ایوننگ کورٹس کی تجویز شرعی عدالتوں کی افادیت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰۰۹ء
اصل عنوان: 
شرعی عدالتیں اور ان کی افادیت

پاکستان بار کونسل نے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ تجویز مسترد کر دی ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کا بوجھ کم کرنے اور عوام کو جلد انصاف مہیا کرنے کے لیے شام کی عدالتیں (ایوننگ کورٹس) قائم کی جائیں۔ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون اس سلسلہ میں ایک عرصہ سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون جناب فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون اور سیکرٹریز قانون نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں پنجاب حکومت کی طرف سے شام کی عدالتوں کے سلسلہ میں کچھ تحفظات کا اظہار کیا گیا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومتوں سے تجاویز طلب کی جائیں۔ چنانچہ پنجاب حکومت کی طرف سے تحفظات کے اظہار کے علاوہ پاکستان بار کونسل نے بھی اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وکلا شام کی عدالتوں میں پیش نہیں ہو سکتے۔

عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف پنجاب کی عدالتوں میں فوجداری کے آٹھ لاکھ اور دیوانی نوعیت کے بارہ لاکھ مقدمات زیرسماعت ہیں جبکہ عدالتوں میں ججوں کی تعداد کم ہونے کے باعث ان مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر جناب لشکر رئیسانی نے چند روز قبل وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں عوام کی خواہش پر شرعی عدالتوں کو بحال کیا جا رہا ہے کیونکہ عوام یہ چاہتے ہیں کہ دیوانی مقدمات میں انہیں جلد فیصلے کی سہولت فراہم کی جائے۔

ادھر سوات کی صورتحال کے بارے میں تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات کے عوام کا اصل مسئلہ جلد انصاف کی فراہمی ہے، کچھ عرصہ قبل تک ان کے ہاں ان کا اپنا جرگہ سسٹم نافذ تھا، جب اس کی جگہ پاکستان کا قانون نافذ کیا گیا تو اس سے تنازع پیدا ہوا کیونکہ اس تبدیلی سے نہ صرف مقدمات کے فیصلوں میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے بلکہ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ سرحد اسمبلی نے سوات کے عوام کے اس مطالبے پر ان کے لیے جس ’’عدل ریگولیشن‘‘ کی منظوری دے رکھی ہے آخر اسے نافذ کیوں نہیں کیا جا رہا؟ عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ شرم کی بات ہے خود کو مسلمان کہنے والے نفاذ شریعت سے ڈر رہے ہیں۔

یہ تینوں خبریں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کی ہیں اور ان سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نفاذ شریعت کے مطالبے میں سرحد اور بلوچستان کے عوام کے جذبات کی شدت کی وجہ کیا ہے اور ملکی حالات کے تناظر میں شرعی عدالتوں کے قیام کی ضروت و اہمیت کیا ہے۔ جناب لشکری رئیسانی نے بلوچستان کے ان بعض علاقوں کی نشاندہی نہیں کی جہاں کے عوام کے مطالبے پر شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر کو کرنا پڑا اور نہ ہی انہوں نے ان شرعی عدالتوں کے خدوخال کی وضاحت کی ہے کہ ان کی نوعیت کیا ہوگی اور ان کی حدود کار اور اختیارات کا دائرہ کار کیا ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ سابق ریاست قلات کا معاملہ ہے جہاں پاکستان کے ساتھ ریاست قلات کے باقاعدہ الحاق سے پہلے شرعی عدالتوں کا نظام کام کر رہا تھا جسے ختم کر کے اس کی جگہ پاکستان کے عدالتی نظام اور قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا لیکن اس سے لوگوں کو سہولتیں ملنے کی بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

