گلوبل سوسائٹی میں دینی تعلیم کی ضروریات

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جولائی ۲۰۲۰ء

تقریباً دس سال قبل جمیکا (نیویارک، امریکہ) کے معروف دینی ادارہ دارالعلوم نیویارک میں چند روزہ قیام کے دوران وہاں کے اساتذہ سے عصر حاضر اور مستقبل کی گلوبل سوسائٹی کی معروضی صورتحال کے حوالہ سے دینی تعلیم کی ضروریات پر گفتگو کا موقع ملا تھا، اسے کچھ حک و اضافہ کے ساتھ دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اس وقت کے عمومی حالات کے پیش نظر دینی تعلیم کے معروضی تقاضوں کے حوالے سے جو ضروریات محسوس کی جا رہی ہیں ان کا ایک ہلکا سا خاکہ آپ حضرات کے سامنے پیش کر رہا ہوں، اس خیال سے کہ دینی تعلیم کے نظام سے عملی طور پر وابستہ حضرات ان پر غور فرمائیں اور انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں کسی نہ کسی جگہ ایڈجسٹ کرنے کی عملی صورتیں تلاش کریں، کیونکہ ان ضروریات کو محسوس کرنا اور انہیں پورا کرنے کی عملی شکلیں تلاش کرنا بہرحال ہماری ہی ذمہ داری بنتی ہے۔ ان میں سے بیشتر ضروریات ایسی ہیں جن کی طرف اکابر علماء دیوبندؒ نے بھی اپنے اپنے دور میں اور اپنے اپنے انداز میں توجہ دلائی ہے اور ان ضروریات کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے کی ہمیں وقتاً فوقتاً تلقین فرمائی ہے، مثلاً:

  1. غیر مسلموں تک دین کی دعوت اور اسلام کا تعارف پہنچانے کی ذمہ داری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اور اس میں ان مسلمانوں اور خاص طور پر علماء کرام اور دینی مدارس و مراکز کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے جو غیر مسلم اکثریت کے ممالک میں رہتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد رہنے والے غیر مسلموں کو اسلام سے متعارف کرائیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور تعلیمات کی پہچان کرائیں، اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں۔
  2. حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ وہ جس سال دارالعلوم دیوبند میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے بخاری شریف پڑھ کر دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے تو حضرت شاہ صاحبؒ نے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام سے فرمایا کہ دنیا تک اسلام کی دعوت پہنچانے کے لیے انگریزی زبان سیکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر باقی دنیا کے ساتھ اسلام کی بات کرنا آج کے زمانے میں مشکل ہے۔
  3. دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کی تعلیم ضروری ہونے کی بات سب سے پہلے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اس دور میں کی جب وہ ابھی دارالعلوم دیوبند میں صدارت تدریس کی ذمہ داری کے لیے تشریف نہیں لائے تھے اور سہلٹ (بنگلہ دیش ) میں قیام پذیر تھے۔ انہوں نے اس دور میں آسام کے دینی مدارس کے لیے ابتدائی تعلیم سے لے کر دورۂ حدیث تک پورے اٹھارہ سال کا تعلیمی نصاب مرتب کیا جو شائع شدہ موجود ہے۔ اور اس میں دینی علوم کے ساتھ ضروری عصری علوم مثلاً سائنس، ریاضی، انگلش، معاشرتی علوم اور ٹیکنالوجی وغیرہ کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر حضرت مدنیؒ کے دارالعلوم دیوبند تشریف لے جانے کی وجہ سے آسام میں انہیں اس تجربہ کا موقع نہ مل سکا، البتہ ان کا مرتبہ کردہ یہ مشترکہ نصاب آج بھی مطبوعہ صورت میں موجود ہے۔
  4. امت کو عمومی طور پر دین کی طرف واپس لانے کی جدوجہد کا آغاز حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ نے کیا جو آج پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ دین کے اعمال اور ماحول کی طرف دنیا بھر کے مسلمانوں کی واپسی کی اس جدوجہد میں شرکت اور اسے صحیح سمت آگے بڑھانے کے لیے راہنمائی کا کام بھی علماء کرام اور دینی مدارس کی ذمہ داریوں کے دائرہ سے باہر نہیں ہے، اور ہم سب کو اس ضرورت کا احساس کرنا چاہیے۔
  5. فقہاء کرام نے دین کی تعلیم کے دو درجے بیان کیے ہیں: فرض عین اور فرض کفایہ۔ فرض کفایہ کے دائرہ میں تو دینی مدارس بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں کہ امت کو علماء کرام، ائمہ، خطباء، مدرسین، حفاظ، قراء، مفتیان کرام اور مبلغین تیار کر کے دے رہے ہیں۔ مگر فرض عین کے دائرہ میں، کہ ہر مسلمان مرد اور عورت دین کی ضروریات سے بہرصورت آگاہ ہو، اس کے لیے ہمارا کوئی منظم اور مربوط کام موجود نہیں ہے۔
  6. حضرت مولانا سید احمد رضا بجنوریؒ نے ’’ملفوظات علامہ انور شاہ کشمیریؒ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے لکھا ہے کہ ماضی کے فقہاء کرام نے صرف دیارِ اسلام کے مسائل لکھے ہیں اور دیارِ کفر کے نہیں لکھے، اس لیے اب ہمیں پریشانی ہوتی ہے ۔ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ مسلمانوں کو دیارِ کفر میں رہنا ہی نہ پڑے گا۔ اب ضرورت ہے کہ دیارِ کفر کے لیے جو اسلامی احکام ہیں وہ بھی مدون کر دیے جائیں کیونکہ اسلامی احکام میں بڑا توسع ہے۔ اس میں جہاں دیارِ اسلام کے لیے احکام ہیں، دیارِ کفر کے لیے بھی ہیں، خاص طور پر فقہ حنفی میں یہ توسع بہت زیادہ ہے۔
  7. مولانا بجنوریؒ نے اس کے ساتھ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کا یہ ملفوظ بھی نقل کیا ہے کہ ایسے ہی فقہاء نے صرف قضا کے مسائل لکھے ہیں اور دیانت کے مسائل سے صرف نظر کر لی ہے، یہ بھی بڑی کوتاہی ہوئی ہے جس پر آج کے فقہاء کرام کو کام کرنا چاہیے۔
  8. حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے ’’حیات مفتی اعظمؒ‘‘ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں قدیم فلسفہ رائج تھا، جدید فلسفہ شامل نصاب نہ تھا، استاذ محترم حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے درس حدیث کے دوران کئی طلبہ سے فرمایا کہ پہلے زمانہ میں ہمارے اسلاف نے قدیم فلسفہ پڑھ کر اس کا رد کیا کہ اس وقت وہی رائج تھا، لیکن آج کل قدیم کی جگہ جدید فلسفہ نے لے لی ہے، اب دنیا میں یہی فلسفہ رائج ہے، اس لیے جدید فلسفہ ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ نئے فتنوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    حضرت شاہ صاحبؒ کے اس ارشاد گرامی کی وضاحت میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارے علم عقائد و کلام کے اکثر مباحث معتزلہ وغیرہ کے ساتھ یونانی فلسفہ کے مسائل کے حوالے سے ہیں۔ اپنے ماضی کے علمی ورثہ اور اعتقادی نظام کے ساتھ وابستگی کے لیے ان کی تعلیم ضروری ہے، لیکن آج کے دور میں یونانی فلسفہ متروک ہو چکا ہے، اس کی جگہ مغرب کے جدید فلسفہ نے لے لی ہے جو انسانی حقوق اور آزادی کا فلسفہ کہلاتا ہے، اور آج کے اعتقادی اور فکری مباحث زیادہ تر اسی فلسفہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس لیے مغربی فلسفہ کی تعلیم کو دینی تعلیم کے نصاب میں شامل کرنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح یونانی فلسفہ کو شامل کرنا ضروری تھا۔ پرانے دور میں ہمیں معتزلہ کی عقلیات کا سامنا تھا لیکن آج کے دور میں ہمیں سیکولر اور حقوق پرست حلقوں کی عقلیات سے سابقہ درپیش ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکولر فلسفہ اور ہیومنیٹی کے جدید نظام کو سمجھنا اور اس پر عبور حاصل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، تاکہ اسے اسی کی زبان میں رد کیا جا سکے۔ میری طالبعلمانہ رائے میں تفتازانیؒ کی ’’شرح العقائد‘‘ کی دوسری جلد لکھ کر اسے نصاب میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

