چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ء

خبر رساں ایجنسی این این آئی نے برطانوی اخبار ٹیلیگراف کے حوالہ سے یہ خبر جاری کی ہے کہ چرچ آف انگلینڈ طلاق یافتہ افراد کی دوبارہ شادی پر پابندی ختم کرنے کا جائزہ لے رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بعض حالات میں شادی کی اجازت دینا عقلمندی اور مصلحت اندیشی کا تقاضہ ہے۔ اخبار ٹیلیگراف کے مطابق بشپ نے طلاق یافتہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں کہا ہے کہ وہ دوبارہ شادی کے لیے چرچ کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں۔

مسیحی حلقوں میں طلاق اور اس کے بعد شادی کا تصور ابھی تک مذہبی تعلیمات کے منافی سمجھا جا رہا ہے جس کی اس دور میں سب سے بڑی مثال برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس ہیں۔ چونکہ ان کے اور لیڈی ڈیانا کے درمیان تفریق طلاق کی وجہ سے ہوئی تھی اس لیے دوبارہ شادی کا معاملہ شہزادہ موصوف کے لیے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے اور صحافتی حلقوں کی طرف سے اس تاثر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر شہزادہ چارلس نے دوسری شادی کی تو انہیں چرچ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ مخالفت ان کے تخت و تاج کے استحقاق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ البتہ کمیلا پارکر یا اس قسم کی کسی اور خاتون کے ساتھ ان کے تعلقات پر چرچ کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی اس سے ان کا تخت و تاج کا استحقاق مجروح ہوتا ہے۔

مسیحی مذہبی حلقوں کا خیال ہے کہ شادی کے بعد میاں بیوی کا الگ ہونا درست نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تھا کہ

’’جسے خدا نے جوڑا اسے آدمی جدا نہ کرے۔‘‘ (انجیل متی 6:19)

اس ارشاد کا مطلب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ نکاح کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہوتا ہے اس لیے انسانوں کو اسے ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ حالانکہ کم و بیش یہی بات قرآن کریم کی سورہ بقرہ آیت نمبر 27 میں کہی گئی ہے کہ

’’جو لوگ ان تعلقات کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا یقیناً وہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘

علمائے اسلام کے نزدیک اس سے مراد رشتہ داروں کے تعلقات ہیں اور اس حکم کا تعلق صلہ رحمی سے ہے مگر مسیحی علماء نے انجیل متی کی مذکورہ آیت کی بنیاد پر طلاق کا راستہ روک دیا اور اس کے بعد یہ حکم بھی لگا دیا کہ اگر کوئی شادی کسی وجہ سے طلاق پر ختم ہو جائے تو اسے زوجین میں محض تفریق سمجھا جائے گا اور نکاح بدستور قائم رہے گا۔ اسی وجہ سے ان میں سے کسی کو دوسری شادی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ بعض صورتوں میں مسیحی علماء نے طلاق کی اجازت تو دی ہے مگر طلاق کے بعد دوسری شادی کا حق دینے کے روادار نہیں ہوئے۔ مثلاً انجیل متی ہی کی ایک اور آیت (19-9) میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا یہ ارشاد منقول ہے کہ

’’جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسرا بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے۔‘‘

گویا صرف ایک صورت میں دوسری شادی کی گنجائش ہے کہ بیوی کو اس کی حرام کاری یعنی زنا کا ثبوت مل جانے کے بعد چھوڑا جائے، اس کے سوا کسی اور صورت میں بیوی سے الگ ہوا تو اسے دوسری شادی کا حق نہیں ہے اور اگر دوسری شادی کرے گا تو زنا کا مرتکب قرار پائے گا۔

کلیسائے روم کے مذہبی قانون میں طلاق کے اسباب میں زنا کے علاوہ (۱) نامردی (۲) ظالمانہ برتاؤ (۳) کفر (۴) زوجین میں خونی رشتہ نکل آنے کو شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ ایسٹرن آرتھوڈکس چرچ کے مذہبی قوانین میں ان اسباب کے ساتھ (۵) شوہر کا مذہبی خدمات کے لیے وقف ہو جانا (۶) عورت کا باغی ہو جانا (۷) جنون یا برص جیسی بیماری (۸) لمبی مدت کی قید (۹) باہمی نفرت کا اضافہ بھی کیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی سبب کے باعث طلاق دی جا سکتی ہے۔ مگر طلاق کے بعد دوسری شادی کا حق پھر بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

اس کے برعکس اسلام نے زوجین میں کسی بھی معقول وجہ سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں مرد کو طلاق کی صورت میں جبکہ عورت کو عدالت یا تحکیم کے ذریعے خلع کی صورت میں علیحدگی کا حق دیا ہے۔ اور پھر طلاق کے بعد دونوں میں سے ہر ایک کے لیے نئے نکاح کا حق بھی تسلیم کیا ہے بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد میں طلاق کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’ناپسندیدہ ترین‘‘ عمل قرار دیا ہے اور ایک ارشاد میں فرمایا ہے کہ میاں بیوی میں طلاق پر سب سے زیادہ خوشی شیطان کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود طلاق کو تسلیم کیا گیا ہے اور طلاق کے بعد میاں بیوی دونوں کو نئے نکاح کی اجازت بھی دی گئی ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے اور فطرت سے انحراف کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا حرام کاری، ناجائز اولاد کی کثرت، اور خاندانی نظام کی تباہی کی صورت میں آج مغرب کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن خواتین سے شادی کی ان میں بیوہ اور طلاق شدہ دونوں شامل ہیں۔ اور آنحضرتؐ نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ جو عورت شادی کے قابل ہو خواہ وہ کنواری ہے، بیوہ ہے یا طلاق شدہ، اس کے نکاح میں دیر نہ کی جائے اور اسے اس کے فطری حق سے محروم نہ کیا جائے۔

اس پس منظر میں چرچ آف انگلینڈ کے اس نئے رجحان پر ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ وہ انسانی فطرت کے تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے طلاق یافتہ افراد کو دوبارہ شادی کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔ یہ فطرت کی طرف واپسی کا سفر ہے جو اگرچہ جزوی اور ادھورا ہے لیکن اس سے یہ حقیقت ایک بار پھر نکھر کر سامنے آتی ہے کہ فطرت کے تقاضوں سے انحراف کسی بھی قوم کے لیے زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم چرچ آف انگلینڈ اور دیگر مسیحی مذہبی اداروں سے عرض کرنا چاہیں گے کہ اس طرح کے جزوی اور نامکمل اقدامات کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ انسانی سوسائٹی کے مجموعی ماحول اور انسانی فطرت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات اور احکام و قوانین کا تقابلی جائزہ لیا جائے؟ تاکہ گلوبلائزیشن کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے انسانی معاشرہ کو اپنے لیے فطری قوانین کے چناؤ میں کسی مزید الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مسیحی مذہبی رہنما چاہیں تو ہم کسی بھی فورم پر اس سلسلہ میں افہام و تفہیم کے جذبہ کے ساتھ سنجیدہ گفتگو اور مذاکرہ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

درجہ بندی: