نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء

کم و بیش دو صدیوں پر محیط مسلسل جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی پشت ہا پشت کی طویل قربانیوں کے بعد جب امسال ۱۲ ربیع الاول کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو ہر محبِ وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا کہ بدیر سہی لیکن بالآخر ہم نے اپنا رخ صحیح منزل کی طرف کر لیا ہے، اب اگر ہم سست روی سے چلے تب بھی کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ قوم کی اجتماعی گاڑی کا رخ اس کی اصل منزل کی طرف ہے اور اسے دوسری طرف پھیرا نہیں جا سکتا۔ لیکن ۱۲ ربیع الاول کے بعد سے اب تک پانچ ماہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ احساس ابھرتا چلا جاتا ہے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کا آغاز ہونے کے باوجود ہمارے قدم آگے نہیں بڑھے اور اسلامی قوانین پر عملدرآمد کے سلسلہ میں بے عملی بلکہ دوعملی کی کیفیت نے نہ صرف اسلامی قوتوں کے اعتماد کو مجروح کیا ہے بلکہ خود اسلام اور اس کی افادیت و ضرورت کے خلاف اسلام دشمن عناصر کے پروپیگنڈہ اور مہم کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ ان طنزیہ فقروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو ان عناصر کی طرف سے آج ہر برائی اور مسئلہ کو تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ نظامِ مصطفٰیؐ کی طرف منسوب کر کے مجلسوں میں کسے جاتے ہیں۔

یہ صورتحال اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی اس لیے اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ اس مسئلہ پر فوری اور سنجیدہ توجہ دی جائے اور تمام پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہوئے اس کے اسباب و علل کی چھان پھٹک کی جائے تاکہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے نظامِ مصطفٰی کے مؤثر نفاذ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا صحیح طور پر ادراک و احساس کر سکیں۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور کو سامنے رکھنا ضروری ہے:

  1. اسلامی قوتوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کی وہ صورتحال باقی نہیں رہی جو تحریکِ نظامِ مصطفٰیؐ کے دوران تھی اور جسے اسلامی قوانین پر عملدرآمد کی مؤثر اور معتمد ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے فرقہ واریت کے تعصب نے قوم کی امیدوں اور اس کی منزل کی راہ میں بدگمانیوں کی دیوار کھڑی کر دی ہے۔ ایک طرف ہمارے شیعہ بھائی فقہ جعفریہ کے الگ نفاذ کا علم بلند کیے ہوئے ہیں حالانکہ کسی بھی ملک میں دو متوازی پبلک لاء کا نفاذ نہیں ہو سکتا اور ۱۹۵۱ء میں شیعہ سمیت ہر مکتبِ فکر کے ۳۱ علماء ان ۲۲ نکات سے اتفاق کر چکے ہیں جن کے مطابق پاکستان میں پبلک لاء صرف ایک ہی ہوگا البتہ پرسنل لاء میں ہر فرقہ اپنی فقہ پر عمل کرنے میں آزاد ہوگا۔ حتیٰ کہ فقہ جعفریہ کے نفاذ کی موجودہ تحریک کے قائد مفتی جعفر حسین صاحب خود اس متفقہ فارمولا پر دستخط فرما چکے ہیں۔

    دوسری طرف جمعیۃ علماء پاکستان کا موجودہ طرزِ عمل بھی سنجیدہ حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ اس اہم سیاسی و دینی جماعت کے موجودہ رویہ کا نتیجہ جذباتی حلقوں میں تو شاید جمعیۃ علماء پاکستان کے رسوخ میں اضافہ کی صورت میں سامنے آئے لیکن اجتماعی اور قومی نقطۂ نظر سے اختلاف و تفریق میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں ستم ظریفی اس وقت اپنی انتہا کو چھونے لگتی ہے جب جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی یہ ارشاد فرما دیتے ہیں کہ اسلام چاہنے والی جماعتیں الگ الگ رہ کر بھی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت جائیں گی۔ اس صورتحال پر کڑھنے کی حد تک تو ساری قوم شریک ہے لیکن اس کا مداوا کرنے کے لیے عملی کوشش کا کوئی مؤثر پہلو ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

    گزشتہ دنوں ملک کے کم و بیش ۵۰۰ قانون دانوں نے دینی و سیاسی راہنماؤں کو باہمی اتحاد کے لیے پندرہ دن کا نوٹس دیا تو راقم الحروف نے ایک اخباری بیان میں ان معزز قانون دانوں کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ یہ مسئلہ نوٹس بازی کا نہیں بلکہ سنجیدہ عملی کوشش کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس لیے سینئر وکلاء کو ایک گروپ کی صورت میں تمام سرکردہ سیاسی و دینی راہنماؤں سے مل کر اس سلسلہ میں عملی کوشش کرنی چاہیے۔ آج بھی اس مسئلہ کا حل یہی ہے کہ سنجیدہ اور مؤثر حضرات اسے اپنا مشن بنا کر فرقہ وارانہ کشمکش کو ہم آہنگی اور اتحاد میں بدلنے کے لیے تدبر و حکمت سے محنت کریں۔ آخر جب ۱۹۵۱ء میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء مل بیٹھ کر مشترکہ دستوری لائحہ عمل طے کر سکتے ہیں تو آج ان کے جمع ہونے میں کونسی رکاوٹ ہے؟ اور جب تحریکِ ختم نبوت اور تحریکِ نظامِ مصطفٰیؐ میں سب ایک ساتھ مل کر چل سکتے ہیں تو آج ان کے قدم ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں اٹھ سکتے؟

  2. اسلامی قوانین پر عملدرآمد میں ایک رکاوٹ قانونی نظام میں موجود سہ عملی بھی ہے۔ کیونکہ اس وقت تین قسم کے عدالتی نظام بیک وقت متوازی طور پر کام کر رہے ہیں۔ (۱) عام عدالتیں (۲) مارشل لاء کورٹس (۳) شرعی عدالتیں۔ اس سہ عملی کی وجہ سے پولیس کے بدعنوان عناصر کی چاندی ہی چاندی ہے۔
  3. انتظامیہ کا عام رویہ اور مجموعی کردار اسلامی قوانین پر عملدرآمد کی راہ میں ایک دیوار کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جب بھی انتظامیہ کے کردار کو زیربحث لانے کی کوشش کی جاتی ہے اعلیٰ افسران اسے اپنے خلاف محاذ سمجھ کر وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ بات افراد کی نہیں ادارے کی ہے۔ اگر بیوروکریسی کے مجموعی کردار پر بات ہو تو ہمارے افسران کو اسے انفرادی وقار اور گروہی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انتظامیہ میں اچھے افراد بھی ہیں اور برے بھی۔ اور کسی ادارے میں بیک وقت اچھے اور برے افراد کا جمع ہوجانا کوئی غیر فطری امر نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ادارے کا مزاج اور اس کا مجموعی رول کیا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے ہم دیکھتے ہیں تو انتظامیہ کا موجودہ ڈھانچہ وہی نظر آتا ہے جو ہمارے بدیشی حکمرانوں نے اپنے نو آبادیاتی مقاصد اور مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قائم کیا تھا۔ جبکہ اسلامی قوانین کی کامیابی اور ان پر مؤثر عملدرآمد کے سلسلہ میں ایک ناگزیر ضرورت یہ ہے کہ انتظامیہ کے ڈھانچہ بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہیئت اور کردار کو قوم و ملک کے عصری مفادات اور اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بنیادی اور انقلابی اقدامات کیے جائیں کیونکہ اسلامی نظام کی کامیابی کے لیے مؤثر اور فرض شناس انتظامیہ ضروری ہے۔
  4. اسلامی قوانین کا نفاذ اور اس کے لیے شرعی عدالتوں اور بینچوں کی تشکیل قرآن و سنت کے ماہر جید علماء کی مؤثر شرکت سے ہی مکمل ہو سکتی ہے۔ لیکن عصری قانون کے ماہرین کا طبقہ الگ ہے اور اسلامی قوانین کے ماہرین کا طبقہ الگ، ان میں سے کوئی بھی تنہا طور پر اسلامی قوانین کی تنفیذ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس لیے جب تک نظامِ تعلیم میں تبدیلی کے ذریعے اسلامی و عصری قانون کے مشترک ماہرین میسر نہیں آتے اس وقت تک موجودہ قانون کے ماہرین اور علماء پر مشتمل مشترکہ عدالتوں کا قیام ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
  5. معاشی مسائل اور الجھنوں نے انسان کو اس حد تک پریشان کر رکھا ہے کہ آج کے مادہ پرست دور میں باقی تمام چیزوں کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارا موجودہ معاشی ڈھانچہ اور معاشرہ کی طبقاتی تقسیم بدیشی حکمرانوں کی یادگار ہے جس کے ہوتے ہوئے غریب عوام کے معاشی مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام نے خلافتِ راشدہ کے مبارک دور میں مثال اور نمونہ کے طور پر جو معاشرہ پیش کیا وہ قطعی طور پر غیر طبقاتی تھا اور اس میں اپر کلاس، مڈل کلاس اور لوئر کلاس کا تصو رنہیں تھا بلکہ حکمران طبقہ، اصحاب ثروت اور غریب عوام کے مابین معیارِ زندگی کی یکسانیت ہی اس معاشرہ کا طرۂ امتیاز تھی۔ مگر ہمارے موجودہ معاشی ماہرین اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے نوآبادیاتی معاشی ڈھانچہ کو ہی چند جزوی ترامیم اور معمولی قطع و برید کے ساتھ اسلامی نظام معیشت کے نام سے باقی رکھنے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انشراحِ صدر کے ساتھ خلافتِ راشدہ کے غیر طبقاتی معاشرہ کو اپنی منزل قرار دیا جائے اور اسی بنیاد پر معاشی ڈھانچہ ازسرنو تشکیل دیا جائے کیونکہ کمیونزم اور سوشلزم کی راہ خلافتِ راشدہ کے غیر طبقاتی نظام ہی کے ذریعے رد کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ماہرینِ معیشت جتنی جلدی اس حقیقت کا ادراک کر لیں گے ملک و قوم کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا۔