برطانیہ کے چند دینی اداروں میں حاضری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ جون ۲۰۰۶ء

۳۱ مئی کی شام باٹلی سے برمنگھم پہنچا کیونکہ یکم جون کا دن جامعہ الہدٰی کے پرنسپل مولانا رضاء الحق سیاکھوی کے ساتھ تعلیمی مشاورت کے لیے مخصوص تھا۔ میرے برطانیہ کے ہر سفر میں ایک دن اس کام کے لیے مقرر ہوتا ہے۔ مولانا موصوف اپنی تمام مصروفیات ترک کر دیتے ہیں اور میں بھی اس روز کوئی اور مصروفیت نہیں رکھتا، اس کام میں اکثر اوقات مولانا اکرم ندوی بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں لیکن اس سال وہ نہ آسکے البتہ مولانا سعید یوسف خان اور مولانا قاری خبیب احمد عمر دن کا اکثر حصہ ہمارے ساتھ اس مشاورت میں شریک رہے۔ جامعہ الہدٰی کی سرگرمیاں، مسائل، تعلیمی پیش رفت کا جائزہ، کوتاہیوں اور کمزوریوں کا تجزیہ، کارکردگی کی رپورٹ اور نئے پیش آمدہ مسائل زیر بحث آتے ہیں۔

اس سال سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے طالبات کے مختلف درجات کے لیے قرآن کریم، حدیث اور فقہ کا جو نصاب ترتیب دیا تھا اس کے بارے میں معلمات کی رائے یہ ہے کہ وہ مقدار کے لحاظ سے زیادہ ہے اور معیار کے حوالے سے طالبات کی ذہنی سطح سے کچھ اوپر ہے۔ ہم نے حدیث نبویؐ میں صحاح ستہ کی ہر کتاب میں سے منتخب ابواب کی ایک مقدار طے کی تھی، معلمات کا کہنا ہے کہ وہ اس انتخاب کے باوجود پورا نصاب نہیں پڑھا سکیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں قابل توجہ تھیں اس لیے ہم نے طے کیا کہ معلمات سے کہا جائے کہ وہ تاثرات اور متبادل تجاویز تحریری شکل میں دیں۔ اس کے ساتھ ہی جو طالبات یہ کورس مکمل کر کے فاضلات کی سند حاصل کر چکی ہیں اور جو اس وقت آخری کلاسوں میں زیر تعلیم ہیں ان میں سے چند طالبات سے بھی رائے لی جائے اور سب کی آراء کو سامنے رکھ کر اگر اس انتخاب پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہو تو از سر نو دیکھ لیا جائے۔

اصل مسئلہ یہ کہ ہمارے ہاں برصغیر پاک وہند میں دورۂ حدیث کا جو طرز ہے اور سند و روایت کے ساتھ ساری کتابیں پڑھانے کا جو معمول ہے وہ بہت سے مسلم ممالک میں نہیں ہے اور ان کی معلمات و طالبات اس سے مانوس نہیں ہیں۔ اس لیے ان معلمات کو جنہوں نے اس طرز سے تعلیم حاصل نہیں کی اس انداز سے حدیث پڑھانے میں دقت پیش آتی ہے اور وہ دشواری محسوس کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ تجویز بھی رکھی گئی ہے کہ سند و روایت کے معمول و تسلسل کو باقی رکھنے کے لیے صحاح ستہ کی کسی ایک کتاب کے منتخب ابواب اس طرز سے پڑھا دیے جائیں اور باقی کتاب سے ماحول اور وقت کی ضروریات کے مطابق احادیث کا ایسا انتخاب کر لیا جائے جو طالبات کی ذہنی سطح اور دورانیہ کی مدت سے بھی مطابقت رکھتا ہو اور ان ضروریات کو بھی پورا کرتا ہو جو اس نصاب میں حدیث پڑھانے سے ہمارا مقصود ہیں۔

بہرحال جمعرات کا دن اسی طرح کے مسائل پر مشاورت میں گزرا، جمعہ کو مجھے بریڈ فورڈ کی مدنی مسجد میں جمعہ کے خطاب کے لیے پہنچنا تھا، وہاں مفتی محمد ابراہیم خطیب ہیں جو چھچھ کے علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم سے انہوں نے دورۂ تفسیر کیا تھا، ان کے ہاں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا اور شام کو بذریعہ ٹرین آکسفورڈ پہنچ گیا۔ یہاں ٹرین تیز رفتار اور وقت کی پابند ہوتی ہے لیکن خاصی مہنگی ہوتی ہے، تین گھنٹے کا سفر تھا جس کا کرایہ باون پونڈ یعنی تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پاکستانی روپے تھا۔ یہی سفر اگر میں بس سے کرتا تو اس سے نصف کے لگ بھگ کرایہ ہوتا لیکن وہ سات گھنٹے میں پہنچتی اور جس پروگرام کے لیے میں نے یہ سفر کیا اس میں نہ پہنچ سکتا۔ آکسفورڈ میں سٹینلے روڈ پر مدینہ مسجد ہے جو اس شہر کی پرانی مساجد میں سے ہے، وہاں سال میں میرا ایک آدھ بیان ضرور ہوتا ہے اور بہت سے احباب کو اس کا انتظار رہتا ہے، جمعہ کے روز مغرب کے بعد مختصر بیان ہوا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے حوالے سے عالمی میڈیا میں اٹھائے جانے والے بعض علمی وفکری سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ رات قیام مولانا اکرم ندویؐ کے ہاں تھا، ان کے ساتھ مختلف مسائل پر گفتگو رہی۔ مولانا کا شغف حدیث نبویؐ کے ساتھ زیادہ رہتا ہے اور سند و روایت کے شعبہ سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، بزرگ محدثین کی تلاش، ان سے رابطہ اور حدیث کی روایت و تلمذ کا شرف حاصل کرنے کے ذوق کے حامل ہیں، ان کے ساتھ اس مسلسل رابطہ کی وجہ سے مجھے بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ ہفتہ کے روز لندن جا کر وائٹ چیپل کی بڑی مسجد کے ساتھ ایک سنٹر میں طلبہ و طالبات کو مؤطا امام مالک پڑھاتے ہیں، ان کی دو بچیاں بھی ان کے ساتھ جا کر اس سبق میں شریک ہوتی ہیں اور وہ اپنی بچیوں کو اس نہج پر اہتمام کے ساتھ تعلیم دے رہے ہیں۔

ہفتہ کے روز وائٹ چیپل کے اسی مرکز کے قریب ابراہیم کمیونٹی کالج میں عصر کے بعد ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے فکری و علمی نشست کا اہتمام تھا جس میں مولانا محمد اکرم ندوی کو بھی شریک ہونا تھا اس لیے ان کے ساتھ ہی لندن واپسی ہوئی۔ اسی دوران لکھنؤ سے مولانا سید سلمان الحسینی الندوی تشریف لا چکے تھے، ان سے ملاقات ہوئی۔ ورلڈ اسلامک فورم کی اس فکری نشست کا عنوان تھا ’’عصر جدید کے چیلنج اور علماء کرام کی ذمہ داریاں‘‘۔ فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے نشست کی صدارت کی، مولانا سید سلمان الحسینی الندوی مہمان خصوصی تھے جبکہ بزرگ عالم مولانا عتیق الرحمن سنبھلی اور بنگلہ دیش سے تشریف لائے ہوئے بزرگ عالم مولانا فضل حق امینی تشریف فرماتھے جو بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ بنگلہ دیش سے ورلڈ اسلامک فورم کے نائب صدر اور دارالارشاد میر پور ڈھاکہ کے پرنسپل مولانا سلمان ندوی بھی شریک محفل تھے۔ لندن کے مختلف علاقوں سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ میں نے اپنی گفتگو میں علماء کرام کو دعوت، تعلیم، میڈیا اور تہذیب و ثقافت کے حوالے سے موجودہ معروضی صورت حال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان کاموں کی ضرورت کا احساس دلانے کی کوشش کی جو ہونے چاہئیں لیکن نہیں ہو رہے۔ جبکہ مولانا سلمان ندوی اور مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے اپنے خطابات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔

اتوار کو صبح ایڈمنٹن کے علاقہ میں مولانا مشفق الدین کے گھر ناشتہ کی دعوت تھی۔ مولوی مشفق صاحب ہمارے عزیز ساتھیوں میں سے ہیں، بنگلہ دیش میں سلہٹ کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی دعوت پر میں سلہٹ کا سفر کر چکا ہوں، ڈیوزبری کے تبلیغی مدرسہ کے فضلاء میں سے ہیں، کچھ عرصہ نوٹنگھم میں مولانا رضاء الحق کے رفیق کار رہے ہیں اور ابراہیم کمیونٹی کالج جس کا میں پہلے تذکرہ کر چکا ہوں انہی کی مساعی کا ثمرہ ہے۔ وہ اس کے پرنسپل ہیں اور ان کے ساتھ بنگلہ دیش کے نوجوان فضلاء مولانا شمس الضحیٰ، مولانا محمدبلال، مولانا نجم العالم، مولانا حسن، مفتی عبد المنتقم سلہٹی اور دیگر ساتھیوں پر مشتمل ایک جماعت ہے جو مسلسل مصروف کار رہتی ہے۔ میں انہیں کام کرتے دیکھ کر خوش ہوتا ہوں اور دعائیں بھی دیتا رہتا ہوں۔ ان کے ساتھ میرا مشاورت کا اسی طرح کا تعلق ہے جیسا کہ جامعہ الہدیٰ سے ہے اور جب یہ نوجوان علماء مجھے گھیرے میں لیکر علمی، فکری، تعلیمی اور ثقافتی مسائل پر سوالات کرتے ہیں تو ساری تکان اتر جاتی ہے اور میں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ میری حاضری کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔

ایڈمنٹن میں ایک نیا اسلامک سنٹر دیکھا جو وسیع بلڈنگ میں ہے، خاصا بڑا تعلیمی منصوبہ ہے، مولوی مشفق اس کے منتظمیں میں شامل ہیں جبکہ سنٹر کے ڈائریکٹر طاررق عزیز چودھری کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ اس کے بعد برمنگھم روانگی ہوئی جہاں مدرسہ قاسم العلوم کی سالانہ سیرت کانفرنس تھی۔ یہ تعلیمی ادارہ مولانا قاری تصور الحق چلا رہے ہیں جن کا تعلق میر پور آزاد کشمیر سے ہے، ان کے ساتھ مولانا محمد قاسم، مولانا ضیاء المحسن، مولانا ارشد محمود اور دیگر علماء کی ایک جماعت ہے جو تعلیمی و سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک قطعہ زمین آلم راک کے علاقہ میں خریدا ہے جہاں مسجد علی تعمیر کرنے کا پروگرام ہے اور اس کے ساتھ ایک بڑا تعلیمی ادارہ بھی منصوبے میں شامل ہے۔ ہر سال مدرسہ کی طرف سے پورے اہتمام کے ساتھ سیرت کانفرنس کا اہتمام کرتے ہیں۔ مولانا حکیم اخترالزمان غوری مدنی ٹرسٹ نو منگھم کے ساتھ ساتھ مدرسہ قاسم العلوم کی جماعت کے سربراہ بھی ہیں، انہی کی زیر صدارت یہ سیرت کانفرنس منعقد ہوئی اور نوجوان علماء کرام کی محنت سے خاصا بڑا اجتماع ہوا۔ مولانا سید سلمان الحسینی الندوی کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے، ان کے علاوہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا قاری محمد نذیر فاروقی، مولانا عبد الحمید وٹو، مولانا سعید یوسف خان اور دیگر علماء کرام کے ساتھ ساتھ سید سلمان گیلانی اور محمد حنیف شاہد رام پوری نے بھی خطاب کیا۔ راقم الحروف نے سیرت طیبہ کے ایک دو پہلوؤں پر آج کے حالات کے تناظر میں گفتگو کی۔

