دینی مدارس اور زندگی کا ایمانی و روحانی پہلو

تاریخ بیان: 
نامعلوم

دینی مدارس کو جن تحدیات اور چیلنجز کا آج کے دور میں سامنا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور متعدد رخ ہیں جن میں سے میرے نزدیک سب سے اہم پہلو فکری اور نظریاتی تحدیات کا ہے۔ اور چونکہ میری جدوجہد کا شعبہ یہی ہے اس لیے اس کا بطور خاص تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔

دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے، ورنہ مدرسہ کی افادیت و ضرورت کے بارے میں شکوک و شبہات کا دائرہ دن بدن پھیلتا جائے گا اور ہم اس چیلنج کا صحیح طور پر سامنا نہیں کر سکیں گے۔

بدقسمتی سے ہمارا یعنی دینی حلقوں کا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ ہم اس قسم کے سوالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور انہیں بے دینوں اور ملحدوں کی بات قرار دے کر حقارت کے ساتھ مسترد کر دیتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ درست طرز عمل نہیں ہے اور اس کے نقصانات کا ہمیں صحیح طور پر اندازہ نہیں ہے۔ نئی نسل، بالخصوص پڑھے لکھے نوجوانوں کے ذہنوں میں جو سوالات جنم لے رہے ہیں یا میڈیا جو سوالات پیدا کر رہا ہے، ان کا جواب نظر انداز کرنا نہیں ہے، حقارت سے ٹھکرانا نہیں ہے، اور غصے کا اظہار کر کے انہیں یہ احساس دلانا نہیں ہے کہ ان سوالات کا کوئی جواب ہی نہیں ہے۔ بلکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سوالات کو سمجھیں، ان کے اسباب و علل کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ کس انداز اور کون سے اسلوب سے ان سوالات کا جواب ان نوجوانوں کو اور پڑھے لکھے لوگوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔ جبکہ ہمارا یعنی دینی حلقوں کا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کسی بھی شک و شبہ والے سوال پر اول تو ہم ڈانٹ ڈپٹ سے کام لیتے ہیں اور ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اگر کسی سوال کا جواب دیتے ہیں تو اس میں انداز، اسلوب اور اصطلاحات ہماری اپنی ہوتی ہیں جن سے آج کی دنیا مانوس نہیں ہے اور جنہیں سمجھنے کے لیے انہیں الگ سے مشقت کرنا پڑتی ہے۔

اس پس منظر میں دینی مدارس کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے سوالات میں سے ایک کا مختصر جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ جب اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے ذریعے سے تعلیم کا ایک وسیع نظام موجود ہے اور ہر سطح پر ان تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے تو الگ سے ان دینی مدارس کی ضرورت کیا ہے اور اجتماعی دھارے سے الگ ہو کر یہ کس بات کی تعلیم دیتے ہیں؟ اور جن علوم کی یہ تعلیم دیتے ہیں، سوسائٹی کی ضروریات سے ان کا کیا تعلق ہے؟ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ دینی مدارس کی تعلیم کا سوسائٹی کی ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ معاشرہ کی کوئی ضرورت پوری کرنے کے بجائے غیر ضروری علوم و فنون میں وقت صرف کر رہے ہیں۔

ان کے جواب میں یہ عرض کرتا ہوں کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی ہماری بہت سی ضروریات پوری کرتے ہیں اور ان میں پڑھائے جانے والے علوم و فنون بلاشبہ سوسائٹی کی ضروریات سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اہمیت و افادیت سے کسی درجے میں انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم اور ان میں پڑھائے جانے والے علوم و فنون ہماری زندگی کی تمام ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔ مثلاً سائنس ہماری بہت سی ضرورتیں پورا کرتی ہے اور ہمیں کائنات کی مختلف اشیا کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے استفادہ اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کے لیے ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ یہ کائنات کی وسعتوں کے حوالے سے بھی ہے اور انسانی جسم اور اس کی مشینری کے حوالے سے بھی ہے، لیکن اس کی تمام تر تگ و دو صرف دو سوالوں تک محدود ہے: ایک یہ کہ یہ کائنات کیا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ کیسے کام کر رہی ہے؟ اسی طرح انسانی جسم کیا ہے؟ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اسے کیسے صحیح رکھا جا سکتا ہے؟ لیکن کائنات اور انسان دونوں حوالوں سے سائنس اس سوال کا جواب نہیں دیتی کہ یہ کیوں ہیں اور کس مقصد کے لیے وجود میں لائے گئے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف وحی دیتی ہے اور آسمانی تعلیمات اس کا جواب فراہم کرتی ہیں اور وحی الٰہی اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے بجائے دینی مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہے۔

اسی طرح ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتے ہیں تو ہمارے اردگرد صرف وہی چیزیں موجود نہیں ہیں جو مشاہدات یا محسوسات کے دائرے میں آتی ہیں، بلکہ اس سے ہٹ کر بھی بہت سی چیزیں پائی جاتی ہیں جو سائنس کے دائرۂ کار سے خارج ہیں اور سائنس سرے سے ان پر بحث ہی نہیں کرتی۔ مثلاً:

  • یہ بات نہ صرف ہمارے عقیدے میں شامل ہے بلکہ تجربات و مشاہدات کا بھی حصہ ہے کہ برکت اور نحوست دونوں کا وجود پایا جاتا ہے اور یہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں سائنس خاموش ہے اور کوئی معلومات مہیا نہیں کرتی، اس لیے کہ سائنس کا دائرہ فکر صرف میٹر تک محدود ہے، وہ صرف مادے اور اس کے متعلقات پر بات کرتی ہے، جبکہ برکت و نحوست مادے کے دائرے سے باہر کی چیزیں ہیں۔ اس لیے برکت اور نحوست کا سبجیکٹ نہ آکسفورڈ کے مضامین میں شامل ہے، نہ کیمبرج میں پڑھایا جاتا ہے اور نہ ہی ہاورڈ یونیورسٹی اس سے بحث کرتی ہے۔ یہ مضمون آپ کو جامعہ خالد بن ولید کے نصاب میں ملے گا، جامعہ نصرۃ العلوم کے نصاب میں ملے گا، اور جامعہ اشرفیہ کے نصاب میں ملے گا۔
  • اسی طرح یہ بات ہمارے عقیدے کا حصہ ہے کہ ہمارے اردگرد فرشتوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو شب و روز متحرک رہتا ہے اور ہر شخص کے ساتھ کئی فرشتے مختلف حوالوں سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں، لیکن اس یونیورسل نیٹ ورک کے بارے میں سائنس ہمیں کچھ نہیں بتاتی اور کوئی معلومات فراہم نہیں کرتی۔
  • پھر یہ بھی دیکھ لیں کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے علوم و فنون اپنی تمام تر افادیت و ضرورت کے باوجود ہمیں جو کچھ بھی معلومات اور سہولتیں فراہم کرتے ہیں، وہ صرف اس دنیا تک محدود ہیں اور ان کی افادیت، اہمیت اور ضرورت صرف اور صرف مرنے سے پہلے تک ہے۔ جبکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محدود ہے اور قبر، حشر اور آخرت کی زندگی اس سے کہیں زیادہ طویل اور بے انتہا ہے۔ ہم دنیا میں فخر کرتے ہیں کہ ۶۰ سال زندگی پائی ہے، ۷۰ سال زندگی گزاری ہے اور ۸۰ سال کی زندگی سے بہرہ ور ہوئے ہیں، لیکن آخرت کی طویل زندگی کے مقابلے میں اس کی حیثیت کیا ہے؟ قرآن کریم کے ایک ارشاد سے اس کا اندازہ کر لیں کہ تمھارے ایک ہزار سال اللہ تعالیٰ کے ایک دن کے برابر ہیں۔ اس سے دیکھ لیں کہ ہمارے ستر، اسی اور نوے سال اللہ تعالیٰ کے اس ایک دن میں کتنے گھنٹوں کے برابر شمار ہوتے ہیں اور اس دنیا کی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟

اب ظاہر بات ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اسکول و کالج کے علوم ہماری دنیا کی زندگی کی جتنی معلومات بھی دے دیں اور جتنی سہولتیں بھی فراہم کریں، وہ بہت محدود ہیں اور اصل زندگی کے بارے میں ہماری کوئی راہنمائی نہیں کرتے۔ یہ راہ نمائی ہمیں وحی الٰہی سے ملتی ہے۔ آسمانی تعلیمات ہمیں یہ معلومات فراہم کرتی ہیں جو دینی مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہیں اور درس نظامی کے نصاب کا حصہ ہیں۔ اس لیے ہمارے لیے ان مدارس کی اہمیت زیادہ ہے۔ ہم دنیا کی ضروریات کو بہتر سے بہتر انداز سے پورا کرنے کی مخالفت نہیں کرتے، بلکہ اسے ضروری سمجھتے ہیں اور اس کے لیے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کی ضرورت اور افادیت کے قائل ہیں، لیکن ہماری بہت سی ضروریات جو اس دنیا کی زندگی کی ضروریات سے کہیں زیادہ وسعت رکھتی ہیں، وہ ان دینی مدارس کے ذریعے سے پوری ہوتی ہیں اور ان مدارس کا ہماری معاشرتی ضروریات سے انتہائی گہرا تعلق ہے۔

میں نے صرف ایک سوال کا ذکر کیا ہے۔ اس قسم کے بیسیوں سوالات دینی مدارس کے بارے میں اٹھائے جا رہے ہیں اور ہمارے پڑھے لکھے لوگوں اور نئی نسل کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کا باعث بن رہے ہیں جن کا سامنا کرنا اور عمدہ اسلوب کے ساتھ ان کانٹوں کو ذہنوں سے نکالنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دینی جدوجہد اور دینی مدارس کے حوالے سے اپنے فرائض صحیح طور پر سرانجام دینے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