امریکہ میں چند روز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۹ مئی ۲۰۰۳ء

میں اس وقت امریکی ریاست ورجینیا کے علاقہ سپرنگ فیلڈ (واشنگٹن ڈی سی کے قریب) کے ایک ادارہ ’’دارالہدٰی‘‘ میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ یہ ادارہ مولانا عبد الحمید اصغر نے قائم کیا ہے جو پیر طریقت حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے اس علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ مجھے تیرہ سال کے بعد امریکہ آنے کا اتفاق ہوا ہے، اس سے قبل ۱۹۸۷ء میں امریکہ کا پانچ سال کا ویزا ملا تھا اور میں مسلسل چار سال تک یہاں آتا رہا۔ اس دور میں مولانا عبد الحمید اصغر یہاں سے قریب ایک علاقہ میں کرائے کے مکان میں مسجد اور مدرسہ کا نظام چلا رہے تھے اور مجھے واشنگٹن میں حاضری کے دوران انہی کی میزبانی سے استفادہ کا موقع ملتا رہا۔ ان کے ساتھ مخلص رفقاء کی ایک ٹیم ہے جس کے ساتھ وہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے پڑوس میں ایک دینی تعلیمی ادارہ قائم کر کے اس کی ترقی اور اسے یہاں کے مسلمانوں کے لیے دینی و علمی راہنمائی کا مرکز بنانے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں۔ اس دور میں انہوں نے ایک چرچ کے ہال میں سیرت کانفرنس بھی منعقد کی تھی جس سے مولانا منظور احمد چنیوٹی، محترم راجہ محمد ظفر الحق اور راقم الحروف نے خطاب کیا تھا۔

۱۹۹۰ء کے بعد مجھے کئی سال امریکہ آنے کا موقع نہ مل سکا اور ایک دو دفعہ کوشش کے باوجود ویزا دستیاب نہ ہوا۔ دو سال قبل میں نے پاکستان میں امریکہ کی سفیر محترم سے بذریعہ خط رابطہ قائم کیا تو ان کی مہربانی سے مئی ۲۰۰۱ء میں مجھے پانچ سال کا ملٹی پل ویزا مل گیا مگر اس کے بعد گیارہ ستمبر کا سانحہ پیش آگیا اور حالات پیچیدہ ہوگئے۔ اگرچہ ۱۱ ستمبر کے فورًا بعد ۱۲ ستمبر کو میں اپنے سالانہ معمول کے مطابق دو ماہ کے لیے لندن آگیا تھا لیکن حالات کے پیش نظر امریکہ کا سفر نہ کر سکا۔ گزشتہ سال ۲۰۰۲ء کے ستمبر میں لندن حاضری کے موقع پر ارادہ کیا کہ امریکہ کا ایک چکر لگا لیا جائے اور میں نے پروگرام طے کر کے ٹکٹ بھی خرید لیا مگر ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے مجھے سفر سے روک دیا، چنانچہ ٹکٹ بھی ضائع ہوگیا اور امریکہ کے سفر کا پروگرام پھر ملتوی کرنا پڑا۔

اس سال مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ملک کے کئی دیگر دینی مدارس کی طرح سہ ماہی اور ششماہی امتحانات کو یکجا ایک امتحان کی صورت میں ربیع الاول کے آغاز میں کر دیا گیا اور اس کے بعد دو ہفتے کی تعطیلات کا فیصلہ کیا گیا۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ایک ہفتہ کی مزید رخصت لے کر امریکہ کے سفر کا پروگرام بنا لیا جس کے لیے ۱۰ مئی کو صبح لاہور سے روانہ ہو کر لندن سے ہوتے ہوئے مغرب تک واشنگٹن پہنچ گیا۔ سفر میں ایک اتفاق تو یہ ہوا کہ گوجرانوالہ سے صبح نماز فجر کے بعد مولانا قاری جمیل الرحمان اختر سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے ہمراہ لاہور ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا تو سورج طلوع ہو رہا تھا۔ لاہور سے ساڑھے نو بجے روانہ ہو کر لندن کے وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچا، وہاں سے آگے ساڑھے چار بجے واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ کے لیے یونائیٹڈ ایئر کی پرواز تھی جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق شام آٹھ بجے سے قبل ڈلس ایئرپورٹ پر اتری۔ جبکہ جس سورج کے گوجرانوالہ میں طلوع کے ساتھ میں نے سفر کا آغاز کیا تھا وہ ابھی غروب نہیں ہوا تھا کیونکہ اس روز واشنگٹن میں غروب آفتاب کا وقت آٹھ بج کر دس منٹ تھا مگر گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر واشنگٹن پہنچنے تک ستائیس گھنٹے گزر چکے تھے اور اس طرح میں نے مسلسل ستائیس گھنٹے تک سورج کے غروب ہوئے بغیر اس کے ساتھ ساتھ سفر کیا جو میری زندگی کا پہلا اتفاق تھا۔

لاہور کے ایئرپورٹ سے تو خیروعافیت کے ساتھ جہاز پر سوار ہوگیا مگر جب لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے یونائیٹڈ ایئرلائن کی فلائیٹ پر سوار ہونے کا وقت آیا تو معمول سے ہٹ کر ایک نئے تجربے سے دوچار ہونا پڑا۔ امریکہ جانے والے پاکستانیوں یا بعض دیگر ممالک کے شہریوں کے جوتے اتروا کر چیک کیے جانے کی جو خبریں اخبارات میں پڑھتے آرہے تھے اس کا تجربہ یہاں ہوا۔ ہم چند مسافروں کو سامان کی چیکنگ کے دوران الگ بٹھا لیا گیا، جوتے اتروائے گئے اور برقی آلات کے ذریعے انہیں چیک کیا گیا۔ ہمیں چیک کرنے والا افسر ایک سکھ سردار تھا، میرے ساتھ تو اس کا معاملہ احترام والا تھا اس نے مجھے کھڑا کر کے جسم کو چیک کیا جوتے چیک کیے، ایک خاتون نے میرا دستی بیگ کھول کر اس کی تلاشی لی اور پھر بورڈنگ کارڈ پر چیک اپ کا اسٹکر چسپاں کر کے آگے جانے کی اجازت دے دی۔ لیکن مجھے محسوس ہوا کہ بعض مسافروں کے ساتھ معاملہ قدرے توہین آمیز تھا۔ بہرحال اس مرحلہ سے گزر گئے اور شام جب واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ پر اترا تو ایک اور مسئلہ پیش آگیا جس میں میری اپنی غلطی کا دخل تھا۔ امیگریشن کارڈ پر کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ جس عزیز کے ہاں مجھے جانا ہے اس کا تو میرے پاس ایڈریس ہی نہیں ہے جبکہ کارڈ پر ایڈریس درج کرنا ضروری ہے۔ اس عزیز کا نام لکھ کر اس کا فون نمبر لکھ دیا مگر کاؤنٹر پر امیگریشن آفیسر نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ پورا ایڈریس لکھو۔ اس کی بات درست تھی لیکن میرے لیے مشکل تھی کہ میرے پاس ایڈریس تھا ہی نہیں۔ چنانچہ مجھے ایک طرف کھڑا کر دیا گیا جبکہ باقی سب مسافر فارغ ہو کر باہر نکل گئے تھے۔ ایک افسر نے مجھے آکر پوچھا تو میں نے بتایا کہ میرے پاس ایڈریس نہیں ہے، اس نے بھی نفی میں سر ہلا دیا کہ اس کے بغیر تو آپ باہر نہیں جا سکتے۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ اب اس کے سوا اس کا کوئی حل مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یا تو میرا اس فون نمبر پر رابطہ کرا دیں کہ میں ان سے ایڈریس لے کر لکھ دیتا ہوں یا آپ خود اس فون پر رابطہ کر کے ان سے تصدیق کرٰ لیں اور پتہ بھی نوٹ کر لیں۔ وہ صاحب میرا کارڈ لے کر باہر گئے وہاں میرا نام لے کر اعلان کرایا کہ کوئی صاحب انہیں لینے آئے ہوں تو وہ رابطہ قائم کریں۔ وہ عزیز مجھے لینے کے لیے آئے ہوئے تھے چنانچہ انہوں نے اپنا ایڈریس کارڈ پر تحریر کر دیا اور اس طرح بیس پچیس منٹ کے بعد مجھے باہر جانے کی اجازت مل گئی۔

