ملی مجلس شرعی کا احسن اقدام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ جون ۲۰۱۱ء

مختلف مذہبی مکاتب فکر کے درمیان مشترکہ اہداف و مقاصد کے لیے وقتاً فوقتاً متحدہ فورم ہمیشہ سامنے آتے رہے ہیں اور باہمی اختلافات کے باوجود مذہبی مکاتب فکر نے ملی و قومی مقاصد کے لیے اتحاد و اشتراک کے مظاہرے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ ۳۱ اکابر علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ، تحریک تحفظ ناموس رسالت اور متحدہ مجلس عمل اس کے تاریخی شواہد ہیں۔ لیکن اس بات کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی کہ وقتی ضروریات اور سیاسی ایجنڈے سے ہٹ کر ایک ایسا فورم بھی قومی منظر پر موجود رہے جس میں تمام مذہبی مکاتب فکر کی نمائندگی ہو، جو سیاست و اقتدار کی گروہ بندی سے الگ تھلگ ہو اور خالصتاً علمی و فکری بنیادوں پر مشترکہ ملی و قومی مسائل پر قوم کو رہنمائی فراہم کرتا رہے۔ اس لیے کہ سیاسی ایجندے کے تحت ہونے والے اتحاد اکثر اوقات سیاسی ترجیحات کی نذر ہو جاتے ہیں اور وقتی ضرورت کے لیے تشکیل پانے والے متحدہ فورم وقتی ضرورت کی تکمیل کے بعد خودبخود تحلیل ہو جاتے ہیں۔ جبکہ اصل ضرورت ایک ایسے فورم کی ہے جو مستقل موجود رہے اور مذکورہ بالا اہداف کے لیے کام کرتا رہے۔

۲۰۰۷ء کے دوران اس طرف کچھ حضرات نے توجہ کی جن میں صاحبزادہ مولانا فضل الرحیم اشرفی، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ، حافظ عاکف سعید، مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی، مولانا عبد المالک خان، مولانا خلیل الرحمان قادری اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین سرفہرست ہیں، راقم الحروف بھی ان کا شریک کار ہے۔ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ کی سربراہی میں ’’ملی مجل شرعی‘‘ کے نام سے ایک فورم تشکیل پایا جو آہستہ آہستہ متخلف مسائل پر علمی انداز میں کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر نعیمی شہیدؒ کی شہادت کے بعد کچھ تعطل ہوا تو ان احباب نے مولانا مفتی محمد خان قادری کو اپنا کنوینر بنا کر جدوجہد کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا۔ یہ حضرات وقتاً فوقتاً مل بیٹھ کر اہم دینی و قومی مسائل پر مشترکہ موقف کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں ملی مجلس شرعی کا باقاعدہ دستور منظور کیا گیا جس کے تحت اگلے تین برس کے لیے اس کے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کی گئی جس کی تفصیلات سے قارئین کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ تنظیم اسلامی کے مرکزی دفتر واقع گڑھی شاہو لاہور میں جناب حافظ عاکف سعید کی میزبانی میں ۱۸ مئی کو منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں مولانا مفتی محمد خان قادری کو ملی مجلس شرعی پاکستان کا باقاعدہ صدر منتخب کیا گیا ہے جبکہ دیگر عہدیداران حسب ذیل ہوں گے۔ سینئر نائب صدر ابوعمار زاہد الراشدی، نائب صدر مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، نائب صدر مولانا عبد المالک خان، نائب صدر مولانا ڈاکٹر محمد حسین اکبر، سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا خلیل الرحمان قادری، سیکرٹری اطلاعات مولانا شیخ محمد یعقوب، سیکرٹری مالیات مولانا ڈاکٹر راغب حسین نعیمی۔ ان عہدیداروں کے ساتھ مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی، مولانا احمد علی قصوری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اور جناب حافظ عاکف سعید کو مجلس عاملہ کا رکن چنا گیا ہے۔

مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام سے رابطہ اور ان کے درمیان مفاہمت و اشتراک عمل کی فضا پیدا کرنے کے لیے ایک کمیٹی مولانا مفتی محمد خان قادری، ابوعمار زاہد الراشدی، مولانا عبدا لمالک خان، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی اور علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر پر مشتمل قائم کی گئی ہے۔ جبکہ میڈیا کے ساتھ رابطہ کے لیے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مرزا محمد ایوب بیگ، مولانا مجیب الرحمان انقلابی اور مولانا خلیل الرحمان قادری پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اجلاس میں مندرجہ ذیل دو قراردادیں بھی منظور کی گئیں:

