جہادی تحریکات، سی ٹی بی ٹی اور قرآن کا حکم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء

ایک قومی اخبار کے لاہور ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ مذکورہ رپورٹ میں اعلیٰ عسکری ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتا دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ اور اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہادی تنظیمیں صرف پاکستان میں نہیں دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم عمل ہیں اور یہ تنظیمیں کشمیر ہو یا چیچنیا جہاں بھی جہاد کر رہی ہیں اسے روکا نہیں جا سکتا۔

اس سے قبل یہ خبریں قومی پریس کے ذریعے سامنے آچکی ہیں کہ امریکی سینٹروں نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ملاقاتوں میں جن امور پر زور دیا ہے ان میں سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے، حرکۃ المجاہدین اور دیگر جہادی تنظیموں پر پابندی لگانے، مولانا مسعود اظہر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے، ان کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ درج کرنے اور عرب مجاہد اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں تعاون کرنے کے تقاضے بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ لیکن جنرل پرویز مشرف نے یہ کہہ کر پاکستانی عوام کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے کہ وہ جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ جنرل پرویز مشرف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ جہاد اور جہادی تنظیمیں صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کا دائرہ پورے عالم اسلام تک پھیلا ہوا ہے اور جہاد کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر ہے اسے لیے اسے روکنا ممکن نہیں ہے۔ اور ہمارے خیال میں امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی قوتوں کے لیے پریشانی کی اصل بات بھی یہی ہے کہ جہاد کا دائرہ پوری دنیا میں وسیع ہوتا جا رہا ہے ورنہ جب تک جہاد کا یہ عمل صرف افغانستان تک محدود تھا اور اس کی زد صرف روس پر پڑ رہی تھی اس وقت تک مغربی ملکوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ وہ اس سے خوش تھے اور جہادی تنظیموں کی حمایت و امداد میں بھی فراخدلی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس وقت ان کا خیال یہ تھا کہ سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد افغانستان کی مجاہد تنظیمیں شاید امریکہ کے سامنے اظہار تشکر میں سجدہ ریز ہو جائیں گی اور امریکہ بہادر آسانی کے ساتھ انہیں کچھ اور تھپکی دے کر سنکیانگ میں چین کے خلاف صف آرا کر دے گا۔ مگر ان مجاہدین تنظیموں نے چین کی طر رخ کرنے کی بجائے پہلے خود امریکہ سے نمٹ لینا زیادہ ضروری سمجھا اور نہ صرف یہ کہ فلسطین، کشمیر، صومالیہ، بوسنیا، کسوو، چیچنیا، مورو، اراکان اور اب انڈونیشیا میں جہاد کا چرچا ہونے لگا۔ بلکہ خلیج عرب میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی مسلح افواج کی موجودگی ان مجاہدین کو زیادہ کھٹکنے لگی اور مختلف مسلم ممالک سے جہاد افغانستان میں شرکت کے لیے آنے والے نوجوانوں نے اپنے اپنے ملکوں کی مغرب نواز اور امریکہ پرست حکومتوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا شروع کر دیں تو امریکہ بہادر کو یہ بات سمجھ آئی کہ یہ مجاہدین تو فی الواقع جذبۂ جہاد سے سرشار ہیں۔ اسی جذبۂ جہاد کو ختم کرنے کے لیے برطانوی استعمار کو مرزا غلام احمد قادیانی اور زار شاہی روس کو محمد علی باب اور بہاء اللہ شیرازی جیسے جھوٹے نبی کھڑے کرنا پڑے تھے اور جس جہاد سے جان چھڑانے کے لیے ترکی کی خلافت عثمانیہ کا تیاپانچہ کیا گیا تھا۔

