’’شریعت بل‘‘ جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء

(متحدہ شریعت محاذ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی سے انٹرویو)

سوال: سینٹ میں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل کے بارے میں اس وقت قومی حلقوں میں جو بحث جاری ہے اس کی روشنی میں شریعت بل کی افادیت اور ضرورت پر کیا آپ کچھ روشنی ڈالیں گے؟

جواب: جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے وہ تو واضح ہے کہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں دی جانے والی مسلسل قربانیوں کا مقصد محض چہروں اور ناموں کی تبدیلی نہیں تھا۔ بلکہ تحریکِ آزادی، تحریکِ پاکستان اور تحریک نظامِ مصطفٰیؐ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملک کا نظام تبدیل ہو اور فرنگی استعمار نے اپنے دورِ اقتدار میں جو نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں مسلط کیا ہے اس کی جگہ مسلمانوں کے عقائد اور جذبات کے مطابق اسلامی نظام ملک میں نافذ ہو۔ شریعت بل اسی مقصد کو پورا کرنے کی ایک عملی کوشش ہے اور اس کے ذریعے ملک میں پہلی بار ایک ایسے اقدام کی بات کی گئی ہے جو صرف ناموں یا چہروں کی بجائے نظام کی تبدیلی کا آئینہ دار ہے۔

باقی رہی بات افادیت کی تو اس میں بحث ہو سکتی ہے اور شریعت بل کو نظام کی تبدیلی کے لیے زیادہ سے زیادہ مؤثر بنانے کی کسی بھی تجویز کو قبول کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ ترمیم اس کی افادیت میں اضافہ کے لیے ہو، اس میں کمی یا اسے غیر مؤثر بنانے کے لیے نہ ہو۔

سوال: کیا شریعت بل کے بارے میں حکومت کے رویہ سے آپ مطمئن ہیں؟

جواب: قطعاً نہیں، کیونکہ حکمران پارٹی کا رویہ شریعت بل کو سینٹ میں بحث کے لیے منظور کرنے کی مخالفت سے لے کر اس کے متبادل سرکاری مسودہ پیش کرنے تک کا ایک ایک مرحلہ حکومت کی ٹال مٹول اور پیچھا چھڑانے کی پالیسی کا مظہر ہے۔ حالانکہ حکمران گروہ کے لیے اس میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے۔

  1. اول اس لیے کہ صدر مملکت اپنی صدارت کا جواز ہی اسلام کے نام پر کرائے جانے والے ریفرنڈم کو پیش کرتے ہیں اور وزیراعظم نے اپنی ترجیحات میں نفاذِ اسلام کو پہلے نمبر پر رکھا ہوا ہے۔
  2. دوم اس لیے کہ سینٹ کی طرف سے شریعت بل کو حکمران پارٹی کے کہنے پر عوامی رائے کے لیے مشتہر کیا گیا جو اگرچہ اصولی طور پر غلط فیصلہ تھا لیکن اس کے باوجود شریعت بل کے حق میں ملک کے طول و عرض سے عوام نے اس قدر خطوط لکھے کہ خود وزیرقانون نے سینٹ میں اسے پاکستان کی پوری پارلیمانی تاریخ کا ایک ریکارڈ واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے قبل کسی بل کو اتنی زبردست عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔
  3. سوم اس لیے کہ حکومت نے خود شریعت بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کیا جو حکومت ہی کا قائم کردہ ادارہ ہے، اور اسلامی نظریاتی کونسل نے شریعت بل کے مقاصد اور بنیادی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے اسے ازسرنو مرتب کر دیا جسے متحدہ شریعت محاذ نے قبول کر لیا ہے لیکن حکومت نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد حکومت کے لیے کوئی اصولی اور اخلاقی جواز نہیں رہا کہ وہ شریعت بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالے۔

سوال: حکومت کے ساتھ متحدہ شریعت محاذ کے مذاکرات اب کس مرحلہ میں ہیں؟

جواب: مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ حکومت ہٹ دھرمی اور ضد سے کام لے رہی ہے۔ متحدہ شریعت محاذ کا موقف یہ ہے کہ شریعت بل میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ کی جائے، اور اگر کوئی ترمیم ناگزیر ہو تو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے دائرہ میں رہتے ہوئے ترمیم کر لی جائے۔ جبکہ حکومت نے شریعت بل اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات دونوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی طرف سے ایک متبادل مسودہ دے دیا ہے جو متحدہ شریعت محاذ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

سوال: پرائیویٹ شریعت بل اور سرکاری مسودہ میں فرق کیا ہے؟

جواب: پرائیویٹ شریعت بل اور سرکاری مسودہ میں چار اہم فرق ہیں:

پہلا فرق یہ ہے کہ شریعت بل میں شریعت کی تعبیر و تشریح کے لیے دفعہ ۲ اور دفعہ ۱۲ میں جو الگ الگ تفصیلات دی گئی ہیں انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کی روشنی میں دفعہ ۲ کی شق ب میں سمو کر اسے زیادہ واضح کر دیا گیا ہے۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی یہی ایک سفارش ہے جسے سرکاری مسودہ میں قبول کیا گیا ہے۔ اب شریعت کی تعبیر یوں کی گئی ہے:

’’شریعت سے مراد قرآن و سنت میں مذکور احکامِ اسلام ہیں۔ توضیح: احکامِ اسلام کی تعبیر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل مآخذ سے راہنمائی حاصل کی جائے گی: (۱) اجماعِ امت (۲) سنت خلفاء راشدین (۳) تعاملِ صحابہؓ (۴) مسلم فقہاء اسلام کی تشریحات۔‘‘

اس تعبیر سے متحدہ شریعت محاذ نے بھی اتفاق کیا ہے اور اب یہ متفقہ تشریح قرار پائی ہے۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ سرکاری مسودہ میں شریعت بل کی دفعہ ۶، ۱۳ اور ۱۶ تینوں حذف کر دی گئی ہیں جو بالترتیب یہ ہیں:

دفعہ ۶: انتظامیہ کا کوئی بھی فرد بشمول صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم شریعت کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکے گا۔

دفعہ ۱۳: انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے ہر فرد کے لیے فرائضِ شریعت کی پابندی اور محرماتِ شریعت سے اجتناب کرنا لازم ہوگا۔

دفعہ ۱۶: شریعت نے جو بنیادی حقوق باشندگانِ ملک کو دیے ہیں ان کے خلاف کوئی حکم نہیں دیا جائے گا۔

ہمارے نزدیک ان دفعات کو حذف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکمران گروہ اسلامی احکام کی پابندی کے سلسلہ میں اپنے اوپر کوئی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

تیسرا فرق یہ ہے کہ شریعت بل کی دفعہ ۷ میں کہا گیا ہے کہ

’’حکومت کے تمام عمال بشمول صدرِ مملکت اسلامی قانونِ عدل کے مطابق عدالتی احتساب سے بالاتر نہیں ہوں گے۔‘‘

جسے سرکاری مسودہ میں یوں تبدیل کیا گیا ہے

’’حکومت کے تمام عہدہ دار اسلامی عدل اور جواب دہی کے نظام کے تابع ہوں گے۔‘‘

اب ’’عدالتی احتساب سے بالاتر نہ ہونے‘‘ اور ’’جواب دہی کے نظام کے تابع ہونے‘‘ میں جو فرق ہے اس کی وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ظاہر بات ہے کہ لفظی ہیرپھیر کے ساتھ سابقہ صورتحال کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

چوتھا فرق جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ دفعہ ۴ کی تبدیلی ہے۔ شریعت بل کی دفعہ ۴ یہ ہے کہ

’’ملک کی تمام عدالتیں تمام امور و مقدمات میں شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہوں گی۔‘‘

اسے سرکاری مسودہ میں یوں بدل دیا گیا ہے کہ

’’کوئی عدالت کسی ایسے قانون کی بنیاد پر کسی مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرے گی جو شریعت کے منافی ہو۔ اور اگر یہ سوال پیدا ہو کہ ایسا کوئی قانون شریعت کے منافی ہے تو یہ معاملہ وفاقی شرعی عدالت کو فیصلے کے لیے سپرد کر دیا جائے گا، سوائے اس کے کہ اس سوال کا اس عدالت نے یا عدالتِ عظمٰی کے شریعت ایپلٹ بینچ نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا ہو۔‘‘

دونوں کا فرق واضح ہے کہ شریعت بل کی دفعہ ۴ کا تقاضہ ملک میں مروجہ قوانین کی مکمل تبدیلی ہے کیونکہ اس کے نفاذ کے ساتھ تمام عدالتوں کا قانونی نظام یکسر بدل جائے گا جو نفاذِ اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ مگر سرکاری مسودہ میں الفاظ کے ہیرپھیر کے ساتھ موجودہ قوانین کو برقرار رکھنے اور وفاقی شریعت کورٹ کے طویل تدریجی عمل کے ذریعے قوانین کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ اسی لیے متحدہ شریت محاذ نے متبادل سرکاری مسودہ مسترد کر دیا ہے۔

سوال: یہ بات کہاں تک درست ہے کہ شریعت بل کے ساتھ اجتہاد کا دروازہ بند ہو جائے گا؟

جواب: بالکل غلط بات ہے بلکہ شریعت بل تو جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اجتہاد کا مفہوم غلط سمجھ لیا گیا ہے، عام طور پر بعض حلقوں کی طرف سے اجتہاد کا یہ مطلب پیش کیا جاتا ہے کہ شریعت کے جس مسئلہ کو دورِ حاضر کے کسی تقاضے سے متصادم سمجھ لیا جائے تو اس میں شرعی مسئلہ کو ایسی لچک دےی دی جائے کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ حالانکہ یہ اجتہاد نہیں بلکہ سراسر تحریف ہے جو دین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ قرآن کریم سے پہلی آسمانی کتابوں تورات، انجیل، زبور اور ان کی شریعتوں کا حلیہ اسی قسم کے نام نہاد اجتہاد کے ذریعے بگاڑا گیا تھا۔ اور یہ دینی احکام و مسائل کو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھالتے رہنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ان شریعتوں اور آسمانی کتابوں کا اصلی وجود تک دنیا میں ناپید ہو گیا ہے۔ اجتہاد کے نام پر اس قسم کی شرعی تحریف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اجتہاد کا شرعی مفہوم یہ ہے کہ جس مسئلہ میں قرآن و سنت کی واضح ہدایت موجود نہ ہو اس میں مجتہد درجہ کے علماء قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں کوئی فیصلہ دیں۔ یہ اجتہاد ہر دور میں موجود رہا ہے اور آج بھی ہے۔ شریعت بل نے بھی اس اجتہاد کی کوئی نفی نہیں کی بلکہ وفاقی شرعی عدالت کو قوانین کی شرعی حیثیت کے تعین کا اختیار دے کر اجتہاد کی ذمہ داری میں علماء کے ساتھ جسٹس صاحبان کو بھی شریک کر دیا ہے جو یقیناً ایک بہت بڑی وسعت پسندی کی بات ہے۔ ہاں منصوص مسائل میں ردوبدل کا اختیار ہم کسی کو نہیں دیتے، نہ کسی پارلیمنٹ کو، نہ رائے عامہ کو اور نہ ہی کسی اور تھارٹی کو۔ کیونکہ اس کے بارے میں قرآن کریم کا حکم سورۃ الاحزاب میں بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ

’’اور کسی مومن مرد یا عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کسی مسئلہ کا فیصلہ کر دیں تو وہ اس میں اپنی رائے اور اختیار کو استعمال کریں۔‘‘

سوال: عام طور پر شریعت بل کو ۱۹۷۳ء کے دستور کے منافی قرار دیا جا رہا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟

جواب: یہ سوال وضاحت طلب ہے۔ اگر تو ۱۹۷۳ء کا دستور مکمل اسلامی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے کسی اور شریعت بل کی ضرورت نہیں تو یہ کہنے والوں کو ۱۹۷۷ء کی تحریکِ نظامِ مصطفٰیؐ کے بارے میں وضاحت کرنی چاہیے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کے نافذ ہوتے ہوئے اس تحریک کا کیا جواز تھا، کیونکہ اسلام تو ۱۹۷۳ء کے دستور کی صورت میں مکمل نافذ تھا۔ اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت بل کے مؤثر نفاذ کے لیے ۱۹۷۳ء کے دستور کی کچھ دفعات میں ترمیم ضروری ہے جیسا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے بھی یہی ہے تو ہم بلاتامل یہ کہیں گے کہ دستور کی ان دفعات میں ضرور ترمیم ہونی چاہیے۔ اگر ایم آر ڈی ۱۹۷۳ء کے دستور میں دی گئی صوبائی خودمختاری کی حدود کو مسترد کر کے نئی حدود متعین کر سکتی ہے تو نفاذِ شریعت کے لیے ۱۹۷۳ء کے دستور کی کچھ دفعات کے اِدھر اُدھر ہو جانے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔

سوال: ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ غیر نمائندہ اسمبلیوں اور متنازعہ حکومت کے سامنے شریعت بل کو پیش کرنا غلط ہے۔

جواب: حیرت کی بات ہے کہ موجودہ اسمبلیوں اور حکومت کو غیر نمائندہ قرار دینے والے اپنے مطالبات کے لیے تو اسی حکومت کو مخاطب کرتے ہیں اور الیکشن کی تاریخ کے اعلان کی صورت میں مذاکرات کی پیشکش بھی اسی حکومت کو کرتے ہیں لیکن شریعت بل کے بارے میں وہ موجودہ اسمبلیوں کے سامنے مطالبہ رکھنے پر معترض ہیں۔ یہ اعتراض برائے اعتراض ہے کیونکہ یہ کوئی اصول نہیں کہ حکومت کا جواز متنازعہ ہو تو اس کے سامنے مطالبات ہی نہ رکھے جائیں۔ ہمارے بزرگوں نے تو انگریز کے دور میں ’’شریعت ایکٹ‘‘ منظور کرانے اور صوبہ سرحد میں عورتوں کو وراثت کا شرعی حق دلانے کی جدوجہد کی تھی جبکہ وہ اسی حکومت کو قطعی ناجائز قرار دے کر اس سے صرف حکومت نہیں بلکہ ملک چھوڑ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سوال: جب آپ خود بھی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت سے نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں کوئی توقع نہیں ہے تو پھر جدوجہد کا فائدہ؟

جواب: یہ اصول کب سے طے ہوگیا ہے کہ حکومت سے جس کام کی توقع نہ ہو اس کا مطالبہ ہی چھوڑ دیا جائے اور اس کے لیے جدوجہد ترک کر دی جائے؟ کیا شریعت بل کے مخالفین کو اپنے مطالبات اور جدوجہد کے سلسلہ میں حکومت سے کوئی توقع ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیا پھر وہ آرام سے بیٹھ جائیں گے؟ یہ بات اصولاً غلط ہے، حکومت سے توقع ہو یا نہ ہو ہمارا کام ملک میں بہتر تبدیلی کے لیے محنت کرنا ہے اور وہ ہم جاری رکھیں گے۔

سوال: شریعت بل کو مودودی ازم سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب: یہ شوشہ پیر صاحب آف پگارا نے چھوڑا ہے جنہیں شوشے چھوڑنے کی عادت ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا نورانی جیسے سنجیدہ شخص نے بھی اس شوشے کا سہارا لینے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ قطعی خلافِ واقعہ بات ہے۔ شریعت بل مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے پیش کیا ہے اور ان دونوں کا تعلق جمعیۃ علماء اسلام سے ہے۔ پھر جماعتِ اسلامی کے ساتھ دینی حلقوں کے اختلافات معروف اور واضح ہیں اور ان اختلافات کے حوالے سے شریعت بل کی کسی ایک دفعہ کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی جسے ملک کے عام دینی حلقوں کے موقف کے خلاف اور جماعتِ اسلامی کے مخصوص نظریات پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہو۔ اگر مولانا نورانی ایسی کسی ایک شق کی نشاندہی بھی کر دیں تو ہم اسے ان کی خواہش کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن کسی دلیل کے بغیر صرف ’’مودودی ازم‘‘ کی رٹ لگائے جانا محض الزام تراشی ہے۔

جماعتِ اسلامی شریعت بل کے مسئلہ پر ہمارے ساتھ ہے، متحدہ شریعت محاذ میں شریک ہے اور شریعت بل کی غیر مشروط حمایت کر رہی ہے۔ ہم اس کے شکر گزار ہیں لیکن شریعت بل مودودی ازم نہیں ہے بلکہ ملک کے قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک ایسی دستاویز ہے جسے تمام مکاتبِ فکر کے سنجیدہ علماء اور راہنماؤں کی حمایت حاصل ہے۔

سوال: شریعت بل کے خلاف اسلام آباد میں خواتین کے مظاہرہ پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟

جواب: ہم ان مٹھی بھر خواتین کو ملک کی کروڑوں دیندار خواتین کا نمائندہ نہیں سمجھتے جو پاکستان کے مشرقی اور اسلامی معاشرہ کو ایک ایسے وقت میں مغربی معاشرہ کی پیروی کی دعوت دے رہی ہیں جبکہ خود یورپ کے دانشور اپنے معاشرہ میں عریانی، بے راہ روی اور گھریلو بے سکونی سے عاجز آچکے ہیں۔ ملک کی کروڑوں خواتین قرآن و سنت پر پختہ ایمان رکھتی ہیں اور قرآن و سنت کی واضح ہدایات اور احکام کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ پھر خواتین کے یہ مظاہرے ہمارے نزدیک خود حکومت کے ایماء پر ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت کے بعض وزراء ایک عرصہ سے شریعت بل کے مخالف عناصر کو ابھارنے اور طبقاتی اختلافات کو ہوا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان مظاہروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہماری جدوجہد ملک کے نظام کو اسلامی تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے ہے اور یہ جدوجہد کسی مخالفت کی پروا کیے بغیر نتائج کے حصول تک ان شاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گی۔