سیرت کانفرنس سے خطاب کے بعد رات مولانا محمد اکرام الحق خیری کے ہاں بسر کی۔ مولانا خیری کا تعلق ٹھیڑی سندھ سے ہے، ایک عرصہ تک کراچی کی جولانگاہ خطابت ان کی للکار سے گونجتی رہی ہے، اب کچھ عرصہ سے ٹینی سن روڈ برمنگھم کی مسجد خدام الدین میں ہیں جہاں ہمارے پرانے بزرگ مولانا منظور الحقؒ بہت عرصہ رہے ہیں، ان کا تعلق چھچھ سے تھا لیکن سعدی پارک لاہور کے حوالے سے متعارف تھے۔ ان کے دور سے ٹینیسن کی اس مسجد میں حاضری کی روایت نباہ رہا ہوں اور اب مولانا اکرام الحق خیری کے ساتھ پرانے دوستانہ تعلق نے اس روایت کو اور بھی پختہ کردیا ہے۔ مسجد میں نماز عصر کے بعد درس دیا اور بہت سے پرانے دوستوں کے ساتھ ملاقات تازہ کی۔

پیر کی صبح صاحبزادہ مولانا امداد الحسن نعمانی تشریف لے آئے، ان کے ساتھ ان کا نیا مرکز ’’ختم نبوت ایجوکیشن سنٹر‘‘ دیکھا جو انہوں نے ایک چرچ خرید کر قائم کیا ہے۔ موزوں جگہ پر ہے اور اچھی عمارت ہے۔ امید ہے کہ وہ ایک اچھا دینی مرکز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مولانا اکرام الحق خیری اور مولانا امداد الحسن نعمانی نے مجھے لندن کے لیے بس میں سوار کرایا۔ ساؤتھال سے ہو کر لندن ایسٹ میں الحاج عبد الرحمان باوا کی ختم نبوت اکیڈمی میں پہنچا اور ان کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کی۔ وہ انگلش، فرنچ اور عربی زبانوں میں قادیانیت کے حوالے سے لٹریچر کی اشاعت اور تقسیم میں اچھی محنت کر رہے ہیں۔ ان کے فرزند سہیل باوا ان کاموں میں ان کے دست راست ہیں اور انٹر نیٹ پر تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے مسلسل مصروف عمل رہتے ہیں۔

شام کو رامفورڈ پر میاں اختر صاحب کے ہاں کھانے کی دعوت تھی، ان کا تذکرہ پہلے کئی کالموں کر چکا ہوں، گکھڑ سے تعلق رکھتے ہیں، حضرت والد صاحب کے پرانے شاگردوں میں سے ہیں، ہاکی کے قومی کھلاڑی رہے ہیں، ایک عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں اور ہر سفر میں ان کے ہاں بعض دوستوں سمیت شام کے کھانے میں حاضری میرے ’’فرائض‘‘ میں شامل ہوتی ہے۔

عشاء اور فجر کی نماز ویسٹ ھیم کے تبلیغی مرکز میں ادا کی، بہت وسیع جگہ خرید کر ایک بڑے مرکز کی تعمیر کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ مرکز کے ذمہ دار حضرات بھائی ذوالفقار علی اور بھائی صولت سکندر ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں، ان سے ملاقات ہوئی اور وہ بہت خوش ہوئے۔ مرکز کے امام مولانا عبد الحلیم کا تعلق لکھنؤ سے ہے، ورلڈ اسلامک فورم کے سرگرم ساتھیوں میں سے ہیں، جبکہ میرا ان سے سسرالی رشتہ بھی ہے وہ اس طرح کہ ان کی شادی گلیانہ تحصیل کھاریاں کے ایک خاندان میں ہوئی ہے اور میرا سسرالی گاؤں بھی وہی ہے۔ ان کے گھر میں بیٹھا یہ سطور تحریر کررہا ہوں اور ساتھ ہی مولانا قاری محمد عمران خان جہانگیری کا انتظار کر رہا ہوں، ان کے آنے پر ہم تینوں مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کے ہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہا ں سے نارتھ لندن میں ’’کیئرلنک‘‘ کے عنوان سے کام کرنے والے ایک سماجی ادارے کے دفتر میں جانے کا پروگرام ہے۔ اس سفر میں میری آخری رات آج کراؤلی میں مولانا قاری عبد الرشید رحمانی کے ہاں ہو گی اور کل صبح واپسی کے لیے گیٹ وک ایئر پورٹ سے جہاز پر سوار ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