مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ مارچ ۱۹۷۴ء
اصل عنوان: 
جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے امیر مولانا شمس الدین شہید کر دیے گئے

جمعرات ۱۴ مارچ کی صبح کو ملک بھر میں یہ خبر انتہائی غم کے ساتھ سنی گئی کہ گزشتہ روز کوئٹہ فورٹ سنڈیمن روڈ پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام عالم با عمل، عظیم سیاسی راہنما، بلوچستان جمعیۃ کے امیر، صوبائی متحدہ جمہوری محاذ کے نائب صدر اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حضرت مولانا سید محمد شمس الدین شہید کر دیے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس اندوہناک سانحہ نے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ مولانا سید شمس الدین جمعیۃ علماء اسلام کے مقتدر راہنما تھے، آپ نے گزشتہ چند سالوں کے دوران دین و ملت کی جو شاندار خدمات سرانجام دیں اس سے علماء حق، جمعیۃ علماء اسلام اور اکابرین جمعیۃ میں انہیں خاص مقام حاصل ہوگیا تھا۔ وہ اپنے افکار و اعمال اور گفتار و کردار سے ایک عہد آفرین شخصیت بن گئے تھے۔ انہوں نے حرص و لالچ اور جاہ و منصب کو پائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے اپنے دینی و سیاسی مسلک کی پختگی کو قائم رکھا اور سیاست کے نازک ترین لمحات میں بھی سپر نہ ڈالی۔ افراط و تفریط کے اس سیاسی سیلاب میں مولانا محمد شمس الدین اپنے عقیدے کی مضبوط چٹان پر، اپنے اکابر حضرت درخواستی مدظلہ، حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ اور حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ کے وفادار خادم کی حیثیت سے استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔ اور جیسا کہ اہل حق کے ساتھ ہوتا آیا ہے وہ اسی استقامت اور اسی عقیدے کے تحفظ اور دوام کی خاطر اپنی جان عزیز قربان کر گئے۔

موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی زندگی دینے والا ہے اور وہی لینے والا ہے۔ مولانا شمس الدین اپنے مالک حقیقی کے پاس چلے گئے لیکن حق و صداقت کی جو شمع انہوں نے روشن کی ان شاء اللہ تعالیٰ اس کی روشنی بڑھتی رہے گی۔ ان کی شہادت سے جہاں ملک و ملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے وہاں یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کے افکار و اعمال ہمیشہ زندہ و پائندہ رہیں گے اور اہل حق ان کی پیروی و تقلید کو باعث فخر سمجھیں گے۔ مولانا علیہ الرحمہ نے اسلافِ دیوبند کی روحوں کو اپنے طرز عمل اور پختگیٔ کردار سے خوش کر دیا تھا اور عقیدۂ تحفظ ختم نبوت کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا رکھی تھی۔ انہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں دین کی جتنی خدمت کی وہ یقیناً اللہ تعالیٰ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کا باعث تھی۔ انہوں نے سیاسی مسلک میں اپنے قائدین کے ساتھ انتہائی وفاداری کا ثبوت دیا اور حضرت درخواستی مدظلہ کے ہر حکم کی ہمیشہ تعمیل کی۔ حضرت موصوف کو مولانا شمس الدینؒ کے بارے میں ہمیشہ تشویش رہی اور وہ انہیں اپنی خاص دعاؤں میں یاد فرماتے رہتے تھے۔

’’ڈان‘‘ کراچی کی مصدقہ رپورٹ کے مطابق مولانا شمس الدین بدھ ۱۳ مارچ کو قریباً گیارہ بجے اپنی کار کے ذریعہ کوئٹہ سے فورٹ سنڈیمن روانہ ہوئے۔ مولانا راستہ میں مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ کے درمیان ایک کار کو حادثے کی حالت میں دیکھا، مولانا اس کار کے مجروحین کو اپنی کار میں قلعہ سیف اللہ ہسپتال میں لے گئے جہاں انہوں نے ان کو داخل کوایا۔ اور اس کے بعد قریباً ۳ بجے سہ پہر قلعہ سے فورٹ سنڈیمن روانہ ہوئے۔ ابھی انہوں نے قریبا ۲۵ میل کا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ کسی ظالم نے ان کو شہادت سے ہمکنار کر دیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مولانا کار خود چلا رہے تھے اور کوئی شخص کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا جس نے تین گولیاں اسلام کے اس بطل جلیل کے سر کے پار کر دیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سب سے پہلے مولانا کو اس حالت میں جناب گل محمد مندوخیل نے دیکھا جو اس سڑک سے گزر رہے تھے اور انہوں نے ہی اس المناک واقعہ کی خبر حکام تک پہنچائی۔

گزشتہ رات ٹیلیفون پر فورٹ سنڈیمن رابطہ قائم کیا گیا تو جمعیۃ کے صوبائی جنرل سیکرٹری محترم محمد زمان خان اچکزئی سینیٹر نے بتایا کہ اس حادثہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا سب کو اندازہ ہے۔ مولانا شمس الدین کے والد مولانا محمد زاہد اپنے عظیم بیٹے کی قربانی پر صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ سینیٹر اچکزئی نے بتایا کہ مولانا کی شہادت سے عوام میں بے اطمینانی ہے مگر وہ امن اور صبر کی تلقین کر رہے ہیں۔ اچکزئی صاحب نے بتایا کہ مولانا شمس الدین کو ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تمام مساجد میں مولانا مرحوم کے لیے قرآن خوانی کی جائے۔ سینیٹر اچکزئی کے مطابق مولانا شمس الدین کے والد نے فرمایا کہ وہ ایک شمس الدین تو کیا ہزار شمس الدین کو اسلام کی سربلندی کے لیے قربان کر سکتے ہیں۔

’’ڈان‘‘ کراچی کی رپورٹ کے مطابق مولانا شمس الدین کو جمعرات سہ پہر ان کے آبائی قبرستان فورٹ سنڈیمن میں سپرد خاک کر دیا گیا، جمعیۃ کے راہنما مولانا سید مبارک شاہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ جنازہ میں سینیٹر زمان خان، خان محمود خان اچکزئی اور دیگر دینی و سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

ایڈیٹر ’’ترجمان اسلام‘‘ نے جمعہ کے روز صبح فورٹ سنڈیمن فون پر رابطہ قائم کیا، مولانا شمس الدین شہیدؒ کے والد محترم حضرت مولانا محمد زاہد صاحب ا ور صوبائی جمعیۃ کے راہنما مولانا عبد الواحد صاحب آف کوئٹہ سے بات چیت کی، مولانا عبد الواحد نے بتایا کہ مولانا شہیدؒ کی شہادت ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایک محبوب ساتھی کو حق و صداقت کی سربلندی کی خاطر قبول فرما لیا ہے۔ قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب فورٹ سنڈیمن پہنچ چکے ہیں جہاں وہ جلسہ عام سے خطاب فرمائیں گے اور شہیدؒ کے خاندان سے تعزیت کریں گے۔

مولانا شمس الدین شہیدؒ کی شہادت کی خبر ملتے ہی پورے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ لاہور میں جمعیۃ کے مرکزی دفتر کا پرچم مولانا مرحوم کے سوگ میں میں سرنگوں کر دیا گیا۔ نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ میں حضرت مولانا عبید اللہ انور دامت برکاتہم کی زیر صدارت تعزیتی جلسہ عام منعقد ہوا جس میں مولانا عبد الرشید انصاری، شیخ عزیز الرحمان مدیر المحمود ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا محمد ابراہیم، طالب علم راہنما نذیر سیال اور میاں محمد عارف نے تقاریر کیں۔

مولانا عبید اللہ انور نے فرمایا کہ مولانا شہیدؒ اسلام اور پاکستان کی متاع عظیم تھے، وہ آخر دم تک اسلام اور پاکستان کے دشمنوں سے لڑتے رہے، ہمیشہ حق پر قائم رہے، انہوں نے عوام اور پارٹی کو نظر انداز کرنے اور اصولوں کے خلاف مصلحتوں سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جلسہ میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مولانا شمس الدینؒ کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ جلسہ کے اختتام پر قرآن کریم پڑھ کر مرحوم کو ایصال ثواب کیا گیا۔ لاہور کے دینی مدارس جامعہ اشرفیہ، جامعہ مدنیہ، مدرسہ قاسم العلوم، مدرسہ تجوید القرآن، مدرسہ قاسمیہ اور دیگر مدارس میں مرحوم کے سوگ میں تعطیل ہوئی اور طلباء نے مولانا شہیدؒ کو ایصال ثواب کے لیے متعدد قرآن کریم ختم کیے۔

