اسلامی احکام و قوانین کے دفاع کی جنگ لڑنا ہوگی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ مئی ۲۰۰۸ء

۳۰ اپریل کو لندن پہنچا ہوں، دو ہفتے قیام رہے گا ۱۳ مئی کو ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس ہے اور ۱۵ مئی کو واپس گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مختلف طبقات کے احباب سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور بہت سے مسائل گفتگو کا حصہ ہیں مگر جو دوست بھی ملتا ہے اس کا پہلا سوال جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ہوتا ہے، دوسرا جامعہ حفصہ کے بارے میں اور پھر اس کے بعد دوسرے مسائل کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے۔

عدلیہ کی خودمختاری اور معزز جج صاحبان کے بارے میں پاکستان کی طرح یہاں بھی پریشانی کی عمومی فضا پائی جاتی ہے اور پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی اور بنگلہ دیشی احباب بھی اس پریشانی میں شریک ہیں بلکہ ان کی تشویش زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ عمومی تاثر یہاں بھی یہی ہے کہ پاکستان میں دستور و قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی خودمختاری کے لیے یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے، اگر وکلاء کی تحریک اپنے منطقی نتیجے تک پہنچتی ہے اور حکمران اتحاد کے وعدے کے مطابق جج صاحبان بحال ہو جاتے ہیں تو پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور قومی اداروں کے استحکام کے حوالے سے بہتر مستقبل کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ یہ جدوجہد منطقی نتائج حاصل نہیں کر پاتی تو آمریت کے سائے اور گہرے ہوتے چلے جائیں گے اور دستور و قانون کے عنوان سے ملک میں اسلام اور جمہوریت کا خواب دیکھنے والوں کو شاید ایک بار پھر ’’زیرو پوائنٹ‘‘ سے اپنی جدوجہد کا آغاز کرنا پڑے گا۔

میاں نواز شریف اور جناب آصف زرداری کے درمیان دوبئی میں ہونے والے مذاکرات کی خبریں میں نے لندن میں پڑھیں اور سنیں۔ اب وہ لندن میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان دوست کے گھر میں جیو پر خبریں سن رہا تھا تو صاحبِ خانہ نے تقریباً پھٹ پڑنے کے انداز میں سوال کیا کہ یہ آصف زرداری صاحب کیا کر رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کا موقف مضبوط اور اصولی ہے مگر آصف زرداری صاحب لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے خیال میں آصف زرداری موجودہ انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر اس سلسلہ میں اس سے قبل ہونے والی ’’انڈراسٹینڈنگ‘‘ کے دائرے میں سیاست کر رہے ہیں جبکہ میاں نواز شریف حالیہ انتخابات کے نتائج پر نہیں بلکہ اگلے انتخابات کے امکانات کے حوالے سے سیاسی صف بندی میں مصروف ہیں۔ اس لیے باہمی کولیشن کے باوجود دونوں کے سیاسی اہداف الگ الگ ہیں۔

جامعہ حفصہ کے بارے میں دوستوں کا شکوہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکم کے باوجود اس کی دوبارہ تعمیر کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ جامعہ فریدیہ کی تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، مولانا عبد العزیز کی رہائی کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے لیے دینی حلقوں میں کوئی تحریک بھی نظر نہیں آرہی۔ میں نے ان دوستوں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی بات تو خود سپریم کورٹ کی پوزیشن واضح ہونے کے بعد ہی آگے بڑھے گی۔ سپریم کورٹ نے صرف جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم نہیں دیا بلکہ جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن کے ذمہ داروں کے تعین اور اس کے قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بارے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی رٹ درخوست عدالتِ عظمیٰ میں موجود ہے، جس میں آپریشن کے ذریعے سینکڑوں طالبات اور افراد کو شہید کرنے کے ذمہ دار حضرات کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ سب معاملات معزز جج صاحبان کی بحالی کے بعد ہی آگے بڑھیں گے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بھی حکمران اتحاد میں شمولیت کے لیے اپنی شرائط اور ترجیحات میں جامعہ حفصہ کے مسئلہ کو حل کرنے کی شق شامل کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی ایک اعلیٰ سطحی مشاورت ہوئی جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا، سپریم کورٹ میں اس مسئلہ میں پیش رفت کی درخواست دائر کرنے پر غور ہوا تو وفاق المدارس کے وکیل جناب سید افتخار گیلانی نے مشورہ دیا کہ ابھی انتظار کیا جائے اور جج صاحبان کی بحالی کی صورت واضح ہوجانے کے بعد اس سلسلہ میں کوئی مزید اقدام اٹھایا جائے۔

البتہ اس سے ہٹ کر بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اگر جامعہ حفصہ کے کیس کو دوبارہ فرنٹ پر لانا ہے اور رائے عامہ کو منظم و متحرک کرنا ہے تو اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ راولپنڈی میں مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کی خالی کردہ سیٹ پر مولانا عبد العزیز یا ان کی اہلیہ ام حسان کو قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں کھڑا کر دیا جائے۔ اس طرح راولپنڈی ایک بار پھر جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی تحریک کا مورچہ بن جائے گا، ملک بھر کی رائے عامہ اس طرف متوجہ ہوگی اور یہ سیاسی مورچہ لال مسجد کی تحریک کے لیے اس مسلح مورچے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جس کا اختتام وحشیانہ آپریشن اور سینکڑوں مظلوموں کی المناک شہادت پر ہوا تھا۔ مجھ سے دریافت کیا گیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس تجویز سے اتفاق ہے اور میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ باقی بہت سے معاملات سے قطع نظر اگر ضمنی الیکشن میں اس سیٹ پر مولانا عبد العزیز یا ان کی اہلیہ یا غازی عبد الرشید شہید کی اہلیہ بطور امیدوار سامنے آجائیں تو جامعہ حفصہ کے مسئلہ کے حل اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں پیش رفت کے لیے قومی اسمبلی کا یہ حلقہ ایک مضبوط مورچہ اور مؤثر فورم بن سکتا ہے۔

لندن میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی عبد المنتقم سلہٹی سے ملاقات ہوئی تو ان سے بنگلہ دیش میں خواتین کے حقوق کے سلسلہ میں دینی حلقوں کے ردعمل کی حالیہ تحریک کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ مفتی عبد المنتقم سلہٹی ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری اطلاعات ہیں، ان دنوں بنگلہ دیش کی مذکورہ تحریک کے حوالے سے لندن میں خاصے متحرک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت نے ایک مسودۂ قانون کی ابتدائی منظوری دی ہے جس میں دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ وراثت میں مردوں اور عورتوں کے حصوں کو برابر کر دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ اسے قرآن کریم کے صریح حکم کے خلاف قرار دیتے ہوئے تمام دینی حلقے اس کے خلاف احتجاجی تحریک کے لیے متحد ہوگئے ہیں اور ملک میں نافذ ایمرجنسی کی پرواہ کیے بغیر بھرپور عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ لندن میں بھی ’’بنگلہ دیشی مسلمز‘‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ فورم تشکیل پا گیا ہے جو احتجاجی اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ صرف بنگلہ دیش کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلم ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں تمام معاملات میں مردوں اور عورتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق دینے اور ان کے درمیان مکمل مساوات قائم کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ایک ڈیکلیریشن کی منظوری دے رکھی ہے جسے عورتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیازات کے خاتمے کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس تیس نکاتی معاہدے کے تحت اقوام متحدہ میں شامل تمام ممالک نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں ایسے تمام قوانین منسوخ کر دیں گے جن میں سیاسی، خاندانی، سماجی، معاشی یا کسی اور حوالے سے مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ احکام و ضوابط موجود ہیں اور عورتوں کے لیے مردوں سے الگ کوئی طریق کار طے کیا گیا ہے۔ اس ڈیکلیریشن میں ایسے تمام قوانین کو عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین سے تعبیر کیا گیا ہے اور ان قوانین کے خاتمے کو تمام حکومتوں کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔

ظاہر ہے کہ وراثت میں مرد اور عورت کے حصوں کا فرق بھی ان اسلامی قوانین میں سے ہے جو مذکورہ ڈیکلیریشن کے تحت عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین قرار پاتے ہیں۔ اس قسم کے اسلامی احکام و قوانین دو چار نہیں بلکہ ان کی تعداد بیسیوں میں ہے اور بہت سی مسلمان حکومتیں ان کے خاتمے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ اس لیے صرف مسلمان حکومتوں کے اس قسم کے فیصلوں کے خلاف احتجاج سے بات نہیں بنے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مسلم علماء اور دانشوروں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کے چارٹر اور امتیازی قوانین کے خاتمے کے مذکورہ معاہدے کے بارے میں مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا اور اسلامی احکام و قوانین کے دفاع کے لیے علمی، فکری اور سیاسی جنگ لڑنا ہوگی۔ یہ آج کی ثقافتی جنگ اور تہذیبی کشمکش کا ایک اہم موضوع ہے جسے ہمارے علمی حلقوں اور مراکز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