اللہ تعالیٰ کا نام اور مسیحی ادارے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۰۸ء

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۱۰ جنوری ۲۰۰۸ ء کی اشاعت میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا کی مسیحی آبادی گاڈ (God) کے لیے انگریزی میں تو گاڈ کا لفظ استعمال کرتی ہے لیکن مقامی زبان میں لفظ ’’اللہ‘‘ استعمال کرتی ہے حتٰی کہ کیتھولک مسیحیوں کا ہفت روزہ ’’دی ہیرالڈ‘‘ بھی مقامی زبان کے ایڈیشن میں یہی کرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ملائیشیا کی حکومت نے لفظ ’’اللہ‘‘ کے استعمال پر اس خیال سے پا بندی لگا دی تھی کہ اس سے مسلمانوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور وہ غیر شعوری طور پر عیسائی عقائد قبول کر سکتے ہیں مگر تازہ خبر کے مطابق حکومت نے نئے سال کے اجازت نامے میں یہ پابندی ختم کر دی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ اگست میں یہ خبر آئی تھی کہ ہا لینڈ کے ایک بڑے کیتھولک پادری نے نہ صرف عیسائیوں کو بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گاڈ کی جگہ اللہ کا لفظ استعمال کیا کریں کیونکہ خالق و مالک کے لیے یہ بہترین اور بالکل صحیح نام ہے، اس سے بہتر کوئی اور نام نہیں ہو سکتا ۔ (بحوالہ سہ روزہ دعوت، دہلی ۔ ۲۵ اگست ۲۰۰۷ء)

خالق کائنات جل مجدہ کے نام کے طور پر لفظ ’’اللہ ‘‘ کا استعمال عام طور پر مسلمانوں میں ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذاتی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام اس کے علاوہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں ہیں مگر ہمارے صوفیاء کرامؒ خالق کائنات کے ذکر کے لیے سب سے زیادہ ’’اللہ‘‘ کے نام پر زور دیتے ہیں۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بعض مسیحی حلقوں کی طرف سے اس حقیقت کے اعتراف کو آج کے دور میں اسلام کی صداقت کی ایک دلیل قرار دیا جا سکتا ہے۔

درجہ بندی: