اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۲ء

ملک کے ممتاز صحافی اور کالم نویس جناب خوشنود علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں وسیع تر اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے امریکی سفارت خانہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کا کام قادیانیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے اور کم و بیش دو سو قادیانیوں پر مشتمل عملہ اس منصوبہ میں مصروف عمل ہے۔

اسلام آباد میں نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی جو تفصیلات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان پر بجائے خود عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے اور ملک کے محبِ وطن دینی و سیاسی حلقے اس پر تشویش و اضطراب کا شکار ہیں کہ جتنی وسیع زمین پر اور جن مبینہ منصوبوں کی صورت میں یہ سفارت خانہ تعمیر کیا جا رہا ہے وہ ایک سفارت خانہ کم اور کوئی بڑا خفیہ اڈہ زیادہ نظر آرہا ہے جو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کے تناظر اور پاکستان کی ایٹمی طاقت کے بارے میں امریکی راہنماؤں کے بیانات و عزائم کے ماحول میں شدید خطرات و تحفظات کو جنم دے رہا ہے۔ قادیانیوں کو اس منصوبے میں شریک کیے جانے کی خبر نے دینی و عوامی حلقوں کی اس تشویش اور بے چینی کو دو چند کر دیا ہے اس لیے کہ پاکستان اور دستور پاکستان کے بارے میں قادیانیوں کے عزائم کسی سے مخفی نہیں ہے اور بین الاقوامی سیکولر لابیوں کی پشت پناہی سے قادیانیوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص اور پاکستان کی غالب مسلم اکثریت کے عقائد و جذبات کے خلاف جو مورچہ بندی کر رکھی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور موجودہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی قائد جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے، جن کے دور حکومت میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، اپنے ایک انٹرویو میں یہ بات واضح کی تھی کہ قادیانی گروہ پاکستان میں وہی پوزیشن حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جو امریکہ میں یہودیوں نے حاصل کر رکھی ہے کہ میڈیا، لابنگ، معیشت اور سیاست کے پالیسی ساز مراکز پر ان کا کنٹرول رہے، اور کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہونے پائے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد میں امریکہ کے نئے سفارتخانہ کی تعمیر اور اس میں قادیانیوں کے مبینہ کردار کے بارے میں پاکستان کے دینی و عوامی حلقوں کی تشویش بجا ہے اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کی حکومت کے سائے میں یہ صورتحال کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔ ہم ملک کے دینی و سیاسی حلقوں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے سنجیدہ راہنماؤں سے اپیل کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور ملک کو ممکنہ طور پر ’’قادیانی مافیا‘‘ اور ان کے بین الاقوامی سرپرستوں کے شکنجے میں مسلسل پھنسے چلے جانے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کہ دینی حمیت کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت کا بھی یہی تقاضا ہے۔

قادیانی مسئلہ صرف دینی حلقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک و قوم کا اجتماعی مسئلہ ہے، قادیانی گروہ کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام کے علاوہ دیگر معاشرتی طبقات کے راہنماؤں نے بھی ہمیشہ مؤثر کردار ادا کیا ہے اور ملک کے معروف سیاستدانوں، اساتذہ، طلبہ، وکلاء، صحافیوں، تعلیمی ماہرین، دانشوروں، تاجروں، مزدوروں اور دیگر طبقوں کے راہنماؤں نے ہر دور میں اس کو اپنا مسئلہ سمجھ کر اس کے لیے محنت کی ہے اور امت مسلمہ کو اس فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کیا ہے۔ آج پھر اسی اجتماعی ماحول کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس محاذ پر کام کرنے والی جماعتوں کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