مقدمات کی سماعت اور فیصلوں میں بے حد تاخیر کی وجہ سے عوام میں مایوسی نے جنم لینا شروع کیا اور یہ بات جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ اس لیے یہ فطری بات ہے کہ جرم خواہ فوجداری ہو یا دیوانی نوعیت کا ہو اس کا ارتکاب کرنے والے کو اگر علم ہو کہ اس کا جرم پکڑا گیا تو فیصلہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی اور چند روز یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں مقدمے کا فیصلہ ہونے پر اسے اپنے جرم کی سزا بھگتنا ہوگی تو اس کا حوصلہ پست ہوگا، لیکن اگر اس کے سامنے صورتحال ’’کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘‘ جیسی ہو اور اس کا مشاہدہ یہ ہو کہ جرم اگر پکڑا بھی گیا تو فیصلہ ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس دوران اس میں بھی دو چار بہت ’’نرم‘‘ مقام آتے ہیں کی سہولت بھی مل جاتی ہے تو جرم کے حوصلے کو بے لگام ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ ہمارے ہاں جرائم کی شرح میں مسلسل اضافے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے۔

بہرحال قلات کے عوام اپنے سابقہ ریاستی دور اور موجودہ حالات میں اس حوالے سے موازنہ کرتے ہیں تو انہیں وہ سابقہ نظام بہتر محسوس ہوتا ہے اور وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ ان کا قبائلی جرگہ سسٹم اور شرعی عدالتوں کا نظام ہی ان کے لیے زیادہ مؤثر اور مناسب حال ہے، غالباً اسی پس منظر میں جناب لشکری رئیسانی نے اعلان کیا ہے کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں عوام کی خواہش پر انہیں جلد انصاف مہیا کرنے کے لیے شرعی عدالتوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ سوات کی صورت اسی نوعیت کی ہے، وہاں بھی پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق سے پہلے ریاستی سطح پر قبائلی جرگہ سسٹم اور شرعی عدالتوں کا نظام موجود تھا۔ اس نظام میں مقدمہ دائر کرنے کے لیے کسی لمبے چوڑے پراسیس سے نہیں گزرنا پڑتا تھا، نہ ہی اس میں اخراجات اور فیسوں کا بوجھ ہوتا تھا۔ سادہ سے الفاظ میں شکایات دائر کی جاتی تھی اور چند روز میں فیصلہ ہو کر معاملہ ختم ہو جایا کرتا تھا۔ پھر ایک بات اس میں اور ہے جسے ہمارے اکثر تجزیہ نگار عام طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ چونکہ ان جرگوں اور شرعی عدالتوں کا طریق کار اور قانون لوگوں کے مذہبی عقائد و رجحانات اور ان کے علاقائی کلچر کے ساتھ ہم آہنگ تھا اس لیے انہیں ان کے فیصلوں پر اطمینان بھی ہوجایا کرتا تھا۔ مگر اب انہیں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس نے ان سے انصاف کے جلد، سستا اور آسان ہونے کی تینوں سہولتیں چھین لی ہیں اور وہ پرانے وقتوں کو یاد کر کے رو رہے ہیں۔

بلوچستان کا حصہ بننے والی ریاست قلات اور صوبہ سرحد کا حصہ بننے والی ریاست سوات کی طرح پنجاب کا حصہ بننے والی ریاست بہاولپور اور صوبہ سندھ کا حصہ بننے والی ریاست خیرپور کی صورتحال بھی یہی تھی کہ پاکستان کے ساتھ ان کے باقاعدہ الحاق سے پہلے ان ریاستوں میں شرعی عدالتوں کا نظام نافذ تھا، اب اس نظام کے ختم ہوجانے سے وہاں کے عوام کو بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو قلات اور سوات کے عوام کو درپیش ہیں، اس لیے کچھ بعید نہیں کہ سوات اور قلات میں اس تحریک کے آگے بڑھنے کی صورت میں سابق ریاست بہاولپور اور خیرپور کے عوام بھی یہ مطالبہ لے کر اٹھ کھڑے ہوں کہ انہیں ان کا سابقہ عدالتی نظام واپس کیا جائے تاکہ وہ بھی سستے، جلد اور آسان انصاف سے بہرہ ور ہو سکیں۔

شرعی عدالتوں کے ذریعے جلد اور سستا انصاف مہیا کرنے کی یہ بات محض مفروضہ نہیں ہے کہ اسے ’’مذہبی رومانیت‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے، جبکہ یہ آج کے دور کی ایک معروضی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ امریکہ اور جنوبی افریقہ جیسے ملکوں میں بھی کھلی آنکھوں سے کیا جا رہا ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جنوبی افریقہ میں پرائیویٹ سطح پر کام کرنے والی شرعی عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں اس کالم میں اجمالاً اس سے قبل عرض کر چکا ہوں لیکن آج کے موضوع کی مناسبت سے دوبارہ یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ امریکہ میں ’’شریعہ بورڈ‘‘ کے نام سے شکاگو، نیویارک اور اٹلانٹا وغیرہ میں ثالثی بورڈ کی طرز پر شرعی عدالتیں قائم ہیں جنہیں امریکہ کا عدالتی سسٹم تسلیم کرتا ہے اور ان کے فیصلوں کو دستوری تحفظ حاصل ہے۔ گزشتہ سال ۹ اگست کو نیویارک میں شریعہ بورڈ کی میٹنگ تھی جس میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس میں ان شریعہ بورڈز کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا کہ شکاگو کے شریعہ بورڈ کو وہاں کی مقامی عدالت نے ایک کیس ریفر کر دیا جو دو مسلمانوں کے درمیان کاروباری شراکت ختم ہونے کے بعد اثاثوں کی تقسیم کے تنازع پر تھا۔ مقامی عدالت میں سات سال سے وہ کیس چل رہا تھا لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھ اور دونوں طرف سے ہزاروں ڈالر اس مقدمہ پر خرچ ہو چکے تھے۔ تنازع چونکہ دو مسلمانوں کا تھا اس لیے مقامی عدالت نے اسے شریعہ بورڈ کو بھجوا دیا۔ شریعہ بورڈ شکاگو کے سربراہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ عالم دین مولانا مفتی نوال الرحمان فاضل دیوبند ہیں، انہوں نے اس مقدمہ کا فیصلہ گیارہ روز میں کر دیا اور فریقین میں سے کسی کا ایک ڈالر بھی مزید خرچ نہیں ہوا۔ چونکہ فیصلہ دونوں مسلمانوں کے مذہب اور عقیدہ کے مطابق تھا اس لیے انہوں نے خوش دلی سے اسے تسلیم کر لیا۔ مقامی عدالت نے بھی اس فیصلے کی توثیق کی اور شریعہ بورڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ آئندہ بھی اس قسم کے پیچیدہ کیسوں میں اس سے رجوع کیا جائے گا۔

جنوبی افریقہ میں یہ کام ’’مسلم جوڈیشل کونسل‘‘ کے نام سے ہو رہا ہے جس کے سربراہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد یوسف کران ہیں اور وہ بھی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں۔ گزشتہ نومبر میں مجھے کیپ ٹاؤن جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے مسلم جوڈیشل کونسل کے دفتر میں حاضری دی اور اس کے کام کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ کونسل کے سیکرٹری مولانا عبد الخالق علی افریقی مسلمان ہیں، انہوں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں ہر ہفتے ستر اَسی کے لگ بھگ مقدمات موصول ہوتے ہیں جن میں سے بیشتر تنازعات ہم فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر کے مصالحت کی صورت میں طے کرا دیتے ہیں۔ اوسطاً پانچ چھ کیس جو مصالحت سے طے نہیں ہو پاتے ان کے لیے جمعرات کو باقاعدہ عدالت لگتی ہے اور دو تین پیشیوں میں ان کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم جوڈیشل کونسل کے ان فیصلوں کو جنوبی افریقہ کا عدالتی نظام بھی تسلیم کرتا ہے۔

وفاقی وزارتِ قانون کی طرف سے شام کی عدالتوں کے قیام کی تجویز اور اس پر پنجاب حکومت اور پاکستان بار کونسل کا ردعمل اپنی جگہ، مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو جلد اور سستا انصاف مہیا کرنے اور عدالتوں پر مقدمات کی بھرمار کا بوجھ کم کرنے کے لیے شام کی عدالتوں کے ساتھ ساتھ شرعی عدالتوں کے قیام کی طرف توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس سے قیام پاکستان کے نظریاتی مقصد کی تکمیل کی طرف پیش رفت ہوگی، عوام کو سستا اور جلد انصاف مہیا ہوگا، عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور برکات حاصل ہوں گی جو ہماری زندگی کا اصل مقصد ہے۔