علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ اگست ۲۰۰۹ء

۱۷ اگست کو صبح ڈیٹرائٹ کی مسجد بلال میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد واشنگٹن واپسی کے لیے ایئرپورٹ جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ مولانا قاری محمد الیاس نے اطلاع دی کہ علامہ علی شیر حیدریؒ کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مسجد میں آنے سے پہلے انٹرنیٹ پر جنگ اخبار دیکھ کر آئے تھے جس کی اس دن پہلی خبر یہی تھی۔ واشنگٹن پہنچ کر انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی تفصیلات معلوم کیں، بے حد صدمہ ہوا۔ وہ تحفظ ناموس صحابہؓ اور اہل سنت کے عقائد و حقوق کے دفاع کے محاذ کے ایک اہم راہنما تھے جن کی پوری زندگی اسی مشن میں گزری اور بالآخر حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس کے تحفظ کی جنگ لڑتے ہوئے انہوں نے اپنے پیش رو راہنماؤں کی طرح جام شہادت نوش کر لیا۔

اہل السنہ والجماعہ کی اساس قرآن کریم کے بعد سنت رسولؐ اور صحابہ کرامؓ کے تعامل پر ہے۔ اسی لیے وہ اہل السنہ والجماعہ کہلاتے ہیں۔ چنانچہ دین کی تعبیر و تشریح میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کے اساسی مقام اور ان کے ناموس و حرمت کا تحفظ و دفاع ان کے فرائض کا حصہ ہے جس کے لیے مختلف حوالوں سے جدوجہد کا سلسلہ قرن اول سے جاری ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ

’’تم میں سے جو شخص کسی کی اقتداء کرنا چاہتا ہے تو اس کی اقتداء کرے جو فوت ہو چکا ہے اس لیے کہ زندہ شخص کسی وقت بھی فتنہ میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ وہ اقتداء کے قابل لوگ اصحاب محمدؐ ہیں جو سب سے زیادہ نیک دل ہیں، گہرے علم والے ہیں، اور سب سے کم تکلف والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبیؐ کی صحبت و رفاقت کے لیے او راپنے دین کی امامت کے لیے چنا ہے، پس ان کے نقش قدم پر چلو او ران کے طریقوں کی پیروی کرو کیونکہ وہی ہدایت اور صراط مستقیم پر ہیں‘‘۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ ارشاد گرامی اہل سنت کے عقیدہ و عمل کی اساس ہے اور اسی کو وہ حق اور ہدایت کا معیار سمجھتے ہیں۔ حضرات صحابہ کرامؓ کے تمام طبقات مثلاً مہاجرین، انصار، اہل بیت، ازواج مطہرات ، اور فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے والے صحابہؓ کے ساتھ یکساں محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان حفظ و مراتب اور درجات فضیلت کا لحاظ رکھنا بھی اہل سنت کے جذبات ایمانی کا حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں کسی بھی افراط و تفریط سے گریز کو وہ اپنے ایمان کا تقاضا سمجھتے ہیں اور بوقت ضرورت اس کے اظہار کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

حضرات صحابہ کرامؓ چونکہ قرآن و سنت کی صحیح تعبیر و تشریح کا معیار ہیں اس لیے ان کی حرمت و عدالت کو مجروح ہونے سے بچانا اور ان کی ثقاہت و صداقت کو شک و شبہ سے بالاتر سمجھنا بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اور اسی وجہ سے ان کے ناموس اور عدالت کے دفاع و تحفظ کو اہل سنت نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے۔ ایک راویت میں ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے سرکاری طور پر بعض علمائے کرام کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ مسجدوں میں بیٹھ کر لوگوں کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنایا کریں اور صحابہ کرامؓ کے مناقب اور فضائل ان کے سامنے بیان کیا کریں۔

اسی بنا پر صحابہ کرامؓ کی توہین و تنقیص اور ان پر ایسی جرح و تنقید کو، جس سے ان کے ایمان و عدالت اور مقام صحابیت پر زد پڑتی ہو، ہمیشہ گمراہی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ امام ابو زرعہ رازیؒ کا کہنا ہے کہ

’’جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی توہین و تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرامؓ قرآن کریم کے نزول اور جناب رسول اللہؐ کی سنتوں کے گواہ ہیں اور گواہوں کو مجروح کرنے والے دراصل دین کا اعتماد ختم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

عقائد اہل سنت اور ناموس صحابہ کرامؓ کے تحفظ و دفاع کا یہی مشن ہے جس کے لیے ماضی میں برصغیر پاک و ہند میں حضرت مجدد الف ثانی، حضرت امام ولی اللہ دہلوی، حضرت مرزا مظہر جان جاناں، حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور دیگر اکابر رحمہم اللہ تعالیٰ مصروف کار رہے ہیں۔ جبکہ زمانۂ قریب میں مولانا عبد الشکور لکھوی، مولانا نورالحسن شاہ بخاری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا قاضی مظہر حسین، اور سردار احمد خان پتانی رحمہم اللہ جیسے بزرگوں نے زندگیاں کھپا دی ہیں۔ او راسی قافلہ کی باقیات صالحات میں سے حضرت علامہ عبد الستار تونسوی اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین۔

ان بزرگوں کا طریق کار علمی، تحقیقی، اور دفاعی تھا جس میں تحریکی اور اقدامی عنصر کا اضافہ کرتے ہوئے گزشتہ تین عشروں کے دوران مولانا حق نواز شہیدؒ اور ان کے رفقاء ’’سپاہ صحابہ‘‘ کے نام سے سامنے آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مشن کو ملک گیر عوامی تحریک کی شکل دے دی۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ اور ان کے قریبی رفقاء مثلاً مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ اور مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ بنیادی طور پر جمعیۃ علمائے اسلام سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی جماعتی زندگی کا ایک بڑا حصہ جمعیۃ علمائے اسلام کے پلیٹ فارم پر نفاذ شریعت کی جدوجہد میں گزرا۔ مگر جھنگ کے مخصوص ماحول نے مولانا حق نواز جھنگویؒ کی توجہ کو تحفظ ناموس صحابہؓ کی جدوجہد کی طرف مبذول کیا تو وہ اس کی طرف مسلسل بڑھتے چلے گئے اور اپنے ہم ذوق دوستوں کا ایک قافلہ تشکیل دیا جس نے سپاہ صحابہؓ کے نام سے پورے ملک میں صحابہ کرامؓ کی ناموس و حرمت پر مر مٹنے کا جذبہ و نعرہ کی گونج پیدا کی اور قربانیوں اور شہادتوں کی لائن لگا دی۔ دینی تحریکوں کو یہ رنگ دینے کے طریق کار سے ہمیں کبھی اتفاق نہیں رہا، ہم نے ان بزرگوں کے طریق کار کو ہی صحیح سمجھا جن کا ہم سطور بالا میں تذکرہ کر چکے ہیں اور ہم نے اس کا خود مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ براہ راست ملاقاتوں میں بھی اظہار کیا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے مولانا حق نواز جھنگویؒ اور ان کے رفقاء و کارکنوں کا جذبہ و خلوص اور ایثار و قربانی ہمیشہ شک و شبہ سے بالاتر رہے ہیں اور اپنے مشن کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ اور اس پر کٹ مرنے کے جذبہ کو ہم نے ہمیشہ خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا ایثار القاسمیؒ، مولانا ضیاء الرحمٰنؒ فاروقی، اور مولانا محمد اعظم طارقؒ کے بعد علامہ علی شیر حیدریؒ اس قافلہ کے سالار تھے۔ وہ ایک کہنہ مشق استاد، نکتہ رس خطیب، صاحب علم مناظر، مدبر راہنما، اور پرجوش قائد تھے۔ انہوں نے اپنے پرجوش قافلہ کی جرأت مندانہ راہنمائی کے ساتھ ساتھ اپنے موقف کی جس طرح علم و استدلال کے ساتھ عوامی اور علمی حلقوں میں ترجمانی کی ہے اسے ان کے امتیازی وصف کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ وہ صرف عوامی اسٹیج کے آدمی نہیں تھے بلکہ کتاب و علم کے ساتھ بھی ان کا گہرا رشتہ تھا۔ اس لیے ان کی شہادت ہمارے لیے دوہرا صدمہ ہے کہ خطابت و تحریک کی دنیا میں علم و کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگ بتدریج کم ہوتے جا رہے ہیں۔

مجھے علامہ علی شیر حیدریؒ کے ساتھ زیادہ ملاقاتوں اور تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ملا۔ ان کی خواہش رہی ہے کہ میں کبھی دو چار روز ان کے پاس جامعہ حیدریہ خیرپور میں رہوں۔ میرا بھی جی چاہتا تھا اور ایک آدھ بار پروگرام بنانے کا ارادہ بھی کیا مگر مقدر میں نہ تھا اس لیے خواہش ادھوری رہی۔ البتہ مختلف جلسوں میں ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک بار ہمارے پاس گوجرانوالہ بھی تشریف لائے مگر تفصیلی گفتگو نہ ہو سکی۔ غالباً آخری ملاقات کڑیانوالہ ضلع گجرات کے ایک جلسہ میں ہوئی۔ وہ خالصتاً ناموس صحابہ کرامؓ کے تحفظ و دفاع کی جدوجہد کے آدمی تھے۔ انہوں نے اس کے لیے شب و روز محنت کی ہے، ہزاروں افراد کی ذہن سازی کی ہے، اور ہزاروں کارکنوں کو اس کے لیے تیار کیا ہے۔ ان کے طریق کار سے اختلاف کی گنجائش تھی لیکن ان کی شبانہ روز محنت، اپنے مشن کے ساتھ والہانہ وابستگی، اور ایثار و قربانی کا ایک طویل عرصہ ہم سب کے لیے قابل رشک ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور جملہ پسماندگان اور متوسلین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