عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جولائی ۲۰۰۴ء

اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ٹھکرا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم ہے اور اپنے یکطرفہ ایجنڈے کے بارے میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عالمی عدالت نے فلسطینی علاقے میں باڑ کی تعمیر کے اسرائیلی اقدام کو ناجائز قرار دے دیا ہے لیکن اسرائیل نے اسے ’’حفاظت کے حق‘‘ کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اور ’’حفاظت کے حق‘‘ کے نام پر اسے اپنے اس نوعیت کے اقدامات کے لیے مغربی دنیا اور خاص طور پر امریکی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

امریکی لیڈروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنی حفاظت کا حق حاصل ہے اور اسی بنا پر وہ نہ صرف اس کے ایٹمی طاقت ہونے سے چشم پوشی کر رہے ہیں بلکہ فلسطینیوں کے قتل عام پر بھی اسے مورد الزام ٹھہرانے کے لیے تیار نہیں ہیں، حتٰی کہ خود اقوام متحدہ نے نصف صدی قبل فلسطین کی تقسیم کو قبول کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے جو حدود متعین کی تھیں اسے ان حدود میں واپس لے جانے کی آواز کو بھی امریکی قیادت کے ہاں پذیرائی نہیں مل رہی۔ چنانچہ امریکی قیادت کی کھلم کھلا پشت پناہی کے باعث اسرائیل اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنے صہیونی ایجنڈے کے سوا ہر بات سے آنکھیں اور کان مکمل طور پر بند رکھے ہوئے ہے۔

صہیونی ایجنڈے کی بات دنیا کے کسی باخبر اور باشعور شخص سے مخفی نہیں ہے، یہ عظیم تر اسرائیل کے قیام کا ایجنڈا ہے جس کی زد میں مصر، شام، سعودی عرب، عراق اور اردن سمیت بہت سے عرب ممالک آنے والے ہیں، اور جس کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکی فوجیں اپنے اتحادیوں سمیت مشرقی وسطیٰ میں براجمان ہیں۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران اس ایجنڈے کی تکمیل کی طرف جو پیشرفت ہوئی ہے اور اس میں جس جس نے جو جو کردار ادا کیا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے اس خوش فہمی کا شکار ہونا کہ اسرائیل کے ساتھ عربوں کی کسی درجہ میں مفاہمت کی کوئی بات ہو سکتی ہے، یا اسرائیل اور عربوں کے درمیان بقائے باہمی کے کوئی اصول وضع کیے جا سکتے ہیں، خود فریبی کے سلسلے کو دراز تر کرتے چلے جانے کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

اسرائیل کی صہیونی قیادت نے اسرائیل کے قیام و استحکام کے لیے ہی خلافت عثمانیہ سے ٹکر لی تھی ورنہ جن یورپی ریاستوں کے ساتھ آج اسرائیل کی گاڑی چھن رہی ہے ان کے مقابلہ میں گزشتہ صدیوں کے دوران خلافت عثمانیہ میں یہودیوں کو زیادہ تحفظ حاصل تھا، اور یورپی حکومتوں کے مظالم کے خلاف یہودیوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ خلافت عثمانیہ رہی ہے، لیکن صہیونیوں نے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر اس ماضی کو نظر انداز کر دیا۔ صہیونی قیادت نے ’’عظیم اسرائیل‘‘ کی خاطر یورپی ممالک کے ان مظالم سے آنکھیں بند کر لیں جو صدیوں تک جاری رہے اور جن میں لاکھوں یہودیوں کا کھلم کھلا قتل عام ہوتا رہا۔ صہیونی رہنماؤں نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مسیحی عقائد اور لٹریچر پر پردہ ڈال دیا جس نے دو ہزار برس تک دنیا میں یہودیت دشمنی کا بازار گرم کیے رکھا۔

صہیونی لیڈرشپ نصف صدی سے اس اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فیصلوں کا منہ چڑا رہی ہے جس نے فلسطینیوں کے حقوق اور عربوں کے موقف و جذبات کو پامال کرتے ہوئے فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل کے وجود کو اپنے کاغذات میں جواز بخشا۔ چنانچہ اسرائیلی قیادت اس عالمی برادری اور بین الاقوامی رائے عامہ کے جذبات و احساسات کا مسلسل تمسخر اڑا رہی ہے جو اسے اپنے حدود میں رہنے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق بحال کرنے کی وقتاً فوقتاً تلقین کرتی رہتی ہے۔

اسرائیل کے حوالہ سے اس وقت دنیا میں دو موقف ہیں:

  • ایک موقف فلسطینی عوام اور ان عرب اور مسلم حکومتوں کا ہے جو ابھی تک اسرائیل کا وجود تسلیم نہیں کر رہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اسرائیل کا وجود جارحیت اور غصب سے عبارت ہے، اور فلسطین پر صدیوں سے وہاں رہنے والے فلسطینیوں کا حق ہے۔ فلسطین کو تقسیم کرنے کی بات فلسطینی عوام کو ان کے وطن سے محروم کر دینے کی بات ہے، اس لیے اسرائیل کے وجود کا کوئی جواز نہیں اور فلسطین پر صرف فلسطینیوں کا حق ہے۔
  • جبکہ دوسرا موقف ان ممالک کا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق فلسطین کی تقسیم کو قبول کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ان حدود میں رہنا چاہئے جو اس کے لیے اقوام متحدہ نے نصف صدی قبل طے کر دی تھیں۔ اسرائیل نے اس کے بعد جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے وہ اسے خالی کر دینے چاہئیں، اور جو اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے لیے مخصوص کیا ہے اس میں فلسطینیوں کی آزاد حکومت کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں میں یہی موقف اختیار کیا گیا ہے اور عالمی برادری کے ایک بڑے حصے کا یہی تقاضہ ہے۔ لیکن اسرائیل اس دوسرے موقف کو قبول کرنے سے صاف انکاری ہے، وہ نہ صرف اقوام متحدہ کی واضح قرارداد کو مسترد کرتا آ رہا ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کا اس نے ہمیشہ مذاق اڑایا ہے۔ اور اب فلسطینی علاقے میں باڑ کی تعمیر کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو بھی اس نے ٹھکرا دیا ہے۔

اس کے باوجود ہمارے کچھ مہربانوں کا جی چاہ رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غور ہونا چاہیے، حتٰی کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی حال میں اس عندیہ کا اظہار ہے، اس پر حیرت اور افسوس کے اظہار کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟

اسرائیل کے پاس اپنے موجودہ طرز عمل کی صرف ایک دلیل ہے کہ اسے اپنی حفاظت کا حق حاصل ہے اور وہ حفاظت کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے۔ یہ اسرائیل کی دوستی یا امریکہ کی یہودی لابی کے اثرات کا ثمرہ ہے کہ خود امریکہ نے بھی عالمی سطح پر یہ موقف اپنا رکھا ہے کہ اسے اپنی حفاظت کی خاطر دنیا کے کسی بھی حصے میں مداخلت کا حق حاصل ہے، اور جہاں امریکی مفادات کو خطرہ محسوس ہو وہ نہ صرف مداخلت بلکہ پیشگی فوج کشی کا حق بھی رکھتا ہے۔ اس طرح جو موقف اور طرز عمل مشرق وسطیٰ میں اسرائیل نے اختیار کر رکھا ہے وہی موقف اور طرز عمل امریکہ نے عالمی سطح پر اپنا لیا ہے اور دنیا میں ان دونوں کی اس یکطرفہ چودھراہٹ نے خوف اور سراسیمگی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

مگر ’’حفاظت کے حق‘‘ کا یہ فلسفہ بھی عجیب گورکھ دھندا ہے کہ آپ کسی شریف آدمی کے مکان کے ایک حصے پر طاقت کے زور سے قبضہ کر کے بیٹھ جائیں اور وہ اگر اپنی جگہ آپ کے قبضہ سے چھڑانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرے تو اسے دہشت گردی قرار دے کر اپنی حفاظت کے لیے آپ اس پر دھاوا بول دیں اور اس کی جائیداد کے باقی ماندہ حصے پر بھی قبضہ کر لیں۔ امریکی قیادت نے صہیونیوں کی دوستی میں یہ بات بھی بھلا دی ہے کہ امریکہ پر برطانوی تسلط کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کر کے خود امریکیوں نے بھی اسی طرح ’’دہشت گردی‘‘ کی تھی۔ اور اپنی جس آزادی اور ترقی کو وہ پوری دنیا میں فخر کے ساتھ پیش کر رہے ہیں اس کی بنیاد اسی ’’دہشت گردی‘‘ پر ہے، ورنہ اگر وہ دہشت گردی کا یہ راستہ اختیار نہ کرتے تو اب تک برطانیہ کی نوآبادی ہوتے اور عالمی قیادت کا تصور خواب میں بھی ان کے ذہنوں تک رسائی حاصل نہ کر سکتا۔

اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو جس انداز سے مسترد کیا ہے وہ غیر متوقع نہیں ہے اور اس سے یہی امید تھی۔ البتہ ایسا کر کے اس نے ان لوگوں کو ایک بار پھر آئینہ دکھا دیا ہے جو اسرائیل کے بارے میں کسی درجہ میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس جارحیت اور غصب و استحصال کی بنیاد پر وجود میں آنے والے اسرائیل سے اصول، قانون، اخلاق اور انصاف کی بھی کسی سطح پر توقع رکھی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خوش فہمی اور خود فریبی کا شکار ان حضرات کے حال پر رحم فرمائیں، آمین۔

   
Flag Counter