  9. مغربی فلسفہ کے اسکالرز کی طرف سے اسلامی احکام و تعلیمات پر جو علمی اور فکری اعتراضات پیش کیے جا رہے ہیں ان کی طرف سنجیدہ توجہ اور منظم محنت کی ضرورت ہے، کیونکہ نئی نسل کے فکری ارتداد کا بڑا سبب یہی اشکالات و اعتراضات بن رہے ہیں، جبکہ کوئی معقول جواب نہ ملنے کے باعث یہ اعتراضات ان کے ذہنوں میں پختہ ہوتے جا رہے ہیں۔
  10. تشکیک آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے اور نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت اس کا شکار ہے۔ یہ فکری ارتداد ہے جس کے بارے میں حضرت علامہ سید ابوالحسن علی ندویؒ نے ’’ردۃ ولا ابابکر لھا‘‘ کے عنوان سے کتابچہ لکھ کر اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔ یہ فکری ارتداد دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، اس کی بنیاد علم کی کمی اور معلومات کی وسعت پر ہے۔ معلومات کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے جبکہ علم کا دائرہ سمٹ رہا ہے۔ اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے، اس کے اسباب معلوم کرنے اور نئی نسل کو اس سلسلہ میں علمی و فکری راہنمائی مہیا کرنے کے مربوط نظام کی ضرورت ہے، مگر ہمارے دینی مدارس و مراکز اس پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دے رہے۔

    حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ ’’متکلمین نے جو علم کلام مدون کیا ہے اس میں سب کچھ موجود ہے کیونکہ انہی کے مقرر کردہ اصولوں پر سارے شبہات کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے اور اسی (قدیم) ذخیرے سے علم کلام جدید کی بھی با آسانی تدوین ہو سکتی ہے۔ میں نے بطور خود ہی بعض شبہات جن کا مجھے علم تھا، جواب لکھ کر ’’الاشباھات المفیدہ عن الاشتباھات الجدیدۃ‘‘ کے نام سے شائع کر دیا ہے اور اس میں ایسے اصول موضوع قائم کر دیے ہیں جن سے میرے نزدیک اس قسم کے جتنے شبہات بھی ہوں، بسہولت رفع کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ (الاضافات ج ۹ ص ۴۰۷) لیکن حضرت تھانویؒ یہ بھی اس کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ’’اب مجھ میں قوت کہاں، کام کے لوگ موجود مگر کام نہ کریں تو اس کا کیا علاج ہے۔ آرام طلبی سے کام نہیں ہوتا، کام تو کرنے سے ہوتا ہے، مجھ سے برا بھلا جیسا ہو سکا دین کی ضروری خدمات کر چکا، اب جو اور کام باقی ہے اس کو اور لوگ کریں، کیا وہ نہیں کر سکتے؟ مجھ سے اچھا کر سکتے ہیں، لیکن اگر خوامخواہ واجد علی شاہ بن جائیں تو اس کا علاج ہی نہیں ہے۔‘‘ (الاضافات ج ۹ ص ۴۰۷)

    اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ حضرت تھانویؒ علم کلام کے قدیم ذخیرے میں ساری باتیں موجود ہونے کے باوجود ’’جدید علم کلام‘‘ کی تدوین کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں اور اس کا انہوں نے آغاز بھی کر دیا تھا لیکن ان کا شکوہ ہے کہ کام کو آگے بڑھانے کے لیے جو کچھ ہونا چاہیے وہ نہیں ہو رہا اور جو لوگ کر سکتے ہیں وہ آرام طلبی کا شکار ہیں۔

  11. حضرت تھانویؒ کا ایک اور شکوہ بھی ملاحظہ کر لیجئے، وہ فرماتے ہیں کہ ’’یہ میری بہت پرانی رائے ہے اور اب تو رائے دینے سے بھی طبیعت افسردہ ہو گئی ہے، اس لیے کہ کوئی عمل نہیں کرتا۔ وہ یہ ہے کہ تعزیرات ہند کے قوانین اور ڈاکخانہ اور ریلوے کے قواعد بھی مدارس اسلامیہ کے نصاب میں داخل ہونے چاہئیں، یہ بہت پرانی رائے ہے مگر کوئی نہیں مانتا اور نہ سنتا ہے۔‘‘ (الاضافات الیومیۃ ج ۶ ص ۴۳۵)
  12. زبانوں کا مسئلہ بھی عجیب سا ہو گیا ہے کہ انگریزی زبان میں معیاری گفتگو اور تحریر کی بات تو رہی ایک طرف، بعض اداروں کی استثنا کے ساتھ ہمارے بیشتر مدارس میں عربی زبان میں خطابت اور مضمون نویسی کی مشق کا کوئی نظم موجود نہیں ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر فضلاء عربی زبان میں باہمی گفتگو، کہیں بیان کرنے یا کوئی معیاری مضمون تحریر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ حتٰی کہ اردو میں بھی معیاری گفتگو، خطابت اور تحریر کا مطلوبہ مؤثر معیار ہمارے حلقوں میں نہیں پایا جاتا۔ میں اسے ’’اضعف الایمان‘‘ کا درجہ قرار دیتا ہوں کہ ہمارا فارغ التحصیل کم از کم اردو میں ہی پڑھے لکھے لوگوں کے حلقے میں سلیقے سے گفتگو کر سکے، یا آج کی صحافتی زبان میں ڈھنگ کا کوئی مضمون لکھ سکے۔ جبکہ آج کے ابلاغ عامہ اور میڈیا کا معیار بہت مختلف ہے۔ اس طرح میڈیا اور صحافت کی زبان، اسلوب، تکنیک، اور معیار تک سرے سے ہماری رسائی نہیں ہے۔
  13. غیر مسلم اکثریت رکھنے والے ممالک میں رہائش پذیر مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں احکام و قوانین کی تدوین کی بات حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے حوالے سے سطور بالا میں گزر چکی ہے، جبکہ میری طالبعلمانہ رائے میں ایک اور اہم مسئلہ ہماری فوری توجہ کا مستحق ہے کہ جس مسلم معاشرے میں احناف کی اکثریت ہے وہاں کے عمومی احکام و قوانین یقیناً فقہ حنفی کی بنیاد پر طے ہوں گے اور ہو رہے ہیں۔ اسی طرح شوافع، مالکیہ، حنابلہ اور ظواہر کی اکثریت رکھنے والے ممالک میں انہی فقہوں کو تفوق حاصل ہے لیکن دنیا کے بہت سے علاقوں میں مشترک سوسائٹیاں وجود میں آ رہی ہیں، بالخصوص مغربی ممالک میں اکثر جگہ صورتحال ہے کہ ایک مسجد میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور سلفی مسلمان اکٹھے نماز پڑھتے ہیں، انتظامیہ میں بھی شریک ہیں، ان جگہوں پر مسائل کا حل کن بنیادوں پر ہوگا اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ فقہی اصول کیا ہوں گے؟

    یہ ایک اہم ملی ضرورت ہے جس کی طرف فقہاء کرام اور دینی مدارس و مراکز کو بالآخر متوجہ ہونا پڑے گا۔ یہاں اتنی بات کہہ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا کہ فقہی ذخیرے میں اس سلسلہ میں سینکڑوں جزئیات موجود ہیں جن کی بنیاد پر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، اس لیے بات اصول اور قوانین کی ہے کہ آج کے عالمی حالات اور مسلم امہ کی مجموعی ضروریات کے پیش نظر ان کی باقاعدہ تشکیل و تدوین کی جائے۔

