حافظ قرآن کریم کا ایک اور بڑا اعزاز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
یکم دسمبر ۲۰۰۰ء

اس سال برطانیہ سے واپسی سے ایک روز قبل لیسٹر کی اسلامک دعوہ اکیڈمی کی سالانہ تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور اکیڈمی کی تعلیمی پیش رفت دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ اکیڈمی لیسٹر کے نوجوان عالم دین مولانا محمد سلیم دھورات نے قائم کی ہے اور نو سال قبل ایک گھر میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب ایک خوبصورت بلڈنگ میں منتقل ہو چکا ہے جو پہلے بوڑھوں کی دیکھ بھال کے کام آتی تھی مگر مولانا سلیم دھورات نے اسے خرید کر مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔

لیسٹر برطانیہ کے ان شہروں میں سے ہے جہاں مسلمانوں کی دینی چہل پہل عام ہے، مسجدیں آباد ہیں، شام کے مکاتب میں مجموعی طور پر ہزاروں بچے اور بچیاں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بازاروں میں عام طور پر مسلمانوں کی دکانیں ہیں۔ لیسٹر کو وہاں کی میونسپلٹی نے کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ کے ساتھ جڑواں شہر قرار دیا تھا اور میری اس کے ساتھ مناسبت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ مولانا محمد سلیم دھورات کے والد مرحوم انڈیا کے صوبہ گجرات سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ انہوں نے یہیں پرورش پائی ہے اور دارالعلوم بری میں دینی تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی ہے۔ ۱۹۸۵ء میں لندن کے ویمبلے کانفرنس ہال میں پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تو اس میں اسٹیج سیکرٹری کے طور پر مولانا محمد سلیم دھورات کا اس لیے انتخاب کیا گیا تھا کہ وہ بہت اچھی انگلش بولتے ہیں۔ اس زمانے میں وہ دارالعلوم بری میں زیرتعلیم تھے مگر اب نہ صرف ایک معیاری تعلیمی ادارہ کے سربراہ ہیں بلکہ تصوف و سلوک میں بھی وہ ایک روحانی پیشوا کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

اسلامک دعوہ اکیڈمی میں قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ درس نظامی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کا سلسلہ بھی قائم ہے جس کے لیے شخصی رابطوں کے علاوہ اسلام کی دعوت اور دیگر ضروری معلومات پر مشتمل درجنوں کتابچے انگلش میں چھپوا کر ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ سالانہ تقریب میں مولانا محمد سلیم دھورات کے بھائی مولانا محمد اسماعیل دھورات نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس دعوت کے نتیجے میں اب تک ۶۳ افراد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور قبول اسلام کے بعد ان کی دینی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ سالانہ تقریب میں پاکستان کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مہمان خصوصی تھے، انہوں نے تفصیلی خطاب فرمایا اور اکیڈمی کے شعبہ حفظ میں قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے ایک حافظ اور ایک فاضل عالم دین کی دستار بندی کی جس نے ابتدائی دینی تعلیم اس اکیڈمی میں حاصل کی تھی مگر اس کی تکمیل جنوبی افریقہ کے ایک دارالعلوم میں کر کے اس سال سند فراغت حاصل کی ہے۔

مولانا محمد سلیم دھورات کی دعوت پر راقم الحروف کو بھی اس اجتماع میں شرکت اور خطاب کا موقع مل گیا جس کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اسلامک دعوۃ اکیڈمی لیسٹر کا یہ سالانہ اجتماع بہت سے حوالے اور مناسبتیں رکھتا ہے جن میں ایک یہ ہے کہ اکیڈمی میں قرآن کریم مکمل کرنے والے ایک حافظ کی دستار بندی ہونے والی ہے اور ویسے بھی رمضان المبارک کا برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ چند دنوں میں شروع ہو رہا ہے اس لیے میں اسی مناسبت سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ رمضان المبارک میں قرآن کریم کا نزول ہوا تھا اس لیے یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے، اسی وجہ سے اس ماہ میں باقی سارے سال کی بہ نسبت قرآن کریم کی تلاوت زیادہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا پاک کلام کثرت کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا پڑھنا اور سننا دونوں عبادت کا درجہ رکھتے ہیں اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہ ہے کہ آپؐ قرآن کریم کی تلاوت تو اہتمام سے کرتے ہی تھے مگر اس کے ساتھ اس کے سننے کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں حضرت ابی بن کعبؓ بہت بڑے قاری ہیں بلکہ ایک ارشاد گرامی میں جناب نبی اکرمؐ نے انہیں امت کا سب سے بڑا قاری ہونے کا خطاب دیا ہے اور یہ ان کے بڑے اعزازات اور امتیازات میں سے ہے۔ ان کا دوسرا بڑا اعزاز یہ ہے کہ رمضان المبارک میں تراویح کے دوران قرآن کریم مکمل پڑھنے اور سننے کی جو سنت چودہ سو برس سے جاری ہے اس کا آغاز ان سے ہوا تھا اور مسجد نبویؐ میں تراویح کے دوران سب سے پہلے انہوں نے قرآن کریم سنایا تھا۔ ان کا تیسرا بڑا اعزاز یہ ہے کہ ایک بار جناب رسول اللہؐ نے بلا کر ان سے فرمائش کی کہ وہ آپؐ کو قرآن کریم سنائیں۔ حضرت ابی بن کعبؓ نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ! کیا میں آپ کو قرآن کریم سناؤں، آپ پر تو خود قرآن کریم نازل ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ہاں تم مجھے قران کریم سناؤ اس لیے کہ ابھی حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے اللہ تعالیٰ کا پیغام دیا ہے کہ ابی بن کعبؓ کو بلا کر اس سے قرآن کریم کی سورۃ البینہ سنو۔ اس پر حضرت ابی بن کعبؓ کو اور زیادہ تعجب ہوا اور دریافت کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے؟ آنحضرتؐ نے اثبات میں جواب دیا تو حضرت ابی بن کعبؓ نے خوشی سے چھلکتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ حضورؐ کو قرآن کریم کی یہ سورت سنائی۔