اس دوران جبکہ میں ایک ستون کے ساتھ تنہا کھڑا تھا، امیگریشن کے بعض اہل کار میری طرف دیکھتے ہوئے ایک دوسرے کو اشارے کرتے رہے اور مسکراتے رہے لیکن انداز دل لگی کا تھا اس لیے میں بھی اسے محسوس کرنے کی بجائے ان کے اشاروں کا جواب مسکراہٹ سے ہی دیتا رہا۔ جب میرا مسئلہ حل ہوگیا تو امیگریشن کے عملہ نے مزید وقت حرج کرنے کی بجائے مجھے تیزی سے فارغ کیا، سامان بھی خود تلاش کر کے دیا، اس کی تلاشی بھی نہیں لی اور دوچار منٹ میں مجھے باہر پہنچا دیا جہاں میرے میزبان انتظار میں کھڑے تھے۔

چونکہ تیرہ سال کے بعد امریکہ آنے کا موقع مل رہا تھا اور مختلف خبروں کی وجہ سے خدشات اور تحفظات کی ایک لمبی فہرست ذہن میں تھی اس لیے زیادہ دوستوں سے رابطہ نہیں کیا تھا، خیال تھا کہ خیروعافیت سے امریکہ میں داخل ہوگیا تو سب دوستوں کو اطلاع کر دی جائے گی۔ چنانچہ جب رات آرام کر کے دوسرے روز مولانا عبد الحمید اصغر کے ہاں دارالہدٰی میں ظہر کی نماز کے لیے پہنچا تو انہوں نے دیکھتے ہی خوشی کے ساتھ ساتھ ناراضگی کا بھی اظہار کیا کہ اگر فون پر انہیں پہلے اطلاع مل جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتہ کے دن سالانہ سیرت کانفرنس منعقد کی تھی جسے میری حاضری کی اطلاع کی صورت میں ایک روز کے لیے مؤخر کیا جا سکتا تھا۔ مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا، مولانا عبد الحمید اصغر کے ارشاد پر مغرب کی نماز کے بعد سیرت النبیؐ پر ایک مختصر بیان کا موقع ملا اور اس موقع پر حضرت مولانا احترام الحق تھانوی سے بھی کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوگئی جو کچھ دنوں سے یہاں تشریف فرما ہیں، ان کے ساتھ مختصر نشست ہوئی اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔

آج پیر کو مولانا عبد الحمید اصغر کے ساتھ دارالہدٰی کے آفس میں بیٹھا ہوں اور ان کے کام کو دیکھ کر خوش ہو رہا ہوں۔ انہوں نے اس دوران ۱۹۹۴ء میں ایک بڑی بلڈنگ خریدی جہاں دارالہدٰی کے نام سے مسجد کے علاوہ ایک درسگاہ قائم کی ہے اور قرآن کریم، حفظ و ناظرہ اور تجوید کی کلاسوں کے علاوہ شام کو بچوں کی دینی تعلیم کا مکتب قائم کیا ہے۔ نیز بارہویں گریڈ تک کا سکول ہے جس میں مروجہ قومی تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ عربی، دینیات اور دیگر ضروری اسلامی مضامین شامل کیے گئے ہیں اور بچوں کو دینی ماحول مہیا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر کی کلاسیں جاری ہیں اور بہت سے دیگر تعلیمی پروگرام زیرغور ہیں۔ ان کا ذوق تعلیمی ہونے کے ساتھ ساتھ تربیتی بھی ہے اور ایک روحانی سلسلہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے روحانی و اخلاقی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

میری امریکہ حاضری کا ایک مقصد بھی یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کی دینی سرگرمیوں اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لوں جس کے لیے مولانا عبد الحمید اصغر کی مشاورت کے ساتھ پروگرام ترتیب دے رہا ہوں۔ ارادہ ہے کہ مختلف دینی اداروں میں حاضری دوں گا، مسلم راہنماؤں سے ملاقاتیں کروں گا اور کوشش کروں گا کہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی مجموعی صورتحال کے حوالہ سے ایک مناسب رپورٹ واپسی سے قبل مکمل کر سکوں۔ میرا یہاں قیام ۲۴ مئی تک ہوگا، ۲۵ مئی اتوار کو صبح لندن پہنچوں گا اور وہاں سے ۲۸ مئی کو شام روانہ ہو کر ۲۹ مئی کو صبح لاہور واپس پہنچ جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