امریکہ بہادر کو یہ بات بھی تکلیف دے رہی ہے کہ جن مجاہدین کو روس کے خلاف اسلحہ خود اس نے فراہم کیا تھا اور ان میں سے بہت سے نوجوانوں کو ٹریننگ بھی دی تھی وہی مجاہدین اب خود امریکہ کے سامنے کھڑے ہیں اور پوری دنیا میں اس کے لیے چیلنج کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس لیے اب امریکہ جہاد کی آواز کو دنیا سے ختم کرنا چاہتا ہے، مجاہدین کے عالمی نیٹ ورک کو توڑنے کے درپے ہے اور جہادی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں بدنام کرنے اور مسلم ممالک کی ریاستی قوت کے ذریعے انہیں کچلنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے۔ مگر اب وقت گزر چکا ہے کیونکہ جہادی تحریکات نے پوری دنیا میں وسیع نیٹ ورک قائم کر لیا ہے اور ان کی جڑیں مسلمان عام میں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ انہیں ختم کرنے کی امریکی خواہش حسرت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے چنانچہ مغرب استعمار کے لیے اب دانت پیسنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا۔ اس لیے ہم چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو جہادی تحریکات کے بارے میں ملت اسلامیہ کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرنے اور امریکی سینٹروں کو معروضی حقائق سے آگاہ کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جنرل صاحب! یہ سی ٹی بی ٹی کا چکر بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہے اور امریکی خواہشات اور مطالبات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو جہادی تحریکات پر پابندی لگانے اور ایٹمی پروگرام پر بین الاقوامی کنٹرول قبول کرنے کے ان دونوں مطالبات میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ ان دونوں تقاضوں کی علت اور پس منظر ایک ہی ہے اور دونوں کا مقصد بھی ایک ہے کہ عالم اسلام اس قابل نہ رہے کہ وہ بھارت اور اسرائیل جیسی مسلمان دشمن طاقتوں کے لیے خطرہ بن سکے تاکہ خلیج عرب میں اسرائیل کی بالادستی اور جنوبی ایشیا میں بھارت کی تھانیداری قائم کرنے کا منصوبہ کسی رکاوٹ کے بغیر پایہ تکمیل تک پہنچ جائے اور مسلم دنیا کو ایک بار پھر صدیوں کی غلامی کے نئے شکنجے میں جکڑا جا سکے۔ امریکہ بھارت کو ایٹمی طاقت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے اور اسرائیل کے پاس ایٹم بموں کی موجودگی پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں ہے اور وہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کو اسلام، جہاد اور ایٹمی قوت تینوں سے محروم کر دینے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہے اور اسی لیے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے حامی عناصر کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کر دینے سے پاکستان کی ایٹمی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر اس کے عوض ملک کو بہت سی مراعات حاصل ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ جب ایٹمی قوت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا تو بہت سی مراعات آخر کس چیز کے عوض حاصل ہوں گی؟ اور مغرب کا یہودی ساہوکار ہم پر کس لیے اتنا مہربان ہو رہا ہے کہ کوئی معاوضہ وصول کیے بغیر وہ ہمیں مراعات سے مالا مال کر دینا چاہتا ہے؟ ہمیں جن اقتصادی سہولتوں کی خوشخبری دی جا رہی ہے اور جس معاشی خوشحالی کے سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں آخروہ کس چیز کے بدلے میں ہیں؟ سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں سے پاکستان کی ایٹمی پوزیشن میں کوئی فرق نہ پڑنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والے دانشور اگر اس گتھی کو سلجھا سکیں اور مغرب کے یہودی سرمایہ کاروں کی ہم پر متوقع بے تحاشا نوازشات کی وجہ بتا سکیں تو ان کی بے حد نوازش ہوگی۔

سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دینے کی حمایت میں یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ دستخط کر دینے کا مطلب ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنا نہیں بلکہ مزید آگے بڑھنے سے روکناہے، جبکہ ہم اس وقت اتنی ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں کہ ہمیں اس میں مزید پیش رفت کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اگر اپنے ایٹمی پروگرام پر سی ٹی بی ٹی کے ذریعے بین الاقوامی کنٹرول قبول کر لیتے ہیں اور خود کو ایک معاہدہ کا پابند کر لیتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بین الاقوامی کنٹرول کی کنٹرولنگ اتھارٹی آئندہ ہمیں اس ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے کبھی نہیں کہے گی؟ آخر اس معاملہ میں ’’کنٹرولنگ اتھارٹی‘‘ خود ہم تو نہیں ہیں بلکہ یہ پوزیشن انہی بین الاقوامی اداروں اور قوتوں کو حاصل ہے جو نصف صدی سے ہمارے خلاف بھارت اور اسرائیل کو ہر طرح سپورٹ کرتے چلے آرہے ہیں اور ہماری کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان قوتوں اور اداروں کو ہم گزشتہ پچاس برس سے دیکھ رہے ہیں بلکہ بھگت رہے ہیں اس لیے ان کی کسی بات اور کسی وعدے پر بھروسہ آخر کس طرح کیا جا سکتا ہے؟

چنانچہ ہم چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف سے یہ گزارش کریں گے کہ جس طرح انہوں نے جہاد اور جہادی تحریکات کے بارے میں امرکی سینٹروں کے سامنے اپنے ایمانی جذبات اور پاکستانی عوام کے دلی احساسات کی بھرپور ترجمانی کی ہے اسی طرح ایٹمی پروگرام اور سی ٹی بی ٹی کے بارے میں بھی اپنے ملک کے غیور عوام کے جذبات سے امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کو پورے حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ آگاہ کر دیں۔ اور پھر یہ مسئلہ صرف جذبات و احساسات کا ہی نہیں بلکہ ہمارے عقیدہ و ایمان کا بھی ہے، اس لیے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف ’’جنگی قوت‘‘ حاصل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کی حد بھی بیان کی ہے ’’ترھبون بہ عدو اللہ وعدوکم‘‘ (الانفال) کہ دشمن پر مسلمانوں کا رعب قائم ہو یعنی مقابلہ میں طاقت کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے جب تک ایٹمی توانائی اور جدید ترین جنگی قوت کے حوالہ سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان طاقت کے تناسب میں توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں آجاتا اور مسلم ممالک ’’ترھبون بہ عدو اللہ‘‘ کی پوزیشن میں نہیں آجاتے، ایٹمی قوت میں کسی پیش رفت پر پابندی قبول کرنا قرآن کریم کی منشا اور حکم کے خلاف ہے، وہی قرآن کریم جسے ہاتھ میں لے کر بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے لاکھوں مسلمانوں کے سامنے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا دستور یہ قرآن ہوگا اور اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور دستور کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے جنرل صاحب سے یہ استدعا ہے کہ جہاد اور جہادی تحریکات کی طرح ’’جہادی قوت‘‘ کے بارے میں بھی قرآن کریم کے حکم اور مسلمانوں کے دینی و ملی جذبات سے مغربی قوتوں کو دوٹوک طور پر آگاہ کر دیں کہ ملک اور قوم دونوں کا مفاد اسی میں ہے۔