اس لیے قرآن کریم سننے کا اہتمام کرنا بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور رمضان المبارک میں تراویح میں یہ سنت جاری ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں قرآن کریم کم از کم ایک بار ضرور نماز کی حالت میں سن لیا جائے۔

قرآن کریم حفظ کرنا اور حافظ ہونا بہت بڑی سعادت کی بات ہے لیکن یہ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے کیونکہ قرآن کریم پورا یاد کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر یاد کر لیا جائے تو اس کو ساری زندگی یاد رکھنا فرض ہوجاتا ہے۔ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ جس نے قرآن کریم یاد کیا مگر اپنی غفلت اور بے پرواہی کی وجہ سے بھول گیا تو قیامت کے روز وہ کوڑھا کر کے اٹھایا جائے گا۔ لیکن اگر قرآن کریم یاد کرنے والا ساری زندگی اسے یاد رکھے اورا س کے احکام پر عمل بھی کرے تو اس کے اعزازات بہت ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے قیامت کے روز بڑے بڑے انعامات سے نوازا جائے گا جن میں سے صرف ایک کا آج تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔

جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے قرآن کریم یاد کیا، یاد کرنے کے بعد اسے یاد رکھا اور اس کے احکام پر عمل بھی کیا، اس حافظ سے قیامت کے روز کہا جائے گا کہ اپنے خاندان کے ایسے دس افراد کو اپنے ساتھ جنت میں لے جاؤ جن کے بارے میں دوزخ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ حافظ قرآن کریم کا کوٹہ ہے کہ وہ دس جہنمیوں کو جہنم کے دروازے سے واپس لا کر جنت میں اپنے ساتھ لے جائے گا۔ اسی لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ جب قرآن کریم پر عمل کرنے والا حافظ قیامت کے دن دس افراد کی نجات کا کوٹہ لے کر کھڑا ہوگا، ساری برادری اس کے گرد جمع ہو کر امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی ہوگی اور وہ ان میں سے دس افراد کا انتخاب کر کے انہیں اپنے ساتھ جنت میں لے جانے کے لیے بلا رہا ہوگا تو تب پتہ چلے گا کہ حافظ قرآن کریم کتنا بڑا وی آئی پی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ اور وی آئی پی کا لفظ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ جناب نبی اکرمؐ کے اس ارشاد کا ترجمہ کر رہا ہوں ’’اشراف امتی حملۃ القرآن‘‘ کہ میری امت کے اشراف قرآن کریم کو اٹھانے والے ہیں۔

اس مناسبت سے میں ایک اور بات آپ حضرات سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں اور آپ سب اس بات پر غور کر لیں کہ کل قیامت کے دن اگر ہمارے معاملات کا فیصلہ میرٹ اور فائل پر کرنے کا اعلان ہوگیا تو ہمارا کیا حشر ہوگا؟ جس طرح کی زندگی ہم گزار رہے ہیں اور ہمارے شب و روز کے جو معمولات ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے ہم میں سے کون اپنی فائل اور میرٹ پر کسی بھی درجہ میں اعتماد کر سکتا ہے؟ ہمارے پاس کون سا میرٹ ہے اور ہماری فائل میں آخر ہے ہی کیا؟ اس لیے ہماری نجات تو اسی طرح کے کسی کوٹے میں شامل ہو کر ہوگئی تو کچھ امید ہے ورنہ اور تو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ لہٰذا میری گزارش ہے کہ ہر خاندان کو اپنے لیے چار پانچ ضمانتیوں کا انتظام بہرحال کر ہی لینا چاہیے۔ کسی خاندان میں پانچ حافظ ہوں گے تو پچاس کا، دس ہوں گے تو سو افراد کی نجات کا بندوبست ہو جائے گا۔

ان گزارشات کے ساتھ قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے نوجوان، اس کے والدین، اساتذہ اور اسلامک دعوہ اکیڈمی کے منتظمین و معاونین کو مبارکباد دیتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو قرآن کریم کو یاد رکھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیم کو فروغ دینے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