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔

آئیے ہم عہد کریں کہ سید شمس الدین شہیدؒ کی یاد کو اپنے عمل میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے اور اس عظیم مردِ قلندر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حق و صداقت اور عدل و انصاف کی جدوجہد کو اپنی توانائیوں، صلاحیتوں اور وسائل کا خراج پیش کرتے رہیں گے کہ زندہ قومیں اپنے شہیدوں کی یاد اسی طرح تازہ رکھتی ہیں۔