  14. ہمارے ہاں تخصص فی الفقہ یا تخصص فی الافتاء کے عنوان سے بیسیوں مدارس میں کورسز چل رہے ہیں لیکن ان کا دائرہ کار عمومی اور ملی ضروریات کے تناظر میں بہت ہی محدود ہے۔ ہمارے اپنے ممالک اور معاشروں کے پس منظر میں مفتی حضرات کی تیاری کے لیے یہ کورسز بہت مفید اور ضروری ہیں اور بہت سے مدارس کے نصاب بہت حد تک معیاری بھی ہیں، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ آج کے گلوبل ماحول اور مشترکہ سوسائٹیوں میں دوسرے فقہوں کے اصول اور طرق استنباط بالخصوص شافعی، مالکی، حنبلی اور ظاہری فقہوں کے اصول و قوانین سے ضروری واقفیت کے بغیر کوئی مفتی اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کر سکتا ہے۔ بلکہ میری طالبعلمانہ رائے یہ ہے کہ تخصص فی الفقہ کے نصاب میں امت کے دائرہ کی دیگر فقہوں کے ساتھ ساتھ آج کے قانون سازی کے عالمی اصولوں اور معاشرتی ارتقا کی بنیادوں سے واقفیت کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
  15. قدیم دور میں جب ابھی علم کلام باقاعدہ منظم ہو کر سامنے نہیں آیا تھا اور فقہ کو احکام کے دائرے میں محدود نہیں کر دیا گیا تھا، اس وقت فقہ کی اصطلاح بہت وسیع مفہوم میں استعمال ہوتی تھی۔ اور اس میں فقہ الاحکام کے ساتھ ساتھ فقہ العقائد اور فقہ النفس (اصلاح نفس) بھی فقہ اور تفقہ کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، خود حضرت امام ابوحنیفہؒ کا عقائد پر رسالہ ’’الفقہ الاکبر‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ ان میں سے فقہ العقائد تو علم کلام کی صورت میں الگ طور پر مرتب ہو کر نصاب کا حصہ بن گئی، مگر فقہ النفس (تصوف) ہمارے نصاب میں شامل نہیں رہی اور اسے اختیاری درجہ میں ہی رکھا جاتا ہے۔ میری طالبعلمانہ رائے میں اس فقہ کو اپنے قدیمی مفہوم میں تمام شعبہ جات کے ساتھ نصاب کا باضابطہ حصہ ہونا چاہیے اور آج کے حالات میں اس کی ضرورت کا احساس پہلے سے بڑھتا جا رہا ہے۔
  16. تعلیم کے ماحول میں ’’آن لائن سسٹم‘‘ تمام تر تحفظات کے باوجود تیزی کے ساتھ جگہ بنا رہا ہے اور ’’عموم بلوٰی‘‘ کی صورت اختیار کر گیا ہے، اسے نظر انداز کرنا نقصان دہ ہوگا۔ دینی تعلیم کے لیے اس کے مؤثر استعمال کے ذرائع اور مواقع تلاش کرنا، اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ان کی ٹریننگ دینا، اور اپنے تعلیمی مقاصد کے لیے ان کا بھرپور استعمال کرنا اب ہماری ضروریات میں شامل ہو چکا ہے، اس طرف بھی سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔

دینی تعلیم کی ان ناگزیر ضروریات اور تقاضوں پر دینی مدارس کے اساتذہ کی نظر رہنی چاہیے، ضروری نہیں کہ سب لوگ ان سب کاموں کی طرف متوجہ ہوں، اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ سب ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیک وقت کوئی مہم چلائی جا سکے، لیکن یہ بہرحال ضروری ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ کو آج کی ان معروضی ضروریات کا علم ہو، ان کا احساس ہو، اور ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کا ذوق پیدا ہو جائے۔ سردست اگر اساتذہ صرف اتنی بات کا اہتمام کر لیں کہ ان ضروریات سے واقفیت حاصل کر لیں، ان کے بارے میں ضروری معلومات کے ساتھ غوروخوض کرتے رہیں اور دوران تدریس اپنے شاگردوں کو حسب موقع اور حسب ضرورت ان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے علمی و فکری راہنمائی فراہم کرنے کو معمول بنا لیں تو اس سے بھی اچھی پیشرفت ہو سکتی ہے اور ’’رب مبلغ اوعٰی لہ من سامع‘‘ کا خوشگوار منظر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