  • افغانستان میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کا ساتھ دینا، انہیں خفیہ معلومات مہیا کرنا، انہیں سامان رسد پہنچانا، اپنے ہوائی اڈے ان کے سپرد کرنا، ڈرون حملوں پر خاموش رہنا، ذلت آمیز شرائط پر مالی امداد قبول کرنا اور انہیں بلاقید و امتیاز ویزے جاری کرنا، یہ سب جنرل (ر) پرویز مشرف اور اس کے بعد موجودہ حکومت کے وہ اقدامات ہیں جنہوں نے پاکستان کی خودمختاری کا خاتمہ کر کے اسے امریکی کالونی بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔ جبکہ سانحہ ایبٹ آباد نے تو کسی خوش فہمی کی گنجائش ہی نہیں رہنے دی اور پاکستان کی خودمختاری پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ عوام و خواص چیخ اٹھے ہیں۔ ہم ملی مجلس شرعی کے علماء کرام اس صورتحال کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور موجودہ سیاسی و عسکری قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے فی الفور دستبردار ہو جائیں جو در حقیقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ ہی کی ایک شکل ہے۔ اس سلسلہ میں امریکہ سے ہر قسم کا تعاون ختم کر دیں اور اپنے داخلی معاملات درست کرنے کی طرف توجہ دیں۔ ہمارے نزدیک آئندہ کسی ایسے سانحہ سے بچنے کی واحد مؤثر صورت یہ ہے کہ عوام امریکہ نواز قیادت کا بوجھ سر سے اتار پھینکیں اور امریکی غلامی سے نجات کے لیے قومی خودمختاری کی بحالی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر جمع ہو جائیں۔
  • ملی مجلس شرعی کے سبھی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کا یہ نمائندہ اجلاس بعض امریکی پادریوں کی طرف سے علی الاعلان قرآن کریم جلانے، امریکی حکومت کے اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے اور اس کے خلاف ایکشن نہ لینے کی بھرپو رمذمت کرتا ہے۔ اس قسم کے واقعات سے نہ صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہا پسند اہل مغرب اور ان کے حکمران اسلام و مسلمانوں سے کس قدر نفرت کرتے ہیں اور ان کے مقدسات کی بے حرمتی کر کے انہیں مشتعل کرتے ہیں تاکہ اگر وہ ردعمل ظاہر کریں تو ان کے خلاف انتہا پسندی اور دہشت گردی کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا سکے۔ حالانکہ ان کا یہ طرزعمل خود گواہی دے رہا ہے کہ ان میں قوت برداشت موجود نہیں ہے اور وہ خود انتہا پسند اور دہشت گرد ہیں۔ ہم مسلم نمائندوں کی حیثیت سے امریکہ کے متعصب اور جنونی پادریوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئی سی او کے سربراہان اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی و سلامتی کونسل کے ذریعے ایسے اقدامات کے سدباب کے لیے مؤثر قانون سازی اور ان پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اجلاس امریکی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مذکورہ دریدہ دہن پادریوں کو سخت سزا دے تاکہ آئندہ کسی کو مسلمانوں کی دل آزاری کی جرأت نہ ہو۔

ان فیصلوں اور قراردادوں کی منظوری کے بعد ملی مجلس شرعی کے نو منتخب عہدیداروں نے مولانا مفتی محمد خان قادری کی قیادت میں لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور اپنے پروگرام اور عزائم کا قومی پریس کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے ملک بھر کے عوام خاص طور پر دینی جماعتوں، مذہبی مکاتب فکر کے رہنماؤں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں باہمی اتحاد کے فروغ کے لیے ملی مجلس شرعی سے تعاون کریں۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ ملی مجلس شرعی ملک کی گروہی سیاسی کشمکش میں فریق بنے بغیر قومی و دینی امور میں مشترکہ رہنمائی فراہم کرنے کے لیے کام کرے گی۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کیا جائے گا، اخبارات و جرائد اور میڈیا کے دیگر ذرائع کے ذریعے قوم کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا جائے گا اور اس بات کی بھرپور کوشش کی جائے گی کہ علماء کرام ہر سطح پر باہم مل بیٹھ کر قوم کو ملی اور دینی معاملات میں مشترکہ رہنمائی فراہم کریں۔