نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۱۹۹۶ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیان پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں بلکہ اب تو پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو ختم کرنے اور اسے سیکولر ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے عالمی قوتیں اور ان کی نمائندہ لابیاں پوری قوت کے ساتھ مصروف عمل نظر آتی ہیں۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا بلکہ عالم اسلام کے حوالہ سے عالمی قوتوں کے ایجنڈے کا سب سے اہم نکتہ یہی مسئلہ بن گیا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو ہر قیمت پر اسلامی شناخت اور کردار سے محروم کر کے ویسٹرن سولائزیشن اور سیکولر ازم کی پٹری پر چڑھا دیا جاے تاکہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا یہ ملک اسلام کی نشاۃ ثانیہ، ملتِ اسلامیہ کی وحدت اور اسلامی فلاحی معاشرے کے احیا کے لیے کوئی کردار ادا نہ کر سکے۔

حالات کا اگر تھوڑی سی گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو اسلامی نظام کے نفاذ کے بارے میں ہمارا کم و بیش پچاس سالہ اجتماعی طرز عمل اس ضمن میں عالمی سیکولر قوتوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا ہے، اس لیے صرف انہی کو الزام دینے اور کوستے رہنے کی بجائے ہمیں اپنے قومی طرز عمل اور کردار کا بھی حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے اور ان اسباب کا کھلے دل کے ساتھ تعین اور اعتراف کرنا چاہیے جو ہماری قومی زندگی کو اس تذبذب اور دوراہے پر لانے کا باعث بنے ہیں۔ ہم پاکستان کے قیام کے بعد نصف صدی تک اسلامی نظام کی منزل کی طرف عملی پیش رفت کیوں نہیں کر سکے؟ وقت آگیا ہے کہ اس سوال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور قوم کا ہر طبقہ گریبان میں جھانک کر اپنے رویے اور کردار میں اس ناکامی کی جڑیں تلاش کرے تاکہ ہم گزشتہ کوتاہیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی نظام کی منزل کی طرف پیش رفت کر سکیں۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مناسبت سے نفاذ اسلام کے قومی سفر میں ’’نظامِ تعلیم‘‘ کے کردار پر ایک نظر ڈال لی جائے کیونکہ قوموں کی ذہنی نشوونما، فکری ارتقا اور تہذیبی ترقی میں نظام تعلیم کا رول سب سے اہم اور بنیادی ہوتا ہے۔ اور اس نقطۂ نظر سے جب ہم اپنے نظام تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک بات نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کے لحاظ سے نفاذ اسلام کبھی ہمارے نظام تعلیم کے مقاصد میں شامل ہی نہیں رہا۔ اسلامی نظام کے نفاذ میں معاشرہ کے چار طبقات کا کردار سب سے اہم اور بنیادی ہوتا ہے: (۱) مقننہ (۲) عدلیہ (۳) انتظامیہ (۴) اور علمائے کرام۔ آج کے دور میں کسی معاشرہ میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی، قوانین کی تطبیق و تشریح، ان پر عملدرآمد اور ان معاملات میں علمی و فکری راہنمائی انہیں چار طبقات کا کام ہے۔ اور اگر ہم فی الواقع اسلامی اقدار وا حکام کو معاشرہ میں رائج کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ان طبقات کی تعلیم و تربیت، ذہن سازی اور کام کی نوعیت کے مطابق ان کی تیاری ناگزیر ہے، لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس سے قطعی مختلف رہی ہے۔

مقننہ میں جانے والے افراد کی ایک بڑی تعداد اور عدلیہ و انتظامیہ کے تمام افراد ہمارے ریاستی نظام تعلیم کے تربیت یافتہ ہیں جسے عصری نظام تعلیم سے موسوم کیا جاتا ہے، جبکہ علمائے کرام اس پرائیویٹ نظام تعلیم سے گزر کر آتے ہیں جسے دینی مدارس کا نظام تعلیم کہا جاتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہمارا قومی المیہ ہے کہ اب تک دونوں نظام ہائے تعلیم نے اپنے تیار کردہ افراد کی تعلیم و تربیت کو نفاذ اسلام کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کی اکثریت کو دین کی ضروری تعلیم سے آراستہ نہیں کیا جا سکا اور علمائے کرام کی اکثریت آج کے سسٹم اور نظام کو سمجھنے کی استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ طبقاتی بعد کے ساتھ ساتھ ذہنی منافرت اور فکری انتشار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس سب کچھ کی ذمہ داری ہمارے ان دو نظام ہائے تعلیم پر عائد ہوتی ہے۔ اور اس کا حل اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ تعلیمی نظاموں کے اہداف اور ترجیحات پر نظرثانی کے ساتھ ساتھ دینی و عصری تعلیم اور عملی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کو یکجا کر کے ایک نظام میں سمو دیا جائے۔

عصری علوم و فنون اور اسلامی تعلیمات کو یکجا کرنے کی سوچ نئی نہیں ہے اور علی گڑھ اور دیوبند کی طرح اس سوچ کی تاریخ بھی کم و بیش سوا صدی کو محیط ہے۔ ندوۃ العلماء لکھنو، جامعہ ملیہ دہلی اور جامعہ عباسیہ بہاولپور کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی اور اب بھی ملک کے مختلف حصوں میں یہ سوچ تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیکن اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں کہ ابھی تک اس سوچ کو قومی تحریک کی شکل نہیں دی جا سکی حالانکہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسے نظام تعلیم کی ہے جو نئی نسل کو آج کے ضروری علوم و فنون کی مہارت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات اور دینی و اخلاقی تربیت سے پوری طرح آراستہ کر سکے، کیونکہ نصف صدی کی تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ قومی زندگی کی گاڑی انہی دو پہیوں کے توازن کے ساتھ صحیح رخ پر آگے بڑھ سکتی ہے اور اگر ہم ان دونوں پہیوں کا باہمی توازن قائم نہ کر سکے تو قومی زندگی کو لڑکھڑاہٹ کی موجودہ کیفیت سے نکالنا ممکن نہیں ہوگا اور نہ ہی نفاذ اسلام کی منزل تک سفر جاری رکھا جا سکے گا۔

درجہ بندی: