حکومت اور دینی مدارس کی کشمکش کا ایک جائزہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۱۹۹۶ء

’’دینی مدارس، انسانی حقوق اور مغربی لابیاں‘‘ کے عنوان سے ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم نے اس شمارے میں شامل کرنے کے لیے مضامین کے انتخاب میں اس ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف مغربی لابیوں اور میڈیا کی موجودہ مہم کے پس منظر اور مقاصد کو آشکارا کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے نصاب و نظام میں ناگزیر تبدیلیوں اور تعلیم کے جدید ذرائع اور مواقع سے دینی تعلیم کے لیے استفادہ کے امکانات کا جائزہ بھی قارئین کے سامنے آجائے، تاکہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے اور اس محاذ پر کام کرنے والے حضرات کو زیادہ وسیع تناظر میں اپنے موقف، طریق کار اور ترجیحات کے تعین کا موقع مل سکے۔

اس کے ساتھ ہی ان سطور میں اس کشمکش پر ایک نظر ڈال لینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو دینی مدارس کی حیثیت، اسناد اور ان کے مستقبل کے بارے میں حکومتی حلقوں اور مدارس کے درمیان موجود ہے۔ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے اس کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ ملک بھر کے پھیلے ہوئے ہزاروں دینی مدارس اگر سرکاری تحویل میں نہیں آتے تو کم از کم مالیاتی نگرانی اور امتحانات کے شعبوں میں ان پر ریاستی کنٹرول ضرور قائم ہو جائے۔ حکومتی حلقے اس کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے دینی تعلیم کے نظام میں یکسانیت پیدا ہوگی، فرقہ واریت کی شدت میں کمی آئے گی، مالی بدعنوانیوں کے الزامات سے مدرسین کے منتظمین محفوظ ہو جائیں گے، نصاب میں عصری علوم شامل ہونے سے علماء کی تعلیم کا معیار بہتر ہوگا اور امتحانات کا ایک معیاری نظام قائم ہو جائے گا۔جہاں تک ان مقاصد کا تعلق ہے ان کی افادیت سے کوئی باشعو رانکار نہیں کر سکتا لیکن حکومت کو اس مہم میں کامیابی اب تک حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی مستقبل قریب میں حاصل ہونے کا کوئی امکان نظر آتا ہے جس کے اسباب ہمارے نزدیک یہ ہیں:

  • دینی مدارس کے مالیاتی نظام کی بنیاد حکومتی ذرائع پر نہیں بلکہ معاشرہ کے اصحابِ خیر کے رضاکارانہ تعاون پر ہے۔ اور دینی مدارس کے آزادانہ نظام کی سوا سو سالہ جدوجہد کے نتیجہ میں یہ فضا بحمد اللہ ابھی تک موجود و مستحکم ہے کہ دینی تعلیم کے حوالہ سے عام آدمی کے اعتماد کا رشتہ دینی مکاتب و مدارس کے ساتھ قائم ہے۔ ہم نے ایک عوامی اجتماع میں اس موضوع پر گفتگو کے دوران اس صورتحال کی تعبیر یوں کی تھی کہ ’’مغربی لابیاں اور ذرائع ابلاغ دینی مدارس کی کردار کشی اور ان کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے جو چاہے کر لیں لیکن ہمارے معاشرے کے اس مزاج کو بدلنا ان کے بس میں نہیں ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والا شہری خواہ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پڑوس میں رہتا ہو، مسئلہ پوچھنے کے لیے کسی دینی مدرسہ کے مولوی سے ہی رجوع کرے گا، اور اگر وہ صدقے کا بکرا دینا چاہتا ہے تو اسے بھی کسی دینی مدرسہ یا مکتب تک پہنچا کر ہی مطمئن ہوگا۔‘‘

    جب تک یہ فضا موجود ہے دینی مدارس کے مالیاتی نظام کو کسی حکومتی سہارے کی ضرورت نہیں اور جب مدارس حکومتی سہاروں سے بے نیاز ہیں تو اپنے نظام میں حکومتی دخل اندازی کو قبول کرنے کے لیے کیسے تیار ہوں گے؟

  • گزشتہ نصف صدی کے دوران قائم ہونے والی کوئی حکومت دین اور دینی اقدار کے حوالہ سے عوام کا یہ اعتماد حاصل نہیں کر سکی کہ لوگ اپنے دینی معاملات کسی ذہنی تحفظ کے بغیر اس کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ بلکہ اس بارے میں بے اعتمادی کی فضا اس حد تک قائم ہے کہ کوئی حکومت کسی دینی معاملہ میں کوئی صحیح قدم اٹھاتی ہے تو اسے بھی عزائم اور مقاصد کے پس منظر میں بدنیتی اور سیاست کاری پر محمول کیا جاتاہے۔ اور یہ امر واقعہ ہے کہ اگر کوئی دینی مدرسہ، جماعت یا ادارہ حکومت کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو جتنا وہ حکومت کے قرب میں آگے بڑھتا ہے اسی تناسب سے دین دار عوام کے اعتماد سے محروم اور شکوک و شبہات کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں دینی عوامی حلقوں کا اعتماد قائم رکھنے کے لیے دینی مدارس یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ حکومت سے جس قدر دور رہیں بہتر ہے۔
  • دینی مدارس پر ریاستی کنٹرول کے بارے میں کچھ تلخ عملی تجربات بھی حکومتی عزائم کے راستے میں رکاوٹ ہیں اور ان تجربات کے بعد دینی تعلیم کے حوالہ سے حکومتی نظام پر کسی درجے کا اعتماد قائم ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ مثلاً بہاولپور کے جامعہ عباسیہ کو محکمہ تعلیم نے اسلامی یونیورسٹی قرار دے کر اپنی تحویل میں لے لیا اور اعلان کیا گیا کہ یہاں درس نظامی اور جدید تعلیم کا مشترکہ نظام پڑھایا جائے گا۔ کچھ عرصہ یہ نظام قائم رہا، حضرت علامہ شمس الحقؒ افغانی اور حضرت مولانا احمد سعید کاظمیؒ جیسے اکابر علماء کو وہاں لایا گیا لیکن رفتہ رفتہ دینی تعلیم یعنی درس نظامی کا عنصر نصاب سے خارج ہوتا چلا گیا اور اب وہاں وہی نصاب و نظام رائج ہے جو ملک کے باقی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہے۔ اسی طرح اوکاڑہ کے جامعہ عثمانیہ کو جو اپنے وقت میں ملک کے بڑے دینی مدارس میں شمار ہوتا تھا، محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لیا اور سرکاری نظام کے تحت اسے چلانے کا اعلان کیا گیا۔ لیکن اب وہاں صورتحال یہ ہے کہ مدرسہ کے کمرے محکمہ اوقاف نے مختلف فرموں اور کمپنیوں کو کرائے پر دے رکھے ہیں اور مدرسہ نامی کسی چیز کا وجود وہاں اس وقت نہیں ہے۔

ان واقعات سے دینی حلقوں کا یہ ذہن مزید پختہ ہوگیا ہے کہ دینی مدارس پر ریاستی کنٹرول سے حکمرانوں کا مقصد یہ ہے کہ یہ مدارس یا تو جامعہ عثمانیہ اوکاڑہ کی طرح بالکل ختم ہو جائیں اور اگر ختم نہیں ہوتے تو جامعہ عباسیہ بہاولپور کی طرح سرکاری تعلیمی نظام میں ضم ہو کر اسی کا حصہ بن جائیں۔ اس وجہ سے بھی دینی مدارس اور ان سے وابستہ دیندار عوامی حلقے مدارس پر ریاستی کنٹرول یا سرکاری محکموں سے کسی درجہ کے تعلق کا ’’رسک‘‘ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

حکومت پاکستان نے ایک دور میں دینی مدارس کی اسناد کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے دینی مدارس کی آخری سند (شہادۃ العالمیہ) کو ایم اے اسلامیات و عربی قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جسے ملک کی بعض یونیورسٹیوں نے تسلیم کیا اور اس کی بنیاد پر فضلائے درس نظامی کو ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ لیکن پنجاب یونیورسٹی اور محکمہ تعلیم کی نوکرشاہی نے اسے تسلیم نہ کیا اور اسے غیر مؤثر بنانے کی مسلسل تگ و دو ہوتی رہی۔ پنجاب یونیورسٹی نے اس سند کو تسلیم کرنے کے لیے پانچ سو نمبر کے بی اے کی شرط لگا دی لیکن یہ بھی محض رسمی کارروائی تھی کیونکہ خود ہم نے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں اس بنیاد پر فضلائے درس نظامی کو ۵۰۰ نمبر کا بی اے کا امتحان دلانے اور اس کے بعد ایم اے اور پی ایچ ڈی کرانے کا نظام بنایا جس کے تحت فضلاء کی دو کلاسوں نے بی اے کا امتحان دیا۔ پنجاب یونیورسٹی نے امتحان لیا، رزلٹ کارڈ جاری کیے لیکن ڈگری دینے سے انکار کر دیا جس سے شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کا درس نظامی کے فضلاء کو عصری تعلیمی نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے سارا منصوبہ فلاپ ہوگیا جبکہ اس کے بعد بھی دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں حکومتی پالیسی کے تذبذب کی وجہ سے ابھی تک کوئی متبادل پروگرام نہیں طے پا سکا۔

اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی کی پالیسی مکمل طور پر حوصلہ شکن چلی آ رہی ہے اور ہمارے ایک محترم دوست نے، جو ملک بھر کے انٹرمیڈیٹ بورڈ کے چیئرمینوں کی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری رہے ہیں اور ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، سرکاری کرسی پر بیٹھے ہوئے ہم سے صاف کہہ دیا تھا کہ ’’مولوی صاحب! دینی مدارس کی اسناد کی سرکاری حیثیت کی بات آپ بھول جائیں۔ یہ ضیاء الحق کا ڈنڈا تھا جس کی وجہ سے ہم خاموش ہوگئے تھے اور کچھ دیر بات چل گئی تھی۔ اب اگر آپ ڈگری کی بات کرتے ہیں تو آپ کو سرکاری نظام کے تحت پراپرچینل آنا ہوگا ورنہ ڈگری وگری کی بات ذہن سے نکال دیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ سرکاری کالجوں اور سکولوں میں ’’درس نظامی گروپ‘‘ کے نام سے وفاقی محکمۂ تعلیم کا وہ منصوبہ بھی شکوک و شبہات کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس کی تیاری میں محکمہ تعلیم کے ایسے افسران شامل ہیں جن کی دینداری اور دینی حمیت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ سرکاری کالجوں اور سکولوں میں ’’’درس نظامی گروپ‘‘ کے نام سے دینی تعلیم کا یہ پروگرام وفاقی وزارت تعلیم نے تیار کیا جسے انٹرمیڈیٹ بورڈوں کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر کے انٹرمیڈیٹ بورڈز کے چیئرمینوں نے منظور کر لیا اور میٹرک اور ایف اے کے درجہ تک نصاب کی تفصیلات طے کر کے اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کا نمبر (F-۱-۲/۹۳-IF-II) ہے اور ۲۷ ستمبر ۱۹۹۴ء کو وفاقی وزارت تعلیم کے اسسٹنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر جناب محمد حنیف کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے۔ اس کے مطابق میٹرک میں ۱۰۰ نمبر کی انگریزی، ۱۰۰ نمبر کی اردو، ۷۵ نمبر کا مطالعہ پاکستان، ۱۰۰ نمبر کی جنرل سائنس اور ۱۰۰ نمبر کی جنرل ریاضی کے ساتھ ۱۰۰ نمبر کا ترجمہ قرآن کریم (الفاتحہ تا النساء)، ۱۰۰ نمبر کی حدیث و سیرت، ۱۰۰ نمبر کی صرف و نحو (علم الصیغہ، شرح مائۃ عامل، ہدایہ النحو) اور ۷۵ نمبر کی فقہ (قدوری) شامل کر کے میٹرک کے ساڑھے آٹھ سو نمبر مکمل کیے گئے ہیں۔ جبکہ ایف اے میں نصاب کی تفصیل یوں ہے: انگلش ۱۰۰ نمبر، اردو ۱۰۰ نمبر، مطالعہ پاکستان ۵۰ نمبر، ترجمہ قرآن کریم (المائدہ تا الکہف) ۱۵۰ نمبر، حدیث اور اصول حدیث ۱۰۰ نمبر، فقہ ۱۰۰ نمبر، اصول فقہ ۱۰۰ نمبر، صرف و نحو ۱۰۰ نمبر، عربی ادب ۱۰۰ نمبر، منطق ۱۰۰ نمبر، تاریخ اسلام ۱۰۰ نمبر۔ اور اس طرح ایف اے کے گیارہ سو نمبر مکمل کیے گئے ہیں۔

اسی طرح ایک دائرہ میں وہ دینی مدارس شامل ہیں جنہوں نے درس نظامی کے ساتھ میٹرک، ایف اے اور بی اے کی ریگولر تعلیم اور امتحانات کو اپنے نظام میں شامل کر لیا ہے اور ’’نظامت تعلیمات اسلامیہ‘‘ کے نام سے ایک الگ وفاق قائم کر کے اس بنیاد پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس وفاق کا ہیڈکوارٹر جامعہ منطور الاسلامیہ عیدگاہ لاہور چھاؤنی میں قائم ہے۔ ان حضرات نے اس مقصد کے لیے درس نظامی کے مروجہ نصاب میں تخفیف کی ہے جو بعض اہل علم کے نزدیک محل نظر ہے لیکن بہرحال ایک تجرباتی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔ دوسرے حصہ میں وہ حضرات ہیں جو درس نظامی کے نصاب اور سکولوں کالجوں کے نصاب کو گڈمڈ کر دینے کے قائل نہیں ہیں اور سکول و کالج کے نصاب کو بنیاد بنا کر اس میں دینی تعلیم کو اس حد تک سمو دینا چاہتے ہیں کہ اس نصاب سے گزرنے والا طالب علم قرآن و حدیث سے استفادہ کی اہلیت حاصل کر سکے اور دین کے بارے میں ضروری معلومات رکھنے والا مسلمان ہو۔ اس کے ساتھ ہی وہ درس نظامی کے فضلاء کے لیے کسی ایسے نظام کے خواہشمند ہیں کہ ان میں سے ذہین اور باصلاحیت حضرات عصری تعلیم کے ضروری مراحل سے گزر کر قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں داخل ہوں تاکہ عدلیہ اور انتظامیہ میں دینی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور رجال کار کی کمی کا خلا کم سے کم کیا جا سکے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے قیام کا بنیادی ہدف یہی ہے جو ابھی تجربات کے مد و جزر سے گزر رہی ہے۔

ہمارے نزدیک پروفیسر محمد طاہر القادری، ڈاکٹر اسرار احمد، پیر محمد کرم شاہ الازہری، مولانا محمد اکرم اعوان اور ان جیسے دیگر ارباب فکر و دانش کے قائم کردہ مختلف تعلیمی نظام اسی تیسرے عنصر کے دائرے میں شامل ہیں اور ان کے علاوہ بھی ملک بھر میں عربک سکولوں، اکیڈمیوں اور اداروں کا ایک وسیع سلسلہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اور اگر ان سب کے درمیان مفاہمت و مشاورت کا کوئی نظام قائم ہو جائے تو قومی سطح پر ایک مستقل نظام تعلیم کا مضبوط نیٹ ورک سامنے آسکتا ہے۔

آخر میں ہم ایک اور عنصر کی نشاندہی بھی ضروری سمجھتے ہیں اور وہ دینی مدارس کے وہ فضلاء ہیں جو وفاق ہائے دینی مدارس کی اسناد کی نیم دلانہ سرکاری حیثیت کی بنیاد پر سرکاری سکولوں اور کالجوں میں گئے، وہاں مسائل کا شکار ہوئے، ماحول میں اپنے لیے اجنبیت محسوس کی، سرکاری اہل کاروں کے ہاں دوسرے درجے کے ملازمین قرار پائے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسوسی ایشنیں قائم کر لیں۔ یہ حضرات دینی مدارس کے فضلاء ہیں، دینی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور ہیں، ملازمت کے حوالہ سے دینی مقاصد اور مشنری جذبہ رکھتے ہیں لیکن مشکلات اور رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ مختلف شہروں میں ان کی تنظیمیں قائم ہیں، گزشتہ ماہ ڈیرہ غازی خان میں ایسے ہی دوستوں کی ایک تنظیم ’’رابطہ فضلائے اسلامی‘‘ کے کنونشن میں ہمیں بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس کے کنوینر مولانا محمد ادریس (پوسٹ بکس ۵۴ ڈیرہ غازی خان) ہیں اور فضلائے درس نظامی کو متحد و منظم کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ کنونشن میں ہم نے دینی مدارس کے بارے میں بہت سی گزارشات کیں جن کا ایک حصہ اس مضمون میں آگیا ہے۔ اور یہ بھی گزارش کی کہ اس رخ پر کام کرنے والے فضلاء کی تنظیموں کو باہمی مشاورت و رابطہ کے ساتھ ملکی سطح پر اپنا کوئی مشاورتی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اب پھر ان سطور میں ہم اس گزارش کو دہرا رہے ہیں کہ دینی مدارس کے فضلاء کی مختلف شہروں میں کام کرنے والی تنظیمیں قومی سطح پر اپنا کوئی نظام قائم کر سکیں تو یہ نہ صرف ان کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے مفید بات ہوگی بلکہ عمومی دینی جدوجہد میں بھی وہ ایک مؤثر اور فعال عنصر کے طور پر شریک ہو سکیں گے۔

یہ ہے ایک ہلکا سا نقشہ قومی زندگی میں دینی تعلیم کے سلسلہ میں مختلف سطحوں پر پائی جانے والی فکری و عملی کشمکش کا جس کا قارئین کے سامنے آنا ضروری تھا۔ اور ان معروضات کا اختتام ہم اس گزارش پر کر رہے ہیں کہ دینی تعلیم کے لیے کام کرنے والے حضرات جس رخ پر بھی کام کریں اور جو طریق کار بھی اپنائیں یہ ان کی صوابدید کی بات ہے لیکن باہمی رابطہ و مشاورت کی فضا ضرور قائم کریں، اس سے ان کے کام کی افادیت اور وزن دونوں میں اضافہ ہوگا اور وہ معاشرہ میں دینی تعلیم و تربیت کے فروغ کے مشترکہ مقصد میں زیادہ اعتماد اور دلجمعی کے ساتھ پیش رفت کر سکیں گے۔