گوجرانوالہ میں جمعرات کی صبح جماعتی احباب اور دینی حلقوں کے لیے غم و اندوہ کے طوفان کے ساتھ نمودار ہوئی۔ مولانا شمس الدینؒ نے اپنی تعلیم کا آخری سال گوجرانوالہ کے دینی مدرسہ نصرۃ العلوم میں گزارا تھا اور یہیں دورۂ حدیث کر کے سند فراغت حاصل کی تھی۔ مولانا شمس الدینؒ کی شہادت کی اچانک خبر نے شہیدؒ کے اساتذہ اور احباب و رفقاء کو غم و اندوہ کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق کر دیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان، حضرت مولانا عبد الحمید سواتی، مولانا عبد القیوم، راقم الحروف، علامہ محمد احمد اور مرحوم کے دیگر اساتذہ و احباب رنج و غم کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ شہاد ت کی خبر ملتے ہی مدرسہ نصرۃ العلوم، مدرسہ انوار العلوم اور دیگر دینی مدارس میں تعطیل کر دی گئی اور طلباء نے قرآن کریم پڑھ کر مرحوم کو ایصال ثواب کیا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں ایصال ثواب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے انتہائی گلوگیر لہجہ میں اپنے قابل فخر شاگرد کی دینی و ملی خدمات کا ذکر کیا اور زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں حضرت مولانا عبد القیوم صاحب امیر شہری جمعیۃ کی زیر صدارت احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے راقم الحروف، مولانا احمد سعید، جمعیۃ علماء پاکستان کے مولانا خالد حسن مجددی، جماعت اسلامی کے محمد صدیق ندیم، نیپ کے حافظ تقی الدین، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا ضیاء الدین آزاد، جمعیۃ طلباء اسلام کے حافظ گلزار احمد آزاد اور عطاء الرحمان اور متحدہ جمہوری محاذ کے علامہ محمد احمد لدھیانوی نے خطاب کیا۔ جلسہ میں ایک قرارداد کے ذریعہ اس المناک حادثہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت کے خلاف خوفناک سازش قرار دیا گیا۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔ آخر میں ایصال ثواب کیا گیا۔ نماز عشاء کے بعد جامع مسجد صدیقی رسول پور میں مولانا عبد السمیع کی زیر صدارت تعزیتی جلسہ منعقد ہوا جس میں مولانا احمد سعید، راقم الحروف، مولانا ضیاء الدین آزاد اور قاری احمد علی نے خطاب کیا۔ جلسہ کے اختتام پر مولانا شہیدؒ کو ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔

کوئٹہ کی متعدد مساجد اور مدارس میں مولانا شہیدؒ کو ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ طلباء اسلام کے کارکنوں نے اس حادثہ فاجعہ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا، پولیس کی رپورٹ کے مطابق جلوس اور پولیس کے تصادم کے بعد پولیس نے جلوس پر گولی چلا دی جس کے نتیجہ میں دو افراد شہید اور بہت سے زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد ۲۰ سے زیادہ افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جن میں اکثریت جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں کی ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، اس سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔

کراچی میں جامعہ مسجد نیو ٹاؤن سے مولانا شمس الدینؒ کی المناک شہادت اور بہیمانہ قتل کے خلاف نماز جمعہ کے بعد جمعیۃ علماء اسلام او رجمعیۃ طلباء اسلام کے زیر اہتمام جلوس نکالا گیا جو جامع مسجد جیکب لائن اور صدر سے ہوتا ہوا میکلوڈ روڈ پہنچا اور اخبارات کے دفتروں کے سامنے مظاہرہ کیا۔ قاری عبد الرزاق عزیز، مولانا محمد جمیل، مولانا شیر محمد اور دیگر رہنماؤں نے مختلف مقامات پر جلوس کے شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے مولانا شمس الدینؒ کے بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا شمس الدینؒ نے اسلام اور پاکستان کے لیے جان دی ہے۔